بنیادی صفحہ » آج کی دعا » آب رواں ایک سرخفی

آب رواں ایک سرخفی

آب رواں ایک سرخفی

سلام صبح کی پاکیزہ دعائیہ چاشنی سے لطف اندوز ہونے کو سلامتیاں قبول رہیں۔۔۔
جنیوا کی حسین وادی سے سفر اسکے اطراف کے مناظر دیکھنے کو شروع ہوا، حسن خالق نے حیرتوں کے حجابات یک لخت ہٹا کر بہت کچھ عیاں کر دیا۔
چہار سو حسن لازوال عقلوں کو منجمند کیئے دئےرہا تھا جب ظاہری اور اصل میں (بمطابق مصور یکتا و واحد، یہ محدود مناظر ہیں)۔ایسا ہےکہ ہم اس حسن و جمال کو ذہنی دریچوں میں نہیں سما پا رہے تھے، تب خود سے سوال تھا کہ کیسا ہو گا وہ جو لا محدود حسن و جمال کے لا منتہا خزانوں کا مالک ہے ؟ وہ چاہتا ہے کہ وہ پہچانا جائے اپنی صفات عالی کو خود عمل کے دورانیئے میں دیکھے۔ مسکراہٹیں بکھیرنے والا خدا نہ ڈرتا ہے نہ گھبراتا ہے ظلم دکھ درد تکلیف قہر و جبر سب اپنی صفات کی عکاسی کا دیدنی لطف لیتے ہوئے اپنی اختیاری صبر و سکون کی صفت کو دکھاتا اور سمجھاتا ہے۔۔ صاحبان فہم کی فہمی بلندی کو فکر و اگاہی سے منسلک کرتے ہوئے انکی جدو جہد اور کوشش کے صدقے توفیقوں کے در کھول دیتا ہے۔
اسی کمالء بالائے عقل و فکر کوسوچتے دل کا مرکز سے ایک رابطہ بنائے محو گفتگو تھی کہ ایک جگہ سفر منقطع ہو گیا، سواری کو چھوڑا تو سامنے حسین ترین نہر اپنے مکمل جوبن پہ اتراتی بل کھاتی مچلتی لہراتی روانی میں اٹھلاتی راحتء نگاہ بنی۔
کیا رنگ تھا پانی کا؟ نہ چاندی نہ کرسٹل نہ دودھ نہ برف !!!
پانی کی روانی کافی اشتعال انگیز تھی اور بے حد شفاف لیکن باہم لہریں ایک دوسرئے سے گتھم گتھا بہت گھنی صورت میں دکھائی دئے رہی تھیں۔
کافی دیر تلک ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہوئے ایک ہی سوال تھا، کہ یہ پانی ہے کیا؟ نہ اپنا کوئی رنگ نہ وجود، آہستہ ہو یا شتابی بس رواں ہی رہتا ہے۔ شفاف ذات (ٹرانسپئرنٹ) ہے۔۔۔ جس رنگ میں ڈالو وہی بن جاتا ہے۔
یہی تو ہے وہ جو بدن میں رواں زندگی بنا بیٹھا ہے۔

