بنیادی صفحہ » اداریہ » دل دھنک » اس زمانے میں جینے والے ، پچھلے زمانوں کے بچارے لوگ ۔ ۔ ۔

اس زمانے میں جینے والے ، پچھلے زمانوں کے بچارے لوگ ۔ ۔ ۔

اس زمانے میں جینے والے ، پچھلے زمانوں کے بچارے لوگ ۔ ۔ ۔
_______________

آج کے دانشور کو بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے ، کہ وہ جن لوگوں سے مخاطب ہونا چاہتا ہے ، وہ بیسویں صدی کے نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ غضب تو یہ ہے کہ ہمارے اکثر دانشور خود بھی بہت پیچھے کے زمانوں میں کھا پی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ پھر یہ بہت پیچھے کے زمانوں میں جینے والے لکھاری ، بیسویں صدی کے نظریات ، اُن لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں ، جو شاید تیرویں صدی کے اعتبار سے بھی فکری بچارگی کا شکار ہیں ۔ ۔ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سقراط کو صحیح بات سوچنے پر زہر کا جام پیش کرتے ہیں ، اور منصور کو راز فاش کرنے پر سرِ دار سجا دیتے ہیں ۔ ۔ ۔

ان لوگوں کو اس صدی کا کچھ بھی بتانے سے قبل انہیں اس صدی تک لانا ہو گا ، ان کی فکری بچارگی دور کرنی ہو گی ۔ ۔ ۔ ان کے سوچنے کے انداز کی تربیت کرنی ہو گی ۔ ۔ ۔

انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ سوچتے کیسے ہیں ، کسی موضوع میں غیر جانبدار کیسے رہا جاتا ہے ، رائے کیسے پیش کرتے ہیں ، اختلاف کیسے کرتے ہیں ، منطقی دلیل کیا ہوتی ہے ، رائے دینے اور اس کے لیے دلیل دینے کا کیا آداب اور تقاضے ہیں ، بحث میں دوسرے کے مختلف نظریے کا احترام کیا ہوتا ہے ، اختلاف کیا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جذبات و احساسات ، غم و غصہ اور گالم گلوچ کے اظہار کو لفظوں کا پیرہن پہنا کر آپ انہیں دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے ، ہر بات دلیل کے طور پر قبول نہیں کی جا سکتی ۔ ۔ ۔ آپ طنز طعنے گالم گلوچ بدزبانی کو اپنے جذبات کی تسکین کیلئے تو استعمال کر سکتے ہیں ، لیکن یہ نا تو آپ کے نظریے کا دفاع کر سکتی ہے ، نا ہی دوسرے کے نظریے کو رد کر سکتے ہیں ، نا بحث میں آپ کو ” درست ” نظریے تک پہنچا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔

اِنہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ رائے پیش کرتے ہیں ، اس کیلئے دلیل دیتے ہیں اور بس یہی آپ کا کام ہے ۔ ۔ ۔ آپ رائے دینے والی شخصیت کی ذات پر بات نہیں کرتے بلکہ آپ کے گفتگو کا دائرہ ، اس کی رائے تک ہی محدود ہوتا ہے ، ذات تک کسی صورت نہیں جاتا ۔ ۔ ۔ آپ اپنی رائے اپنی دلیل اپنی بات اور نظریہ کسی سے منواتے نہیں ہیں ، بلکہ صرف اور صرف پیش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ اگر کوئی آپ کی رائے قبول نہیں کرتا تو یہ بلکل عام بات ہے ، اس میں گالم گلوچ اور جذباتی ردِ عمل کا اظہار بے ادبی بھی ہے اور کوئی وقعت بھی نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔

اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ کی سوچ اور رائے مکمل غیر جانبدار ہونی چاہیے ۔ ۔ ۔ آپ کو مباحثے کے ساتھ ، اپنی فکر میں بھی غیر جانبدار اور مخلص رہنا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ آپ کو مقصد اور معاملہ صاف ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ جب آپ اپنی فکر میں اپنے جذبات و احساسات ، وراثتی اور آبائی نظریات کو اخلاص اور غیر جانبداری کے ساتھ چھانتے رہتے ہیں اور کسی بھی جذبے اور احساس کی طرفداری کیے بغیر منطقی دلائل کی بنیاد پر صرف اور صرف ” درست اور ” حق ” تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ بلکل اسی طرح علمی دنیا میں جب آپ دلیل کی بنیاد پر رائے تک پہنچتے ہیں اور دلیل ہی کی بنیاد پر وہ رائے اپناتے ہیں اور دلیل کے ساتھ اسے پیش کرتے ہیں ، لیکن مباحثے میں آپ کا مقصد اپنا نظریہ ثابت کرنا نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ دلائل کی بنیاد پر درست بات کی تلاش ہونی چاہیے ، چاہے آپ کی رائے اور دلیل غلط ہی کیوں ثابت نا ہو جائے ۔ ۔ ۔ یہ بالکل نارمل اور کوئی شرم کی بات نہیں ہے کہ مثلاً دلائل کی بنیاد پر آپ کی بات غلط ثابت ہو جائے اور آپ کو اپنی رائے سے رجوع کرنا پڑے ۔ ۔ ۔
مثلا مباحثہ ہے ایک کہتا ہے کہ دو اور دو چار ہیں ۔ ۔ ۔ آپ کہتے ہیں کہ دو اور دو بائیس ہیں ۔ ۔ ۔
اب جب مباحثہ وغیرہ ہو گا ، تو آپ کا مقصد ہر جائز اور ناجائز طریقے اور ہر ممکن بے سر و پا دلیل سے ” دو اور دو بائیس ” کو ثابت کرنا نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ بلکہ آپ کو علم کے ساتھ مخلص رہنا چاہیے اور آپ کی سوچ یہ ہونی چاہیے کہ منطقی اور غیر جانبدار طریقے سے بحث ہو ، اور دیکھا جائے کہ کس کی بات اصل میں درست ہے ، بالفرض اگر دلائل کی بات پر یہ ثابت ہو گیا کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں تو میں اپنی رائے سے رجوع کر لوں گا اور اس کی رائے قبول کر لوں گا ، یا کم از کم یہ کہہ دوں گا کہ مجھے ابھی سمجھ نہیں آئی ، سو میں اپنی رائے پر مزید سوچنا چاہتا ہوں اور مزید سمجھنا چاہتا ہوں اس کے بعد دوبارہ اس پر بات کریں گے ۔ ۔ ۔

ان فکری بچارگی کے شکار لوگوں کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ جب تک آپ کسی کی رائے کو ، کسی کے نظریے کو ، خوب اچھی طرح مکمل طور پر جان نہیں لیتے ، اس کی رائے اور اس کے پیش کیے ہوئے دلائل سے مکمل آگاہی اور جانکاری حاصل نہیں کر لیتے ، تب تک آپ اس پر اعتراض کا جواز نہیں رکھتے ، بلکہ احتیاطِ واجب کی بنا پر رائے دینے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مثلاً ایک شخصیت کے بارے میں کوئی بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے یہ کہا ہے ، یا آپ خود انہیں کوئی رائے دیتے سُن لیتے ہیں ، اور وہ رائے آپ کو اپنے جذبات احساسات اور نظریات سے مختلف محسوس ہوتی ہے ، تو آپ فوراً ردِ عمل نہیں دیتے ، نا اس کی شخصیت سے افواہیں جوڑنے لگتے ہیں ، نا ہی افواہوں پر کان دھرتے ہیں ، چونکہ آپ کو پہلے تو یہ نہیں معلوم کہ وہ رائے اس شخصیت کی ہے یا نہیں ہے ، بالفرض یہ یقین ہو گیا کہ انہیں کی ہے ، تو آپ کو یہ نہیں معلوم کہ وہ رائے کن دلائل کی بنیاد پر دی گئی ہے ، مثلاً آپ نے شخصیت کی پوری بات نہیں سُنی ، یا اس کی کتاب اور اس کے جملہ نظریات کا مطالعہ نہیں کیا ، پس ایسے میں آپ مکمل غیر جانبدار ، جذبات اور احساست سے خالی اور منطقی ردِ عمل اور رائے نہیں دے سکتے ، پس خاموش رہیں ، انتظار کریں اور خوب اچھی طرح تحقیق کے بعد اپنی رائے دیں ۔ ۔ ۔

انہیں یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ ہر معاملے ، ہر ایشو ، ہر موضوع پر آپ کا بات کرنا رائے دینا ضروری نہیں ہوتا ، بلکہ بعض اوقات نقصان دہ بھی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
انہیں یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر آپ نہیں جانتے ، تو یہ کہنا کہ معذرت میں نہیں جانتا ، کوئی شرم یا برائی کی بات نہیں ہے ۔ ۔ ۔

