بنیادی صفحہ » آج کی دعا » نعمات الہی حلال یا حرام

نعمات الہی حلال یا حرام

نعمات الہی حلال یا حرام

سلام صبح اپنی تمام رعنائیوں کے جلو میں اترا ہے، جو حیات قلب اور راحتء زندگی کا باعث بنا ہے، قبول رہے۔
دو روز قبل ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں لوگوں کو راہ دکھانے والے بے خبر سے کسی نام نہاد راہبر نے لوگوں کو سالگرہ منانے سے منع کرتے ہوئے پروگرام کسی اپنے قریبی کی سالگرہ کا ہی سجا رکھا تھا۔ وہیں کسی کے پوچھنے پر کہ سالگرہ منانی چاہیئے یا نہیں؟
انہوں نے بلا، سالگرہ کے منانے کی ممانعت کا کوئی معقول جواز جانے اسکے منانے یا نہ منانے کے شعور سے بے خبر رہتے ہوئے فورا” کہہ دیا کہ نہیں منانی چاہیئے۔
ایسے ہی کم علمی اور فکر کی تنگدستی کے باعث بغیر کسی وضاحت کے لطفء حیات سے محروم رکھنے والے لوگ دراصل عظمت کبریا کے بر عکس فیصلے دئے کر خود اپنی کمائی میں زہر کھولتے ہیں۔ اسی لیئے علم کی کمی تحقیق کا فقدان خود ان کے لیئے تباہئ انجام کا سبب بنتا ہے
جس نے حضرت انسان کی زندگی کی راحت کو ختم کر رکھا ہے۔
زندگی خالق کی بہترین عطا کا نام ہے جسے اس نے خود حضرت انسان کی راحت و سکون کے لیئے خلق فرما دیا
اور فرما دیا کہ، یاد رہےکہ میں نے یہ دنیا تمھارئے لیئے بنائی ہے اس میں رہو کھاو پیو عیش کرو ۔ خدا کو اپنی مخلوق بہت پیاری ہے اسی لیئے اسکی راحت، خوشی اور سکون کے لیئے ہر دور کے مطابق اسے حسن و لطف زندگی سے نواذ دیا۔
جب ہم خوشیوں کے مواقع سے بے بہرہ تھے تب ہمارئے مالک نے ہمیں مختلف توجہیات کے زمرے میں عید یں منانے خوشیاں بانٹنے کا حکم عطا فرمایا۔
اللہ نے اپنی مخلوق کو خوش ہونے اور تقریبات منعقد کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
جب کائناتوں کے مالک نے ان کائناتوں میں بسنے والوں کو کن فیکوں سے عالم وجود میں لا کر انہیں پابند کر ڈالا کہ وہ اسکی پہچان کا عمل انجام تلک پہنچائیں لذت و انتظارء انجام میں ترش و شیریں سے تضاد کی آشنائی پائیں اور یہ ذائقہ فرش و شیریں جان کر مجھ میں واپس پلٹ آئیں۔
اس خالق کل کےکن فیکون کہتے ہی جلوئےظہور پذیر ہو گئے صفاتء یزدانی سے ہر سو عالم معطر ہو گیا، چہار سو انوار عالی سے وجودی اظہار کاجلترنگ بکھر گیا، مخلوقات کی گہما گہمی اور تجسس وحیرت اور باہم تسکین کا تضاد یکجا ہوا۔ ہوش ربا چلنءحیات بر سر عام ہوئے خالق اپنی کمال و لامنتہا قدرت کو خود ہی روبرو دیکھنےاور ان کی عملی روانی سے مسرور ہوتے ہوئے ہم سے جزا و سزا کا ادراک طلب کرنے لگا۔
وسعتء کونین، سوچ و فکرء مخلوق سےبالا تھی اسے سمجھنے اور جاننے کی جدوجہد میں اتار کرخود اپنی صفتء صبر و سکون سے مشاہدہ کرنے لگا، انسان کو خود چلنے دینا اس کا عملء خالق کل قرار پایا۔
