بنیادی صفحہ » اداریہ » دل دھنک » لاشعوری نفرت

لاشعوری نفرت

لاشعوری نفرت
ـــــــــــــــــــــــــــ

کسی کو بھی اُس کیلئے ناگوار اور ناپسندیدہ باتوں پر مجبور نہیں کریں ، چاہے یہ کام اک گلاس اٹھا کر اِدھر سے اُدھر رکھنا ہی کیوں نا ہو ۔ ۔ ۔ یہ کام اس کے دل و دماغ میں تمہارے لیے لاشعوری نفرت کو پیدا کر کے پروان چڑھا کر مضبوط کر دے گا ، اور اِسے تم سے بیزار ، بہت دور ، یہاں تک کہ دشمن بنا دے گا ۔ ۔ ۔ تمہیں دیکھ کر اس کی پیشانی پر شکنیں ، آنکھوں میں نفرت کے شعلے ، لہجے میں بد تمیزی ، رویے میں بیزاری اور چڑچڑا پن اور دل میں نفرت تازہ ہو جایا کرے گی ۔ ۔ ۔ یہ ایسی نفرت ، ایسی بیزاری ، اور دل کی ایسی عجیب سی لاشعوری دشمنی ہے کہ وہ چاہ کر ، دانستہ بھی، اس کو نا چھپا سکتا ہے ، نا ہی دبا سکتا ہے ، نا ہی ختم کر سکتا ہے ۔ ۔ ۔ بلکہ کبھی نہ کبھی کہیں نا کہیں اس کو قول و فعل میں مجسم کر دے گا ۔ ۔ ۔
پھر یہ ” کسی ” تمہاری بیوی ، شوہر ، اولاد ، والدین ، عزیز و اقارب ، یا محبوبِ جاں ہی کیوں نہ ہو ۔ ۔ ۔

جذباتیت افسانویت اور تخیلاتی باتیں سُننے میں بہت اچھی لگتی ہیں ، ویسے بھی بہت کچھ اس کے کہنے کے انداز اور موجودہ کیفیت کے غلبے کی وجہ سے ، سُننے میں بہت اچھا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن حقیقت میں کسی کو اس کا رنگ چھڑوانا اور اپنے رنگ میں رنگنے پر مجبور کرنا ، اُس پر اُس کیلئے ناگوار باتیں مسلط کرنا ، اس کی مرضی ، مقصد ، خواہش ، نقطہِ نظر ، جذبات و احساسات کا لحاظ اور احترام نہ کرنا ، لاشعوری نفرت اور دوری کا باعث بنتا ہے ۔ ۔ ۔

سو کوشش کرنی چاہیے کہ ہر انسان کے پرسنل سپیس ، پرائیویٹ سرکل ، لائیکس ڈِس لائیکس ، اس کے ویلیوز ، اس کے زاویہ نگاہ اور رائے ، خاص کر اس کے چوائسِس اور اس کے ایکشنز میں ” آنر کے پہلو ” کی ریسپیکٹ کرنی چاہیے ، چاہے آپ خود ان سب کو مانتے ہوں یا مانتے ہوں ، خود ان سے نفرت کرتے ہوں یا پسند کرتے ہوں ، خود اس نقطہ نظر ، نظریہ یا کام کے مخالف ہی کیوں نا ہوں ۔ ۔ ۔ بحرحال ان کا احترام اور اس احترام کے تقاضے پورے کرنا لازم ہے ۔ ۔ ۔

” آنر کے پہلو ” سے مراد یہ ہے کہ مثلاََ اگر کوئی آپ کو اس لیے پسند نہیں کرتا اور نفرت کرتا ہے ، کہ اس کے مطابق آپ جھوٹے اور منافق ہیں ، اور آپ سے دوری اختیار کرتا ہے یا آپ کو دشمن تصور کرتا ہے ۔ ۔ ۔ تو آپ کا ظرف یہ ہونا چاہیے کہ اپ اس سے نفرت نہیں کریں ، بلکہ یہ سوچ رکھیں ، کہ خوب ہے اگرچے ہم دشمن ہیں ، مقابل آنے پر ایک دوسرے کو قتل کریں گے ، لیکن یہ شخص جو جھوٹ اور منافقت سے نفرت کرتا ہے ، ” جھوٹ اور منافقت سے نفرت ” کی خوبی کی وجہ سے لائقِ قدر و منزلت اور لائقِ احترام ہے ۔ ۔ ۔ یہ سوچ تب ہی ممکن ہے جب آپ اس کے جوتوں میں اس کی جگہ پر کھڑے ہو کر ، اس کا احساس اپنا کر معاملے پر نگاہ ڈالیں گے ۔ ۔ ۔

دلوں میں لاشعوری نفرتوں کے بیج سے لے دوریوں کے تناور درختوں تک کا سفر انسان اس ہی لیے طے کرتا ہے کہ وہ یا تو اپنی سوچ سے سب کچھ پرکھتا ہے ، یا پھر دوسرے کی سوچ کو بھی اپنے سوچ کی چھانی سے گزارتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دراصل وہ دوسرے کی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ جبکہ دوسرے کے نقطہ نگاہ سے دیکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ اس پر اپنی سوچ کو معیار اور میزان قرار دیں اور اپنی سوچ کا فلٹر لگا دیں ۔ ۔ ۔

علاوہ ازیں بہترین نصیحت یہ ہے کہ اُسے زبان سے نا کرنا پڑے ۔ ۔ ۔

جسٹن سنو

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

محبوب کے نام خط۔

محبوب کے نام خط۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ السلام علیکم۔ ۔  آغاز اس دعا کے ساتھ کہ پروردگار ...