بنیادی صفحہ » اداریہ » دل دھنک » شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پڑ جانے کی حقیقی وجوہات

شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پڑ جانے کی حقیقی وجوہات

شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی پڑ جانے کی حقیقی وجوہات
ــــــ

طلاق کی جڑ کیا ہے ؟ جوائنٹ فیملی سسٹم ؟ شوہر کی ماں کا سلوک ؟ غربت ؟ ناپسندیدگی ؟ شوہر کے رشتہ داروں کی دخل اندازی ؟ بیوی کی ماں کی دخل اندازی ؟ جوانی کا ڈھل جانا ؟ بوریت ؟ شوہر یا بیوی کا کوئی افیئر ؟ غیر حقیقی خواہشات ؟

آپ سب اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں ، آپ طلاقیں ہوتیں دیکھی بھی ہیں اور ان کے بارے میں ادب ، میڈیا اور سنی سنائی کہانیوں میں بھی سُنا ہے ، اور کہیں نا کہیں مندرجہ بالا وجوہات میں سے آپ نے اس کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی مشاہدہ کر رکھی ہے کہ مندرجہ بالا وجوہات میں سے اس فلاں وجہ سے طلاق ہوئی ۔
لیکن مندرجہ بالا ذکر کردہ وجوہات میں سب طلاق کی سیکنڈری وجوہات ہیں ، پرائمری نہیں۔
ہزبینڈ وائف کے رشتے میں دراڑ کی وجوہات میں سے بےشک اوپر بیان کردہ وجوہات میں سے کوئی نا کوئی وجہ ضرور موجود ہوتی ہے لیکن یہ وجوہات ” بنیادی ” وجوہات نہیں ہیں ، یعنی کہ اس رشتے میں دراڑ اور دوری پڑنے کا آغاز ان وجوہات سے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ بعد میں اپنا کام دکھاتے ہیں ، ابتداء خود ہزبینڈ اور وائف سے ہی ہوتی ہے۔ دوری کا بیج اِن کے بیچ سے رشتے کی زمین پر گرتا ہے ، بعد میں مندرجہ بالا وجوہات پانی ، خوارک اور سورج کا کام کرتے ہوئے دوری کے اس درخت کو تناور بنا دیتے ہیں اور آخر کار دوری اور خلیج کے اس تناور درخت کا گلہ طلاق کی کلہاڑی تلے پہنچ جاتا ہے۔
یہ ایسی وجوہات ہیں جو معاشرے کی طرف سے ہم میں راسخ وجوہات کی بنا پر ہزبینڈ وائف ایک دوسرے کو چاہ کر بھی نہیں بتا پاتے۔
۔
بیوی کا جسمانی اعتبار سے مُطمئِن نہ ہونا اور بیوی کا چاہ کر بھی طلب کا اظہار نہ کر پانا ، اس میں مختلف قسم کی جسمانی خواہشات کو بیان نہ کر سکنا ، لازمی جذباتی توجہ جو عورت کی اہم ضرورت ہے ، کا شوہر کی طرف سے نہ تکمیل نہ کر پانا یا مکمل ہی نظر انداز کر دینا ، ایک دوسرے کے انتخاب کا احترام نہ کرنا ، ایک دوسرے کے پرائیویٹ سرکل کی ریسپیکٹ نہ کر دینا ، ایک دوسرے کی انسانی حیثیت کو نظر انداز کر دینا ، جذباتی ذہانت کی کمی کی وجہ سے ایک دوسرے اور خاص کر بیوی کی خواہشات کو سمجھ نہ پانا ، ایک دوسرے کے جوتوں میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے کی کیفیت کو بالکل ویسے ہی محسوس نہ کر پانا جیسا کہ دوسرا اصل میں محسوس کر رہا ہے ، بیوی کی شوہر کی جانب سے نظر انداز ، بےعزت اور بےحمایت چھوڑ دینے کی