بنیادی صفحہ » آج کی دعا » نیکی کی سرخروئی

نیکی کی سرخروئی

نیکی کی سرخروئی

سلام صبح اقرار دعائے سلامتی لیئے حاضر ہے قبولیت سے کمال کی معراج نصیب ہو۔
کل کے موضوع “یقین کی بہرہ وری”جس نے بہت سے بیدار ذہنوں کو سوچ و فکر کے عمل صالح سے قرب حق کی سعی کی توفیق نصیب کی، کچھ سوال کیئے ہیں جن کا جواب بھی شائید بہت سی عارف مزاج شخصیتوں کی مزید تسکین کا سامان ہو سکے۔
عرض مدعا یہ ہے کہ ہر انسان کو کوئی بھی ہدایت یا نصیحت ہو اس کا اطلاق صرف اور صرف اپنی ذات پر کرنا ہے۔ کسی دوسرئے کے عمل کا تجزیہ نہیں کرنا۔
دوسرئے یہ کہ اگر آپ کسی کی عزت کرتے ہیں محبت کرتے ہیں، (چاہے رشتہ کوئی بھی ہو) اور وہ اپ پر یقین نہ رکھے تو کیا کیا جائے، کیا رشتہ منقطع کر لیا جائے تاکہ وقت ضائع نہ ہو؟
تو میرئے خطہء زمین کے ہم سفرو، اولا” تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ محبت جس کا ہم دعوی کر رہے ہیں، یہ کیا ہے؟
محبت ایک سچا اور مخلص جذبہ یعنی مثبت انرجی ہے۔ اسے دل میں پانے کے بعد فقط محبوب کو دئے دینے اور خوشحال بنانے کے دوسری کوئی تمنا باقی نہیں رہتی۔ طلب ختم ہو جاتی ہے صرف عطا باقی رہتی ہے۔
اگر کوئی آپکی محبت و وفا پر یقین نہیں رکھتا تو آپکو اس سے اس سمجھ کی امید رکھنا ہی خسارہ ہے۔ کیونکہ ہر انسان اپنا تمام زندگی کا لائحہ عمل طےکر کے آتا ہےجسے کوئی بھی بدل نہیں سکتا، سوائے، خود اپنے اس شخص کے جو کسی عمل صالح اور روش مسلسل سے ہٹ کر، کر گزرتا ہے اور اپنے مقام کوبلندی سے عظمت بخشتا ہے۔
خالص محبت سے انسان وقت کا ذیان نہیں کرتا بلکہ قرب الہی کا سزاوار بنتا ہے۔نظام و ذات کے لیئے مثبت کی قوت کو تقویت کا سبب بنتا ہے۔
زندگی میں کبھی کسی نیکی کا نتیجہ فی الفور نہیں مانگا جا سکتا، اس کے نتیجے کی امید نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ جو مثبت انرجی پیدا کی جاتی ہے اسکی وائبریشن امید کی ثمر باری کے انتظار کے نتیجہ سےکم ہو جاتی ہے کیونکہ اسے سارئے نظام کو مددگار بنانا ہوتا ہے اور نیکی کبھی نتیجہ نہیں مانگتی بلکہ اپنی جمع پونجی اپنے لیئے ہی محفوظ کر لیتی ہے۔ لہذا عمل صالح کرتے جاو انجام سے بے نیاز رہ کر تاکہ تقویت عمل بکھر کر ضائع نہ ہو جائے۔
اپنی اچھائی اور نیکی کا نتیجہ کبھی بھی کسی دوسری روح سے نہیں بلکہ نظام سے طلب کرنا ہوا کرتا ہے۔
آگے بڑھنا ہے، اس فکر و فہم سے کہ جو نظام میں میرئے لیئے طے کر دیا گیا ہے وہی مجھے ملے گا اور جو میرئے لیئے مخصوص نہیں اسے کوئی مجھے دئے نہیں سکتا۔ اپنی نیکی اچھائی اور وفا کی مثبت انرجی سے اپنا اکاونٹ بھرا رکھیں، کہ یہی مشکل وقت میں آپکے کام آسکے گا۔ اپنے عمل صالح کو دوسرئے کے جوابی عمل صالح کی امید سے فناء نہیں کرنا ۔
اگر نصیحت نیک عمل کے نیک بدلے کی ہے تو ہمیشہ اسے صرف اپنے لیئے حکم سمجھیں نہ کہ دوسرئے کے لیئے۔۔۔ یہی ترتیب فطرت ہے۔
خدا آپکو عمل صالح کرنے اور دوسروں سے امید نہ رکھنے کے قوت عالی سے مالا مال فرمائے۔
دعائے رباب آپکو کامیابی کی نعمت سے سرفراز فرمائے جانے کے لیئے مددگار ثابت ہو سکے۔
الہی امین۔
روحانی سکالر و عارفہ شاعرہ
مصنفہ وکالم نگار
طاہرہ رباب الیاس ہیمبرگ جرمنی

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

مسلمان اور توفیق الہی

مسلمان اور توفیق الہی سلام صبح آفاق کی ہر حیرت و استجاب میں گندھی حقیقت ...