ہر ذی روح کو اپنے تجربہء مخصوص کے لیئے معین وقت پر اتارا، بیٹوں کی صورت میں انعام و نعمت اور بیٹی کی صورت کو رحمت و برکت کا نام دیا۔
کیا نزول و اظہارء نعمت و رحمت پہ خوشیاں اور مسرتیں منانا ممنوع قرار دیا گیا؟ ہر گز نہیں۔۔۔۔ اسکے عنایات اور کرم پہ فطرت و اطراف کے ماحول کے تحت خوشی منانا جبلت انسانی میں سجایا گیا۔
یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کی ذات میں وجود و قرب الہی کی دلیل ثابت ہوتا ہے۔ دنیا آج بھی اپنے اپنے راہبر و ہادی کی دنیا میں آمد پہ خوشی کا اظہار اور محو رقص نظر آتی ہے۔ کسی بھی انمول اور جدید صنف و تخلیق کا پانا باعث مسرت ہوا کرتا ہے، لہذا انسان ہی نہیں جانور بھی احساس طرب میں والہانہ اظہار کیا کرتے ہیں کیونکہ یہ بنانے والے نے ہر ذی روح کی جبلت میں رکھا ہے، مگر اسلام والے اس جذبہء راحت و شکر کو دبا کر خود کو مقرب خدا سمجھتے اور لوگوں کو باور کروانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ حالانکہ مقرب خدا اپنے خدا کی عنایات کا خوشی و راحت کے جذبے سے سر شار ہو کر سجدوں میں شکر بجا لاتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔ ہر انسان اپنے اپنے عطا کردہ طور و طریقے سے اظہارء تسکین وخوشی کو پیش کرتا ہے۔
ملکء شام کے کاروباری دورئے سے آتے ہوئے ایک راہب نے رسالت پناہ کو پالنے والے ان کےچچا حضرت ابوطالب کو ایک پیکر نور کا ہاتھ پکڑے دیکھا، پھر ان کی پیشانی پہ نظر کی تو وہاں سے ایک نور ساطع ہوتے ہوئے دیکھا تو بولا کہ ائے خالق کی بہترین مخلوق، تو کیسے عظیم و ماورائےعقل و تسلیم انوار کو سنبھالے رواں دواں ہے کہ جس سے میری عقل حیرت سے چور چور ہو گئی ہے۔
آئے خدا کی بہترین مخلوق تیرئے ماتھے کے نور کا جب وجودی ظہور اور تولد قریب ہوگا تو اس روز آخر شب تجھے کعبے کی جانب ایک نور عرش تا فرش ساطع نظر آئے گا تب سمجھ جانا کہ تمہاری پیشانی والے نور کا عالم انوار، سے ظہور مثل مولود ہوگا اور یہ نبی یا اسکا وصی ہو گا، وہ خاص مقرب یزدانی ہو گا وہ صفات خدا کا حیرت انگیز مرقع ہو گا۔ ۔۔۔
اور تب 13 رجب کو جناب ابو طالب نے کعبے کی جانب آسمان سے ایک نور از عرش اترتے دیکھا تو اس راہب کی بات یاد آئی اور مسکرائے اور پھر دیکھا کیئے کہ ان کا حرم یعنی فاطمہ بنت اسد جانب کعبہ رواں دواں ہیں۔
اور آج ہم اسی ظہور و تولد کو پاکر خوشیاں مناتے ہیں اور اللہ کے تابعداروں میں خود کو شامل ہونے کا اعزاز پاتے ہیں۔
یہ زمین و آسمان کا انوار سے سجانا خوشی کے جل ترنگ بکھیرنا ہی تقاضہء فطرت کے عین مطابق ہے۔
ہم مسلمان اپنے خدا کی عطا کردہ نعمتوں پر اظہار تشکر، احساسء خوشی جو ذات میں رکھی گئی، اسے دبانے اور مٹانے کو اسلام کہتے ہیں، حالانکہ فطرت کے تقاضوں کو راحت و طہارت سے نبھانا معراج بندگی ہے۔