انہیں یہ بتانے کی بھی بہت ضرورت ہے ، کہ آپ تب تک کسی رائے کو نا رد کر سکتے نا ہی قبول کر سکتے ہیں ، جب تک کہ دونوں یعنی رد کرنے اور قبول کرنے کیلئے آپ کے پاس کوئی دلیل نا ہو ۔ ۔ ۔ یعنی آپ رد کریں گے تو بھی مکمل تحقیق کے بعد دلیل کے ساتھ ، اور قبول کریں گے تو بھی مکمل تحقیق کے بعد دلیل کے ساتھ ۔ ۔ ۔ آپ کسی کی بھی کسی بھی بات پر یوں ہی یقین نہیں کرتے ۔ ۔ ۔

اور انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ اگر یہ چاہتے ہیں کہ رائے دینے میں کوئی شخصیت آپ کے نظریے کو من و عن اپنے قلم سے بیان کرے ، اور آپ کی پسندیدگی نا پسندیدگی احساسات اور جذبات وغیرہ کا خیال رکھے اور عین انہیں کے مطابق رائے دے ، دوسرے لفظوں میں آپ اپنے دل کی بات اُن کے منہ سے سُننا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ تو واضح اور سادہ الفاظ میں یہ جان سمجھ لیجیے کہ ایسا نہیں ہو گا ، ہرگز نہیں ہو گا ، ایسا ہوتا ہے تو آپ کے تو کیا ہی کہنے ، وہ دانشور ، دانش کے تخت کو گویا پاوں تلے روند دیتا ہے ۔ ۔ ۔

اور انہیں یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی بھی آپ کی رائے آپ کے نظریے کو قبول نہیں کرتا ، طنز و طعنے اور گالم گلوچ کا نشانہ بناتا ہے ، تو ایک تو اس سے آپ کے پاس اس ہی جیسا رویہ رکھنے کا جواز نہیں آجاتا ، دوسرا اس جیسا رویہ یعنی گالم گلوچ اور طنز طعنے دے کر آپ پھر یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ وہ غلط تھا اس نے شروعات کی ۔ ۔ ۔ پس ایسی صورت میں خاموش رہیں ، یہ گالم گلوچ طنز طعنے مزاق وغیرہ یہ نارمل باتیں ہیں ، انہیں نارمل ہی لیا کی جیے ۔ ۔ ۔

اور اگر اس زمانے میں جینے والے پچھلے زمانے والوں کی فکری بچارگی دور نہیں کی ، تو پھر ماحول وہی بنے گا ۔ ۔ ۔ کہ مثلاَ مذہب ڈیپارٹمنٹ والوں کا خدا یہ پچھلے زمانے والے رد کریں گے ، اور کہیں گے کہ ہمیں لگتا ہے کہ جو خدا آپ دکھا رہے ہیں ، وہ اصل والا خدا نہیں ہے ، بلکہ آپ کا بنایا ہوا خود ساختہ خدا ہے ، لیکن مذہب ڈیپارٹمنٹ اصرار کرے گا کہ جو خدا ہم دکھا رہے ہیں یہ ہی اصل خدا ہے ، اسے مان لو ورنہ اسی خدا کی سزائیں عوامی جہالت کے ہتھیار سے تُم پر مسلط کر دیں گے ۔ ۔ ۔ اور پھر خون کی ہولی دونوں طرف سے کھیلی جاتی رہے گی ۔ ۔ ۔

پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کس کا خدا اصل والا خدا تھا ، اور کس کے پہلو میں خدا لباس میں بُت تھا ۔ ۔ ۔ پھر مکر کے لباس میں تقویٰ ، اور موسیٰ کے لباس میں فرعون آتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ پھر خدا اور ابلیس میں فرق مشکل ہو جائے گا ، حق باطل کی آمیزش میں مبتلا رہے گا ، پھر نا دانش محفوظ رہے گی ، نا دانشور ، نا ہی جہالت کی تاریکیاں عوام کے آنگن سے اپنے کالے سایے پرے کریں گی ۔ ۔ ۔
______
جسٹن سنو ۔ ۔ ۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

محبوب کے نام خط۔

محبوب کے نام خط۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ السلام علیکم۔ ۔  آغاز اس دعا کے ساتھ کہ پروردگار ...