بنیادی صفحہ » اداریہ » دل دھنک » متوازن شخصیت اور مِلن ساری

متوازن شخصیت اور مِلن ساری

فون اسکے ہاتھ میں کپکپانے لگا اس کی رنگت کی زردی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ اس نے کوئی ایسی بات سن لی جس کا ری ایکشن دینا اس کے ڈاٹے میں سٹور نہیں ، ہم سب کے اندر ہر سکھ دکھ کا Reaction سٹور ہوتا ہے ہم نے اپنے آپ کو بہت سی چیزوں میں automatically reAction کا عادی کر لیا ہوتا ہے ، اگر کسی کی فوتگی کا سن لیں تو فورا” اداس سی شکل بن جاتی ہے چاہے اندر سے کوئی سا بھی موسم ہو باہر افسردگی اوڑھ لیتے ہیں ، کوئی حال پوچھ لے تو اندر کے سسٹم میں سے جملہ نکل آتا ہے کہ اللہ کا شکر ہے چاہے ہم شکرگزاری کی کیفیت کو جانتے بھی نہ ہوں مگر کبھی کبھی کچھ چیزیں ہم کو چونکا دیتی ہیں Reaction سسٹم جو سٹور ہی نہیں ہوتا اور میں اسکو جانتا تھا اس کی متوازن شخصیت اور مِلن ساری باقی دوستوں کے لئے سنگ میل ہے اس نے ساری زندگی لوگوں کو آسانیاں دینے میں گزار لی اعلی تعلیم نے اس کو اور بھی عاجز کر لیا تھا صحیح معنی میں بھائی کا حق ادا کرنے والا اور دین اور دنیا میں صحیح توازن میں ہم اس کی مثالیں دیتے تھے اس نے فون رکھا تو میں نے سوالیہ آنکھوں سے اسکو دیکھنا شروع کیا اس نے حواس درست کئے اور بولا ، کسی سے نفرت کیسے کی جا سکتی ہے شدید خالص نفرت ؟ نفرت کرنا تو خود کو اذیت دینے کے مترادف ہے میں نفرت کیسے کرسکتا ہوں ؟ میرے اصرار پر اس نے ہمارے ایک مشترکہ دوست سے بات کا خلاصہ بتایا جس دوست کا اسنے نام لیا وہ بھی بہت مخلص اور دیندار اور شر اور خیر کی لائن ڈرا کرکے سادہ زندگی گزارنے کا عادی ہے ان دونوں کی سیاسی وابستگی میں نظریاتی اختلاف کے باوجود بھی تلخی نہیں ہوتی مگر جب آج اس نے تنگ آکر کہا کہ ٹھیک ہے میں آج سے آپ کے لیڈر سے بھی آپ کے لئے محبت کروں گا تو دوسرے طرف فون پر دوست بولا اگر میرے لئے کچھ کرنا ہی ہے تو اپنے لیڈر سے نفرت کرو جتنی میں اس سے کرتا ہوں اور اس کی اس بات نے اس کی یہ حالت کردی ُ بات عام سی تھی اس کے اس شدید ردعمل پر میں نے حیرت کا اظہار کیا تو اس نے اک واقعہ بتانا شروع کیا یہ ان دنوں اوگرا میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھا ایک دن ایک سیاسی شخصیت میرے دفتر تشریف لائے اور بولا کہ ایک کام کردیں میں نے کام پوچھا تو بولا ایک ورکر کا میٹر کٹوانا ہے میں اس وقت بھی یہئ محسوس کر رھا تھا جو اب کر رہا ہوں میں نے اس کو بولا آپ غلط آدمی کے پاس آگئے ہیں میں میٹر لگوانے پہ یقیں رکھتا ہوں کٹوانے پر نہیں ، اس نے بہت زور لگادیا مگر جب تک میں وہاں رہا میں نے اس غریب کا میٹر کٹنے نہیں دیا ، میں کسی سے کسی کے لئے محبت تو کر سکتا ہوں مگر نفرت ؟ اور اس کی اس بات نے میرے اندر بھی کئی در وا کردئے نفرت تو وہ خاردار جھاڑی ہوتی ہے جو سب سے پہلے انسان کے قلب کو زخمی کر دیتی ہے اور پھر نفس اور قلب کی جنگ میں جیت ہمیشہ نفس کی ہوتی ہے !!
اعجاز احمد خان !!

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

محبوب کے نام خط۔

محبوب کے نام خط۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ السلام علیکم۔ ۔  آغاز اس دعا کے ساتھ کہ پروردگار ...