بنیادی صفحہ » آج کی دعا » تعمیرء انسانیت

تعمیرء انسانیت

تعمیرء انسانیت

سلام صبح حسرتوں کو امید کی تکمیل کی نہج پہ لانے کو آیا ہے سلامتی کا عندیہ سمیٹ لیں قبولیت تقدیر کی جلاء قرار پائے۔
سر زمین پاکستان پہ اتری وطن کی محبت سے سرشار تھی، مگر کیا دیکھا کہ ہر سو ایک حیرت انگیز محرومی اور مایوسی کا عالم تھا، سکون ناپید نظر آیا، خوف اور ہول کی، سانسوں کو مفلوج کرتی فضا اوراس پر سورج کی نہ جانے کس انتقامی تڑپ کا اظہار، کہ آگ اگل اگل کر بھی تسکین کی کوئی راحت نظر نہ آ پائے۔  ایک حیرت و بے بسی کا ہنگام چہار سو دیکھ کر تڑپتی پستی مخلوقء خدا، پاکستان کی وسیع سرحدوں میں محصور ہر درندگی کو اپنانے پہ معمور نظر ائی۔
انسانیت کا نام ان وجودوں میں کہیں بہت اندر تک نہ دیکھ پائی۔ کثافت و غلاظت نے ہر سو نحوست و ابلیسیت کا گھناؤنا قبضہ کر کے ایک کثیرتعداد
کو زندگی کے ہر شعور سے بے نیاز کر ڈالا تھا۔
احساس جو سرمایہء انسانیت ہے اس سے وجود بالکل خالی نظر ائے، انسانی صفات کاملہ، درندگی و حیوانیت میں بدل چکے تھے۔ اب وہاں کےنوجوان ہر پستی اور برائی کو اپنا دینی اور معاشرتی کلچر سمجھ کر اپنا چکے ہیں۔
شعورء، دین سے بے خبر نئی نسل ان دوسرئے متمدن معاشروں کو جو حلقہ اسلام سے باہر ہیں، اسودہ زندگی گزارتے دیکھ کر اپنے اطراف کی سانسوں کو جکڑتی اور رسمی دین داری سے صفر نتیجے کی وجہ سےمنحرف ہوتے چلےجاتے ہیں۔ مذہب کہیں نہیں مگر مذہب کا ڈھونگ چہار سو اپنا نقارہ پیٹ پیٹ کر جھوٹی اور ناپید تسکین کا ہنگام کھڑا کیئے ہے، لیکن کوئی ایسا دیں دار سکالر نہیں اٹھتا جو کہ ملت مسلمہ کو بچانے کا تدارک کرئے۔ کیونکہ مذہب کا ہر دعویدار خود مقصد و ادراک دیں سے بے بہرہ ہے۔
ایک دو حقیقتوں کی ترویج کرنے والے دیں کی بصیرت سے اگاہی دینے والے (جاوید غامدی صاحب) جیسے لوگ کیوں مجاز نہیں کہ دیں کا لائحہ عمل مرتب کریں اور قوم کو جہالت سے نکال کر اصل دین کی بہرہ وری اور اس سے قوم کی تربیت و ترقی کا طریق مہیا کر سکیں۔
یقینا” یہ اس لیئے کیونکہ دیں کی صورت مسخ کرنے والے مقصد مذہب سے بے خبر اپنی ہوس زر اور آتش شکم کی نہ بجھنے والی اگ کو ظاہرا” بجھانے کے لیئے سجائی گئی دکان چمکانے میں اسقدر پستی میں جا کھڑئے ہوئے ہیں کہ کسی کو بھی نجات کی راہ پر چلنےکی صورت مہیا نہیں ہونے دیں گے۔
سچائی کی ترویج کے خلاف یہ خواب غفلت میں غرق سوئے ہوئے وجود، مقصد سے بے نیاز نام نہاد مذہبی مگر جاہل لوگ ہنگامے دھرنے اور فتوے رواں کرنے میں پیش پیش ہو کر پورئے ملک اور نظام کو مفلوج کر ڈالیں گے۔ جو دراصل حرام ہے۔
نظامء رواں اور ترویج حق کے خلاف اٹھنے والا ہر قدم مخالف دیں ہے۔
مقصد دیں اس زندگی کو تحقیق و تفتیش سے دریافت کر کے نئی نئی ایجادیں کرتے ہوئے ترقی پر گامزن کرنا اور عمل و تحقیق سے کمال منزل تک پہنچانا ہے۔ مگر یہ مقرر کیئے گئے مذہبی راہبروں کے لبادئے میں لپٹے اسلام کی تباہی کے سبب، اسلام کو کمال تک پہنچانے کی بجائے دس قدم پیچھے کھڑے ہونا عین دیں محمدی اور نجات آبدی سمجھ رہے ہیں۔

