بنیادی صفحہ » آج کی دعا » قصاصء ارضی و عرشی۔۔

قصاصء ارضی و عرشی۔۔

قصاصء ارضی و عرشی۔۔

سلام کی ہمراہی میں طلوع صبح، خیر کا عندیہء راحت و خبرء مثبت ہے، قبول ہو

آسمان کی بلندیوں سے زمین کی تہہ دار گہرائیوں میں اترنے والے عالم غائب کے قصئے اولاد آدم کی استحکام و نجات کا باعث ہوا کرتے ہیں۔
انہی سے حقیقت کو جان کر آج کی ترتیب اورآئندہ کی تکمیل صاحبان عقل و فکر کے لیئے تمام کی جاتی ہے ۔
انسان کی وجودی حقیقت خصوصا” دو مرکبات سے تشکیل پائی ہے ایک مٹی کا پتلا اور دوسرا روح کی متحرک حدت۔
مٹی خاموش اور بے اثر اور روح، گرمی اور متحرک روانی کا وجوب جو باعث حیاتء تجرباتی ہے، مٹی کی حرکت و وجود کا اصل سبب ۔۔۔
اس ترتیب کو نہیں سمجھ سکتے تو وہ جو رسموں کے حصار میں مقید ہیں۔
بس اسی سے نکل کر کائناتء بیکراں میں بکھر جانا ہے اصل سے اصل کی پہچان کرتے ہوئے اپنی منزل کو پانا ہے اور نجات ابدی کا حامل ہونا ہے تاکہ بار بار پھر اپنے نامکمل تجربے کی تکمیل کو پلٹ کرنہ آنا پڑئے۔
زندگی کی بھاگ دوڑ میں سلسلہء روزمرہ تو جاری و ساری رہتا ہے مگر فکر و تدبر کا عملی جامہ پہنے کوئی حقیقی عمل نظر نہیں آتا۔
بھول چکے ہیں ہم، کہ ہمیں انسانیت کی تکمیل کرتے ہوئےمٹی کے بدن کو روح کی قوت سے مستحکم بنانا اور یہی سب کو دکھانا سمجھانااور عمل درآمد کروانآ ہے
ترتیب و تصنیف عالم کو بہرہ وری سے انجام تک پہنچانا ہی مقصد و تکمیلء حیات جاودانی اور نجاتء روح ابدی ہے۔
دنیا مکان میں اترکر لامکاں سے بے نیاز ہو چکی ہے مگر ابھی چند اروح کی بیدار اور عملی سعی کی شعوری جدو جہد باقی ہےاور عملدرآمد میں مگن ہے جسکے سبب استحکام ارضی کی صورت موجود ہے۔
خدائے بزرگ و بر تر ہمیں شعور ابدیت سے نوازئے تا کہ لطف زندگی قائم و دائم رہے۔
دعائے رباب منزل استجاب و قبول تک رسائی کی حامل رہے
الہی آمین

روحانی سکالر عارفہ شاعرہ مصنفہ و کالم نگار
طاہرہ رباب الیاس ہیمبرگ جرمنی

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

تعمیرء انسانیت

تعمیرء انسانیت سلام صبح حسرتوں کو امید کی تکمیل کی نہج پہ لانے کو آیا ...