بنیادی صفحہ » اداریہ » دل دھنک » محبوب کے نام خط۔

محبوب کے نام خط۔

محبوب کے نام خط۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم۔
۔
 آغاز اس دعا کے ساتھ کہ پروردگار ، اپنے فضل و جود  سے آپ اور آپ سے جڑے ہر رشتے کو کُل رنج و الم  سے دور کر کے اپنی کامل و عاجل اور سکون والی پناہ گاہ سے ہمکنار کرے۔
انسان وہ ہے جس کی اپنی خودی ہو ، جس کا اپنا تشخُص اور اپنی انفرادیت ہو۔ جو ” میں ” کہہ سکے ، جو ” میں ” کہہ کر خود کو مخاطب کر سکے۔ جو یہ کہہ سکے کہ ” میں ” نے انتخاب کیا ، میرا انتخاب ، میرا ارادہ ، میرا اختیار  ، میرا وجود ، میری ذات ، میری پہچان ، میری شناخت ، یہی انسان ہونے کی شان ہے۔
پس میں ایسا ہی ہوں ، جو خود کو ” میں ” کہہ کر مخاطب کر سکتا ہوں ، اپنے وجود اور اپنے اردگرد کے موجودات کا بھی شعور رکھتا ہوں ، میں جانتا ہوں کہ ” میں ” موجود ہوں ، اور میرے اردگرد بھی ”  کچھ  ” موجود ہے۔
 تو یہ ” میں ” کہہ سکنے والا اپنے اردگرد ایک اور ” میں ” کہہ سکنے والی کے وجود کا احساس کرتا ہے ، اور اپنے وجود میں کچھ ہلچل ، بے قراری اور تڑپ محسوس کرتا ہے ، یہ بے قراری انسان کی فطرت اور سرَشت میں پائی جاتی ہے ، اس