اگر وہ خالق ہمیں ایک نئی روح کے وجود سے اپنی ایک اور صفت سے بہرہ وری عطا کرنے کی خاطر اپنی کائنات کو ہر رنگ و صفت سے سجانےکوئی نئی تخلیق عطا فرمائے تو کیا خوش ہونا اور اس دن کو خوشی کا دن مقرر کر کے خوشی منانا بھی ایک طرز شکر نہیں؟
اے بندئے اپنے بنائے ہوئے حصاروں سے نکل کر واجبات و تسلسل زندگی کو انسانوں کی طرح نبھانے کی چارہ گری کر، بےجا کی پابندیوں نے مسلمانوں میں باغی پن کا بیج بودیا ہے جس کے تحت شدید رعونت، غصہ، ری ایکشن اور اس پر ایکشن، صبر سے نابلد خود غرضی اور محرومیء تجربات تقاضہء ذات و روح خو نہ نبھا پانے کی وجہ سےدرندگی ابھر ابھر کر معاشریے ہی نہیں خطہء زمین کو تہس نہس کیئے دئے رہی ہے۔
آج مسلمان جس انسان کی اندرونی ترتیبء ربانی کو دبا کر آج کے دور میں بھی محصور بنا رہا ہے وہی فطرت کے خلاف علم بغاوت بلند کیئے ہے اور مخلوقات کو اس عمل سے روکنے کا سبب ہے، جس کے لیئے اسے مرتب کر کے اظہار صفات کے لیئے کائنات میں اتارا گیا ہے۔
تعلیم دئے کر ہر انسان کو اد کے حال پہ چھوڑ دو معاشرہ خود بخود اپنی ذات کے مطلوبہ اظہار سے مطمئن ہو کر پر سکون ہو جائے گا اور عالم میں راحت و سکون پیدا ہو جائے گا۔
مغرب کی آزادی جس سے ہر انسان اپنے خالق کی عطا کردہ ترتیب کے تحت جینے کا مجاز ہے اپنی ذات کی صفات کو ظاہر کرنے کی آزادی رکھتا ہے پابندیوں کی قید میں اپنی ذات کو کچل کر مسخ نہیں کرتا، ہر کوئی جو کرنا اور بننا چاہے اپنی مرضی سے کرئے اور بنے، جیسے ہمارئے معاشرئے میں ماں باپ بچے کو ڈاکٹر، انجینئر ہی بنانے پہ بضد ہوتے ہیں چاہے بچہ میوزک کا شوق اوراہلیت و کمال میں لا ثانی بنا کر بھیجا گیا ہو۔ جب انسان اپنے اندر چھپے کمالات کو آزادی سے بروئے کار لانے کا مجاز ہو جائے، جب اپنی زندگی جینے کا مکمل حق حاصل کر لے تب اس کے اندر ایک سکون پیدا ہو جاتا ہے وہ مطمئن ہو کر صبر کی صفت کے استعمال کرنے کی قوت کا حامل ہو جاتا وہ انسانیت کے درد اور احساس کو اپنی ذات سے یوں محسوس کرتا ہے جیسے اسی کے ظرف پہ کوئی کاری ضرب لگی ہے، اور یوں وہ اقدار انسانیت کا آئینہ دار بن کر کائنات میں اصول حق و باطل کا امتیاز جان لیتااور حق کا ساتھی اور باطل کی اصلاح کا جذبہ خود میں زندہ پا کر عالمین کی مثبت انرجی کا خالق اور استحکام عالمین کا سبب بنتا ہے، کیونکہ مثبت سوچ و فکر اور عمل کی انرجی ہی کائنات کے ثبات کا محرک کامل ہے۔ یہی ترتیب خدا نے بنائی ہے۔
ہمارا معاشرہ بدو معاشریے کی عکاسی ہے ہم ہند کے رواج تو اپنا گئے مگر تعلیمات الہی کو ادراک نہ کر سکے۔ ہم نے غیرت اور حمیت کے نام پر انسانیت کی پائمالی تو سیکھ لی مخلوق کا دردء مکمل ذات سے مٹا کر جہالت کی دلدل میں غرق ہو گئے جہاں سے خدا نے ہمیں اپنے گوہر نایاب فخرء موجودات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے نکلنے کا راستہ عطا کیا۔
