بنیادی صفحہ » آج کی دعا » حکمت خالقء غائب و حاضر

حکمت خالقء غائب و حاضر

حکمت خالقء غائب و حاضر

سلام صبح تاکید و تنبیہ کا عطیہء نایاب لیئے حاضر ہے قبول فرمائیئے۔

ہر آنگن میں ایک کہانی مرتب کیئے جن مقیم باسیوں سے اخلاق و ضابطہء حیات اور قرب کی تمنا خالقء ہست و بود رکھ کر ہدایت کا طرز زندگی ہمیں عطا فرما کر پھر ابدی حیات کا عندیہ دیتا ہے، وہی خالق کتنی ہی مخلوق کو بنا کسی حصار کے آزاد و بے فکر زندگی کا چلن سکھاتا اور روانئی زندگی عطا فرماتاہے۔ ہر مخلوق اپنی آپنی فطرت پہ رواں ہے اور خالق کے حکم کی بنا کسی تاکید و تنبیہ کے تعمیل پر مامور ہے۔
صاحب عقل و فہم اور علم و عرفان اپنے رب کی ہر صفت کے اظہار کو جان اور پہچان کر قدر و قیمتء اظہار الہی کی ستائش اپنی بندگی سمجھتا ہے اور اپنے سفر کو پاکیزگی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ اور ان کمالات حیات کے اصل خالق سے بے اعتنائی برتنے والے ہمیشہ کسی نہ کسی صفت کے اظہار کی سر زنش میں ملوث رہ کر خود اپنی زندگی اور دوسروں کی زندگیوں کو اذیت کے راستے پہ ڈال کر بدگماں و پریشاں بھٹکتے پھرتے ہیں۔
کتاب لاریب کا خالق ہمیں راز ہائے موت و حیات سے بہرہ وری عطا کرتے اور مقاصد حیات اور عمل صالح کی آگاہی دیتے دیتے کتاب جو محیط از عالمین اور راز ہائے ازل و ابد سمیٹے ہے، اسے اختتام کے جاوداں میں سمیٹ لیتا ہے۔
حقیقت حق و منشائے الہی کی اطاعت میں نفس کی سرکشی کو لگام، اور اطاعت ربی سے اسے مسخر فرمائیں۔۔۔
کائنات و یونیورس کے راز پس حجاب بہ زور خود روبرو ہو جائیں گے۔
مذہب کی آڑ لےکر نفس کی تسکین۔کرنا دین نہیں تضاد دین ہے۔ دین فکر وعمل کا نام ہے۔ ورنہ مذہب کا کمبل اوڑھے ہوئے ہونے کا دعوی ہر کس کو ہے۔ زمانہ رسالت میں بھی بہت خود کو سچے اور مذہبی ہونے کے داعی تھے مگر خالق نے پورا سورہ منافقون اتار کر الفاظ و عمل کا فرق سمجھا دیا۔
اگر محض دعوی مذہبی ہونا ہی کافی ہوتا اور فکر و مقصد ہدایت دین اہمیت نہ رکھتا تو معززین دین میں تفرقات نہ ہوتے۔ تاریخ میں صلح حسن ع جمل و صفین کے باب نہ ملتے اور پھر کبھی کربلا نہ بپا ہوتی۔
لہذا محض مذہبی ہونے کے دعوی کی بجائے محقق، مدبر و مفکر بن کر وجدان مذہب سے منزلء مقصدء خلقت کو پائیں تاکہ ابھی سے نفس مطمئنہ نصیب ہو جائے۔ یہی تعلیم شہنشاہ کربلا ہے۔
رب زوالجلال ہر دن کی اہمیت اور انرجیوں کی روانی کے حساب و مقام سے آگاہی ہمارئے نصیب کی ابدیت قرار فرمائے

دعائے رباب عرش بریں تک رسائی کے صدقے راحت مسلسل کا ذریعہ کامل قرار پائے۔

الہی آمین

روحانی سکالر، عارفہ شاعرہ
مصنفہ و کالم نگار
طاہرہ رباب الیاس
ہیمبرگ جرمنی

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

منزل فکر و نجات

منزل فکر و نجات سلام صبح زنجیرء وقت کو قطع کرتا زندگی کی کہانی میں ...