بنیادی صفحہ » اداریہ » دل دھنک » لہو کی. پیاس :ہوس کے آنچل

لہو کی. پیاس :ہوس کے آنچل

فکری فقیروں سے بھرا معاشرہ فقط… لہو کی. پیاس رکھتا ہے… ہوس کے آنچل میں پلنے والے… اور ضرورت کی بیڑیاں پہنے… تھکے ہارے، ہار مانے انسان….

جو اہنی لطافت کھو بیٹھے…
جو اپنی ظرفیت لٹا چکے…
جو اپنی قیمت کوڑی کے دام بھی نہ لگا سکے…
شکم پرست…
ہوس پرست… گھٹن زدہ… مفاد پرست زہریلے… متعفن وجود زندگی کے نام پر ایک لعنت جیسے وجود…. جن سے یہ دنیا تو کیا اگلے جہاں بھی پناہ کے طلبگار ہیں…

جو روشنیوں کے بیچ بھی اندھے پن کا شکار ہیں…. انکی بصیرتوں ہر جہالت کے قفل پڑے ہیں.. قلب بے نور اور عقلوں کی حالت یہ ہے کہ…. ان کو زندہ و بیدار کرنے کی جہد ہی نہیں کی گئی…. افسوسناک ہے… بہت سے لوگ اگلے جہانوں میں وہ ہونگے کہ جنہوں نے اپنے وہم و تخیل کو عقل سمجھتے ہوئے زندگی گزار دی جبکہ وہ عقل تھی ہی نہیں… بلکہ عقل پر تو تخیلات اور توہمات کے بڑے بڑے پتھر پڑے تھے….. جس کے باعثِ انسان کبھی عقل کو بیدار ہی نہ کر پایا… اقر تمام عمر جہالت میں بسر کردی…

بہت سی معلومات اور ہنر کی بہتات کے باوجود جو وجود اپنے وجود پہ پڑے قفل نہ کھول پائیں ان سے بد نصیب بھلا کون ہونگے کے جو زندہ رہیں مردوں کیطرح اور جو اپنے آیینے کی جستجو تک کر ہانے سے محروم رہے… ان سے بڑا فقیر کون ہو گا بھلا جو اہنے اصل فقر کو بھی نہ سمجھ سکے….

وہوجود جو اندھیرے سمیٹتے سمیٹتے ایک دن مدفون یو گیے اپنی زندگی کی قبر میں… جہاں وہ بس وہی دیکھتے ہیں…. جو دکھا دیا جائے… وہی سوچتے ہیں جو سمجھا دیا جائے… حتی کہ اپنی زبان بھی اسقدر گدا گر کے کہ دوسروں ہی کے کہہے کو طوطے کی طرح دہراتے چلے جاتے ہیں… جن کے وجود رضا سے خالی اور پرستش نفس سے لتھڑے … اپنی قید کو آزادی سمجھنے والے …. بکریوں کے ریوڑ جیسے بے ھدف، بد نصیب نا مراد وجود… کبھی تکمیل نہیں پاتے…

انسانوں میں… انسان… بیدار کیسے ہو… وہ جو سب جانکر ہے مردار، وہ صاحب افکار کیسے ہو…؟
یہ سوچنا کس کا کام ہے…. خود انسان کا ہے یا کہ کسی اور کا…؟
انسان کے عمل ہی اسکی جنت یا دوزخ ہیں… عمل وہ بیج ہے جسکی منزل آخرت ہے.. انسان کا عمل ہی وہ جنت ہے جسے وہ پائیگا…
خواہش…. نفیسیاتی اور طبعی احساس ہے…. اگر ھدف…. پاکیزہ ہوگا…. تو خواہش کے تابع ہو گا….