آج ہم ہر ہادی، راہبر اور معصوم کی ولادت کو مناتے ہوئے فخر و احساسء بندگی سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خدائی صفات کاملہ کا ظہور لیکر ولدیت کے توسط سے ولادت کا درجہ پاتے ہیں اور اپنی خدائی عطا کردہ صفات اور تمام کمالات سے ظہور عالی پا تے ہوئے ہادی ظاہر ہو کر اوربنکر ہماری ہدایت کو مخصوص ہوتے ہیں، تبھی دنیا اپنی کمی و کمزوری کو چھپانے کے لیئے ان کی مخالفت پہ اتر آتی ہے اور صاحب ثروت نام نہاد حکومت پہ براجمان انہیں مٹانا اپنی بقاء سمجھ لیتے ہیں اور تب وہ شر پسند خود فناء کو اوڑھ کر تاریکیوں میں دفن ہو جاتے ہیں نہ کوئی زمین اور نہ ہی آسمان ان پر روتا ہے اور جو ہدایت کے مراکز ہوتے ہیں وہ فضائے عالمین میں ہمیشہ اپنے انوار کی نوری قوت سے استحکام عالم کا سبب بن کر باقی رہتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے اور ہمیشہ مشعل راہ بن کر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو کر بھی یعنی اپنے چلے جانے کے بعد بھی ہدایت مسلسل کا سبب بنے رہتے ہیں اور اللہ، ہمارئے خالق نے یہ اوصاف مختلف ارواح اور سوچ و فکر کے انسانوں میں سجا کر زمین پہ مخلوق کے لیئے انہیں مشعل راہ بنا دیا جنہیں زمانہ آج بھی ان کے اقوال
سےنہ صرف انہیں یادوں میں بسائے ہوئے ہیں بلکہ ان کی مثبت انرجی آج بھی نظام کی مثبت قوت بنے کسی نہ کسی طور اصلاح کے عمل میں مصروف ہے اور حسنات عالی کما رہے ہیں۔۔
اور حیف کہ ہم ابھی تلک اس تکرار میں ہیں کہ یوم تولد منانا چاہیئے یا نہیں؟ یہ حرام ہے یا حلال۔
ہم جب تک حرام و حلال کا اصل معنی نہیں جان پاتے تب تک کبھی راہ حیات کی اصل روانی اور منزل کی آگاہی نہیں حاصل کر سکتے۔
حرام نقصان کو کہا جاتا ہے، اور آج انسان بہت کچھ جان گیا ہے لہذا کوئی بھی بات سنے اسکو ریسرچ کر لے حقیقت جاننے کے بعد حلال و حرام کی الجھن تمام ہو جائے گی۔
ہم آج اپنی دینی قابلیت یہ سمجھ رہے ہیں کہ خدا کی ہر نعمت کو رد کر کے اسکی خوشی کا اظہار ممنوع قرار دئے دیں، کیونکہ ہم خود اپنے حجروں سے باہر دیکھنے کے لطف و راحت سے محروم ہیں ۔
یہ محض ہماری کم علمی اور خود ساختہ مذہب کے نام کا حصار ہے جو ہمیں دنیا میں آگے بڑھنے سے روکتا ہے اور ہم تحقیق اور دریافت کے عمل سے محروم ہو جاتے ہیں جو دراصل مقصدء خلقت ہے اور ہم اسے رد کر کے خود کو عمل صالح کے مرتکب عالی صفت مومن کے مصداق سمجھ رہے ہیں۔
ہر صفت الہی کا ظہور ہوا جب اس نےکہا ،
: إِذا قَضی أَمْراً فَإِنَّما یقُولُ لَہُ کنْ فَیکونُ
البقرہ

اِنَّمَآ اَمْرُہٓ اِذَآ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّــقُوْلَ لَہ کُنْ فَـیَکُوْنُ.
یسین
جب ہر شئے ارادہ پروردگار میں تھی تو اسی کا حصہ تھی، یعنی ہم ارادہ خالق کے حصے ہیں ہمیں قوت و ہدایت خالق سے مقام معرفت تک پہنچنا ہے اور جب معرفتء ذات و معرفتء پروردگار حاصل ہو جائے گی تب ہم "الیہ راجعون” ہو سکیں گے۔
اس خالق کے ارادئے میں تمام کمالات و صفات قہاریت و جباریت بھی موجود تھیں، بس ہمیں ان صفات سی مزین فرما کر ہمارا ظاہر ہونا مقرر فرمایا اور پھر ہمیں ولدیت بخشی جس سے ظہور نے تولد کا سلسلہ پایا۔
لہذا تولد و ظہور پہ جھگڑنے کے بجائے اپنے تولد کو مقام ظہورکی فضیلت و حقیقت سے بہرہ وری عطا کرنے کی تگ و دو کرئیں۔
یوم تولد منانا حرام نہیں خوشیاں منانا خدا نے انسانوں کے لیئے مخصوص فرمایا ہے، کفران نعمات الہی ہے اس سے محرومی پر خود ساختہ حرام و حلال کو نجات کی کسوٹی بنا کر دین داری کی سند سے اپنے ہی فکر سے تعمیر کیئے گئے جہاں میں بدن چھوڑ کر تنگ سانسوں کے قفس میں سرگرداں رہنا ہے اور پھر سورہ واقعہ کے مصداق کب کسی اور جہان میں اذیتوں کا سفر طے کرنا ہے ہم جانتے ہی نہیں۔
لہذا نجات حاصل کیجیئے، یہ دنیا ہمارئے لیئے بنائی گئی ہے قانون فطرت کی تعمیل کیجیئے اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو معیار تعلیم الوہی سے بہرہ ور کر کے زندگی میں خود جدو جہد سے آگے بڑھنے کا موقع مہیا فرمائیے۔
یوم تولد کی خوشی ہی عطائےالہی پر رب کے شکر کا مثبت عمل ہے۔
خوش حال جیئیں اپنے رب سے تنہائیوں میں رابطے قائم کریں دکھاوئے کی عبادت اورظاہری حلیہء عابدین ہی نجات کے لیئے کافی نہیں۔ کائنات کو فکر و سعی سے دریافت کرنا تعظیمء الہی کا مصداق اور ہماری نجات ہے۔
ہر چیز دوسروں پہ مٹ ڈالیں دوسروں کو برا بھلا کہنے کی بجائے خود کو کامل بنائیں، زمانہ خود بخود ہمراہ ہو لے گا۔
ہر شخص اپنے ہی عمل سے دنیا کی جنت میں آباد رہ سکتا ہے۔
بس یہی فیصلہ کرنے کو کائنات بنائی کہ اگر اس دنیاکو جنت بنا لو گے تو اس کے اہل ہو کر اسے حاصل کر سکو گے اور اگر کہیں اس کو یہاں ہی جہنم بنا لیا تو پھر چونکہ وہی تمھاراجہان تھا لہذا تمہیں وہی نصیب ہو گا۔
آج کی زندگی میں آج کے مطابق جینے کی تگ و دو اور علمی تحقیق سے منزلء کمال کو حاصل کریں۔
ایک واقعہ نظر سے گزرا جو ہماری بصیرت کے لیئے بہت معاون ہے کہ کسی مسجد میں جوتیوں کے پاس دیوار پر لکھا تھا کہ اللہ دیکھ رہا ہے مگر جوتیاں چوری ہوتی رہیں۔
پھر لکھا گیا کہ کیمرئے کی آنکھ دیکھ رہی ہے تو اب سکون ہو گیا، جوتی چوری نہیں ہوتی۔
بس یہی سمجھنے کو کافی ہے کہ آج کی حقیقت اس دورانیئے کی مخلوق کو دیجیئے جس سے کردار و نظام مستحکم اور کامل یعنی "حلال” و پرسکون ہو سکے ورنہ مسلمان پرانی ہدائیتوں سے کبھی بھی نہیں سنورنے گا۔ دوسری قوموں کی طرح آج کی حقیقت و ضرورت باور کروانے کی ضرورت ہے۔
دعائے رباب آپکے مقدر کو ابدی راحت سے نوازئے
الہی آمین
روحانی سکالر عارفہ شاعرہ، مصنفہ کالم نگار۔
طاہرہ رباب الیاس ہیمبرگ جرمنی

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

قصاصء ارضی و عرشی۔۔

قصاصء ارضی و عرشی۔۔ سلام کی ہمراہی میں طلوع صبح، خیر کا عندیہء راحت و ...