بنیادی صفحہ » اداریہ » دل دھنک » جب حالت مشکل ترین ہوں۔۔۔

جب حالت مشکل ترین ہوں۔۔۔

جب حالات اچھے ہوں۔۔۔اور مواقع موجود ہوں تو ہم بہت کچھ بہترین کر جاتے ہیں۔۔۔
مگر۔۔۔۔۔۔
بات تو جب ہے۔۔۔

جب حالت مشکل ترین ہوں۔۔۔
اور ہر پڑاو۔۔۔ہر راستہ کانٹوں سے ہو کے گزرنے کے برابر ہو۔۔۔۔
اور انسان کو اپنی منزل انہی راستوں سے گزر کر حاصل کرنی ہو ۔۔۔

تب ہی انسان کی اصل صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے۔۔۔اگر وہ پار پہنچ جائے تو واقعی ہی وہ انسان زندگی گزارنے کا پہلا سبق سیکھ گیا اور اگر ہار گیا تو جان جائے کہ ابھی زندگی گزارنے کی اصل کوشش نہیں کر سکا۔۔۔

۔۔۔۔زندگی مشکل ترین مرحلوں سے گزرتے ہوئے مسکراتے۔۔۔ہنستے۔۔۔چلتے رہنے کا نام ہے۔۔۔جو لڑنا نہیں جانتے وہ اڑنا نہیں سیکھ سکتے۔۔۔اور جو ہمت ہار جائیں وہ پر کتے پرندوں کیطرح دو قدم کی اڑان ہی کو اپنی زندگی کا مقصد اور حاصل سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو بہت بڑا جانباز سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔۔جیت سے زیادہ اہم لڑ جانے کی سکتا ہوتی ہے۔۔۔۔

جو مشکلوں کو اپنا ہمسفر رکھتے ہیں۔۔۔۔کبھی نہیں گبھراتے۔۔۔
نہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔۔۔
اور جو آسانیوں اور شارٹ کٹس کو زندگی میں عقلمندی سمجھتے ہوئے بھاگ رہے ہوتے ۔۔۔۔

ہیں انکی بھاگ دوڑ انہیں محدود اور بے فائدہ حاصل کے سوا کچھ نہیں دیتی۔۔۔۔

اصل ثمر انسان کا الجھے بنا کانٹوں سے گزرنے کا ہنر ہے۔۔۔
پاسکے بنا۔۔۔مشکل راستوں پر چلنے کی لگن۔۔۔
اور ڈرے ۔۔سہمے بنا بھر پور ۔۔۔۔۔مکمل۔۔۔۔ بہترین اڑان وہ اڑان جو اسکے ہونے کیوجہ ہے۔۔۔
جسمیں اسکی زات کے سارے ہنر کھل کر اپنا اظہار کر پائیں۔۔۔جو ایک حسین ۔۔۔مکمل بھرپور احساس زندگی دے سکے
۔۔۔۔زندگی پیٹ سے شروع ہو کر۔۔۔عورت/مرد پر ختم ہونے کا نام نہیں۔۔۔۔زندگی کے رنگ ان سب سے اوپر دیکھ۔۔۔سوچ۔۔۔سمجھ اور کر پانے میں ہیں۔۔۔۔مگر ہر دور کیطرح انسان کی زندگی پیٹ اور زندہ رہنے اور مجبوریوں سے لڑ کر محرومیوں سے نکلنے میں اتنا مشغول کر دی گئی ہے کہ انسان یہ سوچ پانے سے قاصر ہے کہ مشکل ترین حالات بہترین لوگوں کے حصے میں آتے ہیں اور اگر انسان ان حالات میں خود کو کھو نہیں دے تو اتنا کچھ پا سکنے کی صلاحییت رکھتا ہے کہ جسکی خبر کسی کو بھی نہیں۔۔۔۔اگر ہم انسان مشکلوں کو بھوک اور افلاس کو اپنے لیے عزاب نہیں سمجھتے ہوئے خود کو جوڑ۔۔۔سنبھال اور جمع کر کے اپنے لیے اچھا سوچنے اور چاہنے کی کوشش کریں تو انسان کبھی ویران نہیں ہوں بلکہ گلستان ہوں جائیں۔۔۔مگر بظاہر یہ سب باتیں کتابی اور افسانوی معلوم ہوتی ہیں مگر غور کریں۔۔۔۔

تو ہر تخلیق کا خیال پہلے کسی افسانے جیسا ہی تھا مگر انسان کی لڑ جانے۔۔۔۔کر جانے۔۔۔یقین اور خود کو نہ کھو دینے کی صلاحیتوں ہی نے ان خیالات کو ان تجربات کا روپ دیا کہ جن کے سائے میں آج بہت ساری دنیا بہت سارے کام بہترین کر پا رہی ہے مگر وہ تو ٹیکنالوجی تھی۔۔۔۔

مگر۔۔۔

اگر انسان خود کو کھوج لے۔۔۔۔invent….create….اور تراش پائے۔۔۔۔تو نہیں معلوم وہ کیا پا لے۔ ۔۔

اگر انسان مشکل پسند ہو جائے تو ہر مشکل خود اسکے سامنے گھٹنے ٹیک دیگی اور انسان اپنا کمال کھوج پائگا۔۔۔۔مگر ہم خود کو کھوجنے سے زیادہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔
ترجیحات کا فرق انسان کو اسکی اصل سے قریب یا دور کر دیتا ہے۔۔۔۔

نہیں معلوم کہ وہ کہاں پہنچ جائے۔۔۔۔
مگر۔۔۔
یہ تب ہی ممکن ہے کہ انسان کا پیٹ سے۔۔۔عورت/مرد کا سفر اس دائرے سے باہر انسان سوچ پائے۔۔۔۔۔بلکہ ہر دریا عبور کر کے اس منزل کو پانے کھوج لگانے کی وہ حقیقی جستجو ہے جسے راستے کو منزل سمجھکر اکثر لوگ گنوا کر ہار جاتی ہیں۔۔۔یہ جہاں بھی۔۔۔۔وہ جہاں بھی۔۔۔!!!
کاش کہ سوچ پائے۔۔۔۔۔!!!!

فائزہ عباس

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

کوئی نہیں کہ جو درد کو مرہم دےدے…

دل کے جو زخم ہیں ناسور ہوئے جاتے ہیں… کوئی نہیں کہ جو درد کو ...