صورت میں احساسِ تنہائی ، شوہر ہر بیوی کے ” نسوانی فطرت و طبیعت ” کو برداشت نہ کر پانا ، معاشرے کی مسلط کردہ نفسیاتی مورل سٹرکچر کی وجہ سے من چاہی باتیں ایک دعسرے سے کُھل کر نہ کر پانا ، ایک دوسرے کو بوجھ سمجھنے لگ جانا ، ایک دوسرے کیلئے اپنے آپ کو پُرکشش بنائے رکھنا چھوڑ دینا ، بوریت کا احساس ، سب سے اہم یہ کہ ایک دوسرے کو حقیقی عزت و احترام کی موجودگی کا احساس نہ کروانا ، ان سب کی وجہ سے بیوی چڑچڑی ہو کر اپنا غبار لاشعوری طور پر دوسرے طریقوں سے نکالتی ہے جس میں لڑائی جھگڑا ، گھر کو بےسکون کر دینا ، شوہر کو نظر انداز کرنا ، اسے خود سپردگی سے محروم کر دینا ، اس کا بحیثیتِ ایک لائف پارٹنر ساتھ نہ دینا ، اس کی مصیبت میں ہونے کے وقت کمر مضبوط نہ رکھنا ، اس کی تھکن باہری پریشانیوں اور مختلف قسم کے فائینینشل سوشل مسائل میں الجھے ہونے کو نظر انداز کر کے طنز و طعنے دے کر اس کا خون پیتے جانا اور اسے مزید بےسکون کر دینا ، شوہر سے جڑے رشتوں کا احترام اور لحاظ نہ کرنا , اس کے بعد شوہر بھی رِٹیلیئیٹ کرتا ہے اور بیوی کے ساتھ بےاحترامی ، زیادتی ، ظلم اور حقوق کے سلب کرنے کا رویہ اپناتا ہے ، شوہر کا بیوی اور اپنی ماں کے درمیان بجائے بہرصورت ماں کو بےقصور سمجھنا ، بیوی کو بری عورت کا لیبل لگا کر ذلیل کرنا ، اسے انسان سمجھنے کے بجائے ملکیت سمجھنا ، اس کے علاوہ ایک دوسرے سے غیر حقیقی خواہشات کے تقاضے ، شادی شدہ زندگی سے قبل کی زندگی کے معاملات ، ایک دوسرے پر ناگوار باتیں مسلط کرنا ، ایک دوسرے کی ٹیریٹاری territory کی خلاف ورزی کرنا وغیرہ۔
۔
یہ سب وہ وجوہات ہیں جن سے بیوی ڈیپریشن میں جا کر شوہر کو بےسکون کر دیتی ہے ، شوہر وجہ سمجھ نہیں پاتا اور بیوی کو قصوروار سمجھ کر اس سے دور ہو جاتا ہے ، اس کے بعد یہ ایک دوسرے کے ہی خلاف ایک لاشعوری محاذ بنا لیتے ہیں۔
جب یہ محاذ بنتا ہے تو اس میں دوسرے لوگوں کو موقع ملتا ہے مثلاً شوہر کے رشتہ داروں اور ماں ، بیوی کی ماں ، یا کوئی محبوب قسم کے انسان کو ، جو دخل اندازی کرتے ہوئے دونوں مورچوں کو ہتھیاروں سے لیس کرتے رہتے ہیں۔ یہ طلاق کے دوسری قسم کے وجوہات ہیں۔
اس کے علاوہ تیسری قسم کے وجوہات میں غربت ، جہالت ، محبت ، بچے نہ ہونا ، جوائنٹ فیملی سسٹم کی دخل اندازیاں وغیرہ شامل ہیں۔

۔
لیکن ابتداء خود شوہر اور بیوی سے ہی ہوتی ہے ، اگر وہ پہلی قسم کی وجوہات ظہور ہو کر اپنا کام نہ دکھائیں تو دوسری اور تیسری قسم کی وجوہات کبھی بھی اپنا اثر نہ دکھا پائیں گی اور معاملہ طلاق پر ختم نہیں ہو گا۔

۔
جسٹن سنو…

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے مولویوں کی پکڑ کرنے والا یے کوئی….؟

معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے مولویوں کی پکڑ کرنے والا یے کوئی….؟ کوئی ہے جو ...