آئے اللہ رحم کر اس قوم پر اور انہیں شعور عطا فرما کہ یہ اسلام کے 2 بنیادی احکام پر عمل کرتے ہوئے ایمان کی جانب خود بھی آ سکیں اور قوم کو بھی یہ راہ نجات دکھا سکیں۔
علم اور صفائی و پاکیزگی ابتدائی احکام اسلام میں شامل ہے۔ اگر اطراف میں صفائی و پاکیزگی نہیں تو آدھا ایمان سلب اور گندگی کی تباہی سے پورئے فزیکل وجود کی آتشی بھٹی میں سوج و فکر اور نام نہاد اعمال کے ٹکراؤ یعنی ارتعاش کی کرچیاں زندگی کو لہو لہان کیئے دئے رہی ہیں۔
آدھا ایمان تو اپنی ذات، گھر، محلہ، شہر اور ملک کی گندگی نے سلب کر لیا اور باقی کا ایمان،جھوٹ، بے ایمانی، دھوکہ دہی اور انسانیت سوز اعمال نے جڑ سے مٹا ڈالا۔ اب کہاں ہے اسلام اور کہاں ہے مسلمان؟
اشیائے خوردو نوش میں زہریلی ملاوٹ مخلوق خدا کو تڑپا تڑپا کر مارنے کے مہلک ذرائع میں بدل چکی ہے۔ پورا ملک تباہی اور زہریلی زندگی سے موت کے خطروں میں گھرا ہے مگر کوئی بھی اس حکم خدا کےخلاف اٹھتے ان اقدامات اور اس خدا سے نافرمانی کے علی الاعلان جنگ کا میدان گرم کرنے سے باز نہ آنے والوں کو روکتا نظر نہیں آ رہا، کوئی بھی اس گھناؤنے عمل کےاختتام کا باعث بننے کی سعادت حاصل نہیں کرنا چاہتا، اور تبھی آواز قدرت نے جھنجھوڑا، کہ سن رباب، میں اللہ نے کبھی اس قوم کی حالت نہیں بدلی جو خود اپنی حالت بدلنے کا شعور نہیںرکھتی۔ اور پھر میں وہ پر ہول عالم چھوڑ کر ہوائی سفر کرتی ایک صاف شفاف اور مہذب قوم کے ملک میں اتر ائی جہاں مسلمانوں کی تعداد میں کمی اور سکھ سکون و ایمان کی نورانی فضا پائی جس نے ذات کی گہرائی میں سے شناخت ذات سے شناخت خالق کی تربیت کا ہر در کھول۔ دیا۔ راحت کی جنت میں رواں ہو کر گم گشتہء راہ و منزل عوام کا خیال دل کو تڑپا گیا تو سوچا کہ اس جہاد قلم سے کچھ ایسی کاوش کہ جائے جس سے شائید یہ قوم اپنی اصلاح کر کے ابدی جہنم سے نجات پاسکئے۔
دعائے رباب آپکی زندگیوں کا نایاب ادراک حاصل کر سکنے کی توفیق الہی کا باعث بن سکے۔
الہی آمین
روحانی سکالر عارفہ شاعرہ
مصنفہ کالم نگار
طاہرہ رباب الیاس ہیمبرگ جرمنی

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

عالم استعجاب

عالم استعجاب سلام صبح سورج کی کرنوں سے نور سحر کی جلاء باری چراتے آج ...