اپنی خواہش کو مارنا خود بھی ایک خواہش ہی تو ہے… پر کیوں مارا جائے….
دیکھیں…. جب آپ سفر میں ہوتے ہیں.. راستے میں ٹرین رکتی ہے…. ارد گرد کھانے ہینے کی یا attraction کی بہت apoealing چیزیں ملتی ہیں… آپ کا دل کرتا ہے خواہش پیدا ہوتی ہے… کہ آپ اسے دیکھیں… یا خرید لیں…

اب خواہش کو فالو کیا تو ٹرین کھو دینے کا خدشہ ہے…. اور اگر ٹرین کھو گئ تو منزل پر یا تو لیٹ پہنچیں گے یاپھر پینچنے سے رہ جایینگے….

خواہش وقتی احساس ہے… اکثر جنم پہلے لیتی ہے… درست غلط کا تعین بعد میں ہوتا ہے….

جو انسان یہ چاہتا ہے کہ اسکی عقل…. ‘بیدار ہو پائے’… اسکے لیے خواہش کے چنگل سے آزادی کی ضرورت ہے….

بہت سےلوگ اپنے تخیلات، توہمات کو عقل سمجھکر پوری زندگی گزار دیتے ہیں… اور عقل تو ابھی unpack ہی نہیں ہوئ ہوتی….

خواہش کے گھنگرو پہن کر… اسکے اشاروں پہ ناچا تو جا سکتا ہے…
پر عقل کی دہلیز کو چھو پانا بھی ممکن نہیں…. اور عقل کو بیدار کیے بنا….
اسکا مکمل استعمال کیے بنا…. انسان کبھی تفکر نہیں کر سکتا…. کیونکہ عقل وہ آیینہ ہے کہ جس میں انسان کو اسکی پہچان ملتی ہے…. وہ خود کو دیکھنے لائق بنتا یے…. بصیرت سے جڑ پاتاہے….

پر اکثر تفکر نہیں کرتے… اور اپنا آپ پایے بنا…. انسان بنے بنا…. حسن و کمال کی جانب جہد کیے بنا ہی اس جہاں سے چلدیتے ہیں….

جنکی عقل بیدار ہوتی ہے…. وہ ہی خواہش کے آگے کیوں لگاتے ہیں… کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خواہش کی پیروی انہیں انسان نہیں بننے دیگی جبکہ عقل کی بیداری وہ راہداری…. ہے کہ جہاں پر خعاہش عقل کے تابع ہوتی ہے اور اس کی غلام ہوتی ہے…. اور راہداری پہ چل کر انسان حیوانییت سے محفوظ رہتا ہے… اور عبد خدا…. بن پانے کی جستجو زندہ، قایم و سالم رہتی ہے… بلکہ مستعدی سے وہ اس جانب سفر کر پاتا ہے…. جس کے بعد جایز خواہشات بھی انسان دیکھ بھال کر ہورا کرتا ہے کہ کہیں میں اہنے ھدف کو کھو ہی نہ دوں کے بظاہر ایک معمولی پھسلن اسکی سب ریاضتکو برباد نہ کر دے…..

عقل کی بیداری کے واسطے…. توہمات و تخیلات…. کو الوداع کہنا پڑتا ہے تاکہ سالم عقل مکمل بیدار ہو سکے اور اسکے نورسے جو خواہشات جنم لینگی یا اسکے تابع ہونگی…. وہ درست راہ پہ قائم رہینگی….

انسان کے فطری تقاضے،اسکی شہوتوں، لزتوں ، خواہشات اور رسموں تلے دبے ہوئے ہیں.. اور ان رکاوٹوں کو ہٹائے بنا رب تک نہیں پہنچا جا سکتا…..

انسانی عقل پر پڑے… جزبات و احساسات وہ پتھر ہیں.. جنکو ہٹایے بنا… اسکی فطرت بیدار نہیں ہو سکتی…..

