بنیادی صفحہ » آج کی دعا » مسلمان اور توفیق الہی

مسلمان اور توفیق الہی

مسلمان اور توفیق الہی

سلام صبح آفاق کی ہر حیرت و استجاب میں گندھی حقیقت سے بہرہ ور کرتا حاضر ہوا ہے قبول رہے۔
نہ جانے کیا تھا میرا رب سے رشتہ کہ بے نیاز و بے خوف اس دنیائے مادیت سے بغاوت کرتی اپنے سفر میں تنہا منزل شناسا کی سمت چلنے کے بجائے دوڑنے لگی۔
سوال تھا کہ تو، تو ایک قدم آنے والوں کو دس قدم بڑھ کر خود میں سمیٹ لیتا ہے تو پھر مجھ سے یہ غفلت و بےخبری کیسی کہ ساری دنیا ہدف بناتی رہی اور تو دیکھتا رہا
تبھی اس نے اپنی صداقت کو صدق کا پیراہن عطا کیا اور طہارت کی تفسیر سے کتاب مکنون کے پوشیدہ رازوں کو کھول کر حقیقتوں کے آئینے چہار سو آویزاں فرما دئیے۔ تب سب کچھ روز روشن کی مانند بر سر نگاہ تھا۔ نفس کی اصل اور ذات و روح کے فلسفے۔ زمانے کی مختلف ہرزہ سرائی جو سب سے زیادہ مددگار راہ حق بہ منزل کمال بنی۔
دنیا کمال و ترقی، تحقیق و دریافت کے باب وا کرتی،اصل کی حقیقتوں کو کھولتی چاند ستاروں پہ کمندیں ڈالنے میں مصروف۔۔۔ اور مسلمان، خصوصا” پاکستان میں مسلمان گندگی غلاظت اور بد عملی کی مثالیں قائم کرنے میں چیمپئین بن کر دنیا میں سامنےآ گئے۔
مجھے پاکستان آ کر نہایت افسوس ہوا جب امت مسلمہ کو غلاظت کو گناہ نہ سمجھ کر اسے چہار سو پھیلاتے اور بے نیاز اس میں جیتے دیکھا۔ النظافت نصف الایمان کا اطلاق کہیں دیکھنے کو نہ ملا۔ یعنی ادھا ایمان سرعام روندا ہوا دیکھا، مگر کوئی تاسف کہیں بھی اس زیان ایمان کا نہ پا سکی۔
اور پھر جھوٹ غلط بیانی دھوکہ دہی۔ گندی گندی گفتگو گالی گلوچ جو کہ اسلام میں ممنون ہے سر عام بغیر کسی جھجک اور شرمندگی کے ہر کوئی کرتا پھرتا اور اس پر خود کو وقت کا لقمان حکیم سمجھتے ہوئے پھرتا نظر اتا ہے
کہاں ہے ایمان؟ مسجد فیصل دیکھنے کا اتفاق ہوا تو دل خون رو دیا۔ اتنی خوبصورت بنائی گئی مسجد کو پاکستانی مسلمانوں نے غلاظت کا گھربنا رکھا تھا۔
کچھ قدم ہی چلے تھے کہ جوتیاں اتارنے کا حکم ملا مگر آگے حد نگاہ تک گندگی ہی گندگی تھی۔ میں نے پوچھا کہ بنا جوتے کے آگے کیسے جائیں گے جبکہ جوتا زیادہ صاف تھا مگر مسجد کا آگے کا راستہ بہت زیادہ گندہ۔۔۔۔
نماز کے ہال بڑیے بڑیے سیاہ شیشوں کے دروازوں سے سجائے گئے تھے۔ آج یہ دروازے بند تھے اندر جانا ممکن نہ تھا مگر شیشے اسقدر گندئے کہ طبعیت اللہ کا یہ گھردیکھ کر بوجھل ہو گئی، نماز پڑھنے کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔
اس سعودی بادشاہ کی روح تڑپ جاتی اگر وہ آج اپنی اس عظیم الشان تعمیر کی گئی مسجدکو اس غیر حالت میں دیکھ لیتےتو اپنی ہی ذات میں اپنی اس تزہیک پرمجروح ہو جاتے۔
ہم پاکستانی کہاں کھڑے ہیں؟ ایمان سے بالکل خالی ہیں اور طلب و یقین ہے کہ شجر طوبی کے موتی چننے والی حوریں ہم غلاظت کے پیکر بنے مغرور وجودوں کے انتظار میں تڑپ رہی ہیں۔
اس ملک کی صفائی اور انسانوں کی ذہنی تربیت اور سوچ و فکر کی صفائی سب سے اہم قدم ہے جسے تمام امت مسلمہ کو ہر دوسرئے کو سکھانا اور پابند کرنا ہے۔
جتنی تاکید نماز و روزہ کی ہو رہی ہے وہ سب بیکار ہے اگر پہلے صفائی جو پاکیزگی ہے اسے اختیار نہ کیا گیا۔
سب سے پہلےاس ملک کے ملاں اور مولویوں اور باقی دین کے ٹھیکیداروں کو صفائی و پاکیزگی کے درس اور آداب سکھائے جائیں بدن لباس اور مقام کا پاک ہونا اور طاہر لباس کے ساتھ ساتھ خوشبو کا ہونا لازم ہے، کہ خالق فرماتا ہے کہ، 2 رکعت نماز کا آجر و ثواب 2 رکعت کا ہی ہوگا،مگرخوشبو لگا کر پڑھو گے تو 70 رکعت کا ثواب دوں گا۔
تو کیا اب ہم نے اس اتنے بڑیے انعام کو رد کر کے اپنا بہت بڑا خسارہ نہیں کرلیا؟ اور ہمیں کچھ بھی ندامت کا احساس نہیں!!!!
جاگو امت خوابیدہ کے سپوتو، مت شرمندہ کرو اپنے ہادی کو اللہ کے حبیب ص کوجس کی ہم امت کہلاتے ہیں ۔
آپ سے ہی باہر کی دنیا میں آپ کا نبی ص جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ آئے اللہ کے حبیب ص، بہت شرمندہ ہوں اس امت کی اس بے حسی اور دیں کی پامالی کرنے کی وجہ سے۔ مجھے معاف فرمانا میرئےخدا۔
میں حتی الواسع کوشاں ہوں تیرئے پیغام کو دہراتےہوئے عام کرنے کے لیئے، مگر تیرا فرمان یاد آتا ہےکہ ” ائے میرئے حبیب تمھارا کام صرف پہنچانا ہے، عمل کروانا تو میری توفیق کے بغیر ممکن نہیں”۔
تو دعا کرتی ہوں کہ ائےاللہ اپنی توفیق اس میرئے وطن کے لوگوں کو عطا فرما۔ تاکہ یہ ان غیر مسلموں کی مانند صاف ستھرے، سچے، قول و فعل کے پابند، دوسروں کے اعمال سے بے نیاز اپنی ذات کی اصلاح اور انسانیت کی عزت و قدر کرنے والے بن جائیں۔
یقین کیجیئے کہ سو سو قرآن ختم کرنا شب بھر تسبیح و تحلیل رات بھر نمازیں روزئے کچھ بھی پاکیزگی اور طہارت کے بغیر قبول نہیں، شرط اول پاکیزگی ہے اور دھول اور مٹی کا پڑ جانا ہی میلا کرتا ہے اور میل ہی ناپاکی ہے یہ لوجک یعنی دلیل ہے، کیونکہ ان اعمال سے سیاہ انرجی کٹتی اور مثبت انرجی تقویت پاتی ہے اور آپکی روح مثبت عبادات کی انرجی سےطاقت ور بنتی ہے اور اپنا سفر صاحب اختیار بن کر طے کرتی ہے۔
لیکن وہ عبادت جو پاکیزگی کے بغیر اور غلاظت کے ساتھ کی جائے نظام اور انرجی وائبریشن میں ارتعاش پیدا کرتی ہے ہر سو آگ پھوٹتی ہے
اپنی انرجی اور روح کی برقی قوت کو غلاظت سے یوں ہی بچائیں جیسے اپنے موبائیل یا کسی الیکٹرک سامان کو پانی سے بچاتےہیں ورنہ وہی تباہ حال ہو جائے گا جو گیلے ہوجانے پر کسی بھی الیکٹرک سامان کا ہو جاتا ہے۔
بچاو اپنی روح اوربدن کو گندگی اور غلاظت کی تباہی سے اور پھر عبادات کی برقی یعنی نورانی روانی اور قوت سے جو غلاظت سے دھماکہ خیز مواد بن کر سب برباد کیئے دئے رہی ہے۔ اللہ کی مشینری اس کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں۔ تب دعا بھی قبول ہوگی عبادات بھی اثر دکھائیں گی اور زندگی بھی پر سکون ، نحوست و نجاست سے پاک ہو گی۔
کالی قوتیں گندگی میں گھر کرتی ہیں۔ آپکی اذیتیں نحوست کے صفائی کی وجہ سے نکلتے ہی آدھی ختم ہو جائیں گی۔ عمل شرط ہے۔
صرف دعوی مسلمانی نہیں عمل مسلمانی انہیں عطا فرما۔
دعائے رباب توفیق کی دولت سے مالا مال کروانے کو سبب کامل قرار پائے۔
الہی آمین

روحانی سکالر عارفہ و شاعرہ
مصنفہ و کالم نگار طاہرہ رباب الیاس ہیمبرگ جرمنی

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

نیکی کی سرخروئی

نیکی کی سرخروئی سلام صبح اقرار دعائے سلامتی لیئے حاضر ہے قبولیت سے کمال کی ...