تو ہی حیات ہے، تو ہی سانس کا سہارا ہے۔ تو ہی سکون ہے زندگی کا تجھ سے ہی حرکت بدن جاری و ساری ہے، تیرئے بنا زندگی کا تصور ناممکن ہے۔۔۔۔ اوہ خوب دراصل تو ہی سبب حیات ہے ، تو ھے بھی اور نہیں بھی تیرا کوئی رنگ و روپ نہیں مگر تو جلوہ فگن ہے ۔۔۔۔ اور نہ جانے کیا کیا سوچتے احساس ہوا کہ میں پانی سے ہم کلام ہوں اور باقاعدہ گفتگو رواں ہے۔
تب نور کل، خالق کائنات کی عظمت کے آگے سر جھک گیا تو خالقءخپھر پانی بولا، دیکھ مجھ میں کتنا نور بھرا ہے؟
نور؟ ارئے ہاں کچھ یاد ایا ، کہ ایک بار نجف کی وادی سے گزرتے ہوئے جناب علی ع نے فرمایا کہ، جا آئے نجف کی وادی علی نے تجھے پسند فرمایا اور پھر مصاحبوں سے فرمایا ، ” قسم ہے اس رب کائنات کہ اگر علی چاہے تو اس ندی سے نور کھینچ نکالے اور اسے نکال کر کوفے کے ہر گھر کو روشن کر دئے”
تب لوگ سر جھٹکتے رہے کہ علی ع یہ کیا سنا رہے ہیں۔۔۔۔
پھر زمانے نے پانی سے بجلی نکالی اور گھر گھر روشن ہو گیا۔

پانی سے گفتگو میں معلوم۔ہوا کہ خالق جو خود نور پے اپنے جلوئے بانٹتا اور دعوت فکر دیتا رہتا ہے مگر انسان اپنی روایتوں میں جکڑا حقیقتوں کو ادراک۔کرنے سے ہی بے نیاز رہتا ہے۔

متحرک رواں دواں بجلیوں کا سراپا لیئے میرئے رب کی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ۔

اور تبھی اس نے بہت کچھ آپنی ذات کا تعارف کروا دیا۔
ایک رابطہ ایک زندہ احساس ایک عقدہ کشائی، نہ جانے کیا کچھ دکھاتا رہا بتاتا رہا اور میری آنکھوں سے ساری ندی اسکے عشق کی حدت سے پگھل۔کر بہہ گئی۔
اور یوں سب حیرتیں تمام ہوئیں ۔راحتیں جوان ہوئیں۔مستیاں سرعام ہوئیں۔
کوئی مضمون ادھورا نہ تھا، نصاب مکمل ہو گیا تھا، میٹھا میٹھا درد محبت انگ انگ سے پھوٹنے لگا اور پانی پانی نہیں تصویر وجودی تھا حجاب عدم سے نکل اس جان وجودی میں رواں دواں۔ ۔۔۔۔
پھر دوسرئے روز ایک عظیم الشان اور حیران کن نیاگرا فال جیسا فال ملا جو نیاگرا فال کی بلندی کا آئینہ حیرت اس سے بھی بالا کمال میں، شہر زیورق کے قرب و جوار میں دیکھا اور پھر سب کچھ اپنی ہی ذات کے اندر دکھنے لگا۔ عقدئےحل ہوئے شناخت کا سفر رواں دواں ہو گیا۔ پانی بہت کچھ بتا کر سمجھا گیا۔ اپنے مصوری با کمال کا فقرہ ذہن کو قوتیں فہم و ادراک سے معطر و مطمئن کر گیا کہ بے شک، "لایات لقوم یتفکرون” ( کہ یہ نشانیاں ہیں فکر کرنے والوں کے لیئے)

یہ بجلیوں کا سراپا سہائے بیٹھے ہیں
تیرا وجود جو خود میں چھپائے بیٹھے ہیں

تو بے خبر تو نہ تھا اپنے ہی کمالوں سے
کیوں حیرت فیکوں ہم اٹھائے بیٹھے ہیں

سفرء فکر و تدبرجاری رہے ، رب زوالجلال آپکو تخم کی آگاہی سے بہرہ وری عطا فرمائے۔
دعائے رباب ہر گام بلندیوں کی جانب رواں رہنے اور با مرادیاں مقدر کروانے میں کارگر بنی رہے۔
الہی آمین
روحانی سکالر و عارفہ شاعرہ مصنفہ و کالم نگار
طاہرہ رباب الیاس
ہیمبرگ جرمنی

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ترتیب حیات

ترتیب حیات صبح نو کا نیا سلام مبارک ہو۔ محبت کی انرجیوں سے لبریز دعائے ...