ہماری ڈوریاں جن ہاتھوں میں ہیں، انہیں پہچاننا بہت اہمییت رکھتا ہے،بنیا کبھی ہمدرد نہیں ہوتا وہ خون پیتا ہے،اور تماشہ دیکھتا ہے..!
جیسے.. بنا سفر کیے منزل نہیں ملتی… بالکل ایسے ہی.. نبی کریم ص کے دکھائے ہوئے راستے پر خود مکمل چلے بنا انکا ساتھ نہیں مل سکتا…..
اپنے اندر کی غلاظتیں صاف نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ صدیوں سے ایک ہی ڈگر پر چل رہے ہیں..اور اہنے بدبودار وجودہمیں مہکتے محسوس ہوتے ہیں…

عقل روشنی ہے جو اگاہی دیتی ہے…. کہ کہاں ہر کیا موجود ہے… اور خطرات کہاں ہیں… اور دل وہ انجن ہے…. جسکی طاقت سے ان خطرات… یا راستوں پہ سفر ممکن ہو پاتا ہے….

جب خواہشات عقل پہ ھاوی ہو جاییں تو انسان کی حالت اندھے کی سی ہوتی ہے… جسے لگتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے… پر نہیں سمجھ پاتا کہ کونسی کھائ یا گڑھے میں وہ گرنے والا ہے…

حتی کے مثبت کام بھی ہو تب جزبات، خواہشات کے تابع رہ کر وہ نیکی کی روح کو مسخ کر دیتا ہے…. اچھے عمل کو بھی کھو دیتا ہے… جب کہ نیکی اگر عقل کے تابع ہو… تو اسکے حسن و خوبی میں اضافہ ہو جاتا ہے…
سو عقل کی بیداری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے….. تاکہ انسان انسانییت کی معراج تک پہنچ پائے…. ایک صاحب عقل شخص کبھی ایک تنکا بھی بنا بصیرت کے نہیں ہٹاتا…. عقل کا کام فطرت تک پہنچانا ہے… کہ فطرت ابھر جائے… تو پھر مشکلات کم ہو جاتی ہیں…
اور زندگی آسان ہو جاتی ہیں… ہر شخص کو رب نے سیکھنے کی ‘صلاحیت عطا’ کی ہے… مگر بہت ہی کم ہیں جو اس صلاحیت و صفت کو استعمال میں لاتے ہیں…حتی کے ایک دن بھی عقل کو کھول کر استعمال کرنے کی جرات نہیں کر پاتے…

عقل… کا کام حقائق تک ہہنچنا ہے… جبکہ تفکر… کے لیے عقل کو بیدار کرنا ہڑتا یے…. بالکل ایسے ہی جیسے کہ موبائل یا کمپیوٹر میں کچھ سافٹ وئیر ہوتے ہیں مگر انسان کو انکے استعمال کے لیے انہیں… بیدار کرنا پڑتا ہے…. یعنی activate کرنا پڑتا ہے… بالکل اسی طرح عقل کے ساتھ ساتھ… رب نے انسان میں اور بہت کچھ رکھا ہے…. کہ جسکی جانب انسان متوجہ نہیں ہوتا اور ساری زندگی انکو بنا استعمال کیے…. بنا توجہ کیے… بنا active کیے دنیا ہی سے رخصت ہو جاتا ہے…. کچھ چیزیں رب نے پہلے ہی سے انسان میں activate رکھیں اور کطھ کی جانب اشارہ کر دیا کہ اب تم خود انکو activate کرو… اور کچھ کے لیے رہنمائی کردی کے تم خود سے انکو بیدار نہ کر پاو گے اس کے لیے تمہیں…معمار انسانییت سے رجوع کرنا پڑیگا….. انسانی انجنییر…. انسان کامل کی مدد کے بنا تم کبھی اپنے اندر بیداری پیدا نہ کر پاوگے…..مگر یہ کہ اگر تم ہر خواہشات، ہوس، شہوتوں کے بڑے بڑے پتھر پڑے ہونگے تو تم اس تک پہنچ پاو یہ ممکن ہی نہیں…. پہلے یہ پتھر تمہیں ہٹانے ہوں گے… اور جب تم انکو ہٹا چکے عقل پر سے….
اور تم نے خالصتا کوشش کی اس ضمن میں…. تو پھر تم انسان کامل…. کی مدد سے اس عقل کو بیدار کر ہاو گے…. مگر نییت… ارادہ…. مخلصانہ کوشش کے بنا یہ ممکن نہیں….. پہلے آلودگیوں کو صاف کرو… طہارت لاو تاکہ اس لایق بن پاو کہ تم اپنی مدد کر سکو…… اپنی مدد خود کیے بنا کسی سے مدد مانگنا جہالت ہے…. پہلے ہر وہ کوشش کرو جو تمہیں سمجھا دی گئ ہے… یعنی…. جتنا علم رکھتے ہو اس پر مخلصانہ عمل کرو….. پھر وہ بھی مل جائے گا جو نہیں جانتے اوراس میں بھی اضافہ ہو جاییگا جو تم جانتے تھے….

قوت فکر انسان میں موجود ہے مگر فعال نہیں ہے.. اسکی فعالیت کے واسطے ہی رب نے انبیاء، آیمہ، اولیا اللہ بھیجیے مگر انسان نے….

جو خواہشات میں لتھڑا ایک مردہ وجود تھا اور اپنی خواہشات کی عینک سے انبیاء سے بھی خواہش پورا کروانے کا کام لیا جیسے کی بنی اسرائیل کی قوم….

انبیاء کا قتل کرتی تھی…
ہٹ دھرم، کٹ حجت قوم تھی جو ہر وقت ٹال مٹول کرتی تھی،…
انبیاء کو ستانا، تفرقے بازی کرنا…
حجتیں کرنا، تضحیک و طعنہ زنی…
خدا کو بھلانا….
نا فرمانی کرنا… نبی موسی علیہ السلام سے اپنی پیٹ کی فرمائشیں پوری کرواتےتھے…

قوت فکر…. کے استعمال کے لیے بہت اہم ہے کہ انسان خواہشات، توہمات، رسومات ، ان سب رحجانات سے نجات پائے کہ جنکے باعث وہ ہجوم کا حصہ…

توہمات یعنی جنکی کوئی حقیقت نہیں مگر انسان مبتلا ہیں… جن، بھوت، پریت، کالی بلی گر گئ، چلتے ہوئے ٹکر لگ گئ،

ہاتھ سے پلیٹ گر گئ میں نے اپنی ساس کو دیکھا تھا… یا پڑوسن نے غور سے دیکھا تھا…

پہلے کھانا پکاتی تھی کھا لیتا تھا اور آجکل نہیں پسند کرتے میرے شوہر…. ضرور کسی نے کالا علم یا بندش کروائی ہے… یہ سب وہ توہمات ہیں کے جنکے تعویز پہن کر انسان سوچتا ہے کہ وہ حقیقت کا سفر کر رہا یے… یہ سب ربط و رابطے جو کہ حقیقت میں موجود ہی نہیں… یہ سوچنا نہیں توہم پرستی کہلاتا ہے….

اور اسطرح کی ان گنت سوچئں جنکے باعث انسان وہم میں مبتلا رہتا ہے….

یا تخیلاتی… محل، عزت، شہرت، مال و دولت و ثروت یعنی…. قوت تخیل سے کسی بھی شے کی حسین تصویر بنا کر اسکے اس عکس کو خود پہ طاری ریتا ہے… اور پھر وہی سب خوابوں اور خیالوں میں آنے لگتی ہیں… اور انسان کے ہاتھ ، زبان، انکھیں، پیر، سب اسی جانب سفر کرنے لگتے ہیں…. جبکہ یہ سب انسان کے تخیل کی پیداوار ہیں…

اور انسانی تخیل اسکی محرومیوں ، خوف، شوق، حسرتوں، زوق، محبتوں ، چاہتوں، رحجانات کے زیر اثر ہوتا ہے کہ جسکے باعثِ وہ کبھی حقیقت میں آنکھیں کھول ہی نہیں پاتا…..

اور جب آنکھ کھلتی ہے تو حقیقت کچھ اور ہوتی ہے اور جسے تفکر سمجھ کر، فکر سمجھکر انسان آگے بڑھا تھا وہ بالکل مختلف…. یہ تفکر نہیں ہوتا بلکہ اپنے احساسات کے دریچوں پہ بیٹھ کر سوچنے کا عمل ہے…. یعنی جو دیکھا… اسکو سوچنے لگا…. اب بھلے وہ سوچ کسطرف کو لے جائے….

تخیل یعنی غیر حقیقی و غیر واقعی فریبی تصویروں کی تخلیق…. اور توہم وہ رابطے بنانا جو در حقیقت موجود ہی نہیں…

‘… جبکہ انسان کی وہ ہستی ہے وہ نہ تو عقل کرتا ہے…. نہ ہی تعجب کرتا ہے…. جبکہ وہ چربی سے دیکھتا ہے…. گوشت سے بولتا ہے….ہڈی سے سنتا ہے اور سوراخ سے سونگھتا ہے…. ‘

انسانی خلقت کے راز ہہ کبھی انسان نے توجہ ہی نہیں کی…. کی رب نے کیسی حیرت انگیز دنیا اسکے وجود میں سجا رکھی ہے… جبکہ نہ انسان خود میں جھانکتا ہے… نہ دیکھتا یے… نہ حیرت میں مبتلا ہوتا ہے…. نہ ہی تعجب کرتا یے…. اور نہ اس لائق بن پاتا یے کہ اپنی تجسس کی حس کو ہی بیدار کر لیتا….. جبکی حقیقت آگہی، دانش و بصیرت انسانی وجود کے لیے بنیادی ترین ضرورت قرار دیے گئے…. ہر قدم پہ تفکر کا زکر بیان ہوا…. اور جگہ جگہ متوجہ کیا گیا گیا کہ’…. اور تم غور نہیں کرتے…. ‘

مگر جب تک عقل پہ پڑے تعفن و غلاظتوں کے پہاڑ، نفس کی پرستش کے پہاڑ، ہجوم کی کییفت میں مبتلا ہونے کے پہاڑ،

نہ ہٹے تو عقل کبھی بیدار نہ ہو پائے گی نہ ہی پرکھنے، جانچنے، تجزیہ کرنے، سیکھنے کی صلاحیتوں کا درست استعمال ہو پائے گا جب تک فکروں پہ مسلط غلامی کے افکار، نظریات ہٹ نہیں جاتے انسان طبیعتوں کی غلامی کو فطرت انسانی کہ کر سمجھکر جانکر جیتا چلا جایے گا جسے وہ زندگی سمجھکر جی رہا تھا در حقیقت ہو زندگی ہی میں موت تھی اور حیات میں بھی موت ہی رہیگی….. سو سنبھل جا اے اپنے دور کے انسان کہ تمہارا سمجھنا یا عقل کو بیدار کر کے جینا صرف تمہیں ہی فائدہ دیگا…..

ورنہ ہمیشگی کے نقصان کے زمہ دار تم خود ہو گے کیونکہ تم صاحب اختیار بھی یو، صاحب انتخاب بھی کو….. اور درست و غلط کی پہچان تمہیں کروا دی گئی تھی….

اب اگر تم نے کاہلی، سستی، لاپرواہی اور غفلت کو اختیار کیا تو یہ سراسر تمہارا زاتی انتخاب ہے….. جس کے نتائج کے زمہ دار بھی تم خود ہو….

اپنی عقل کو بیدار کر…
خود کو صاحب افکار کر…
زندگی کو جینا سیکھ…
نہ کہ ہمیشگی کی موت کو
اپنا ہمسفر اختیار کر….

اے دور حاضر کے انسان…
کچھ تو احساس کر..
اپنے مرتبے کی پہچان کر…
اسکو دریافت کر…
رضا کو ایجاد کر…
فکر کو انتخاب کر…
علم و آگہی سے ناتا جوڑ
عجز و انکساری کو اختیار کر…
کچھ خود پر رحم کر…
عقل کا انتخاب کر…..

فائزہ عباس

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

محبوب کے نام خط۔

محبوب کے نام خط۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ السلام علیکم۔ ۔  آغاز اس دعا کے ساتھ کہ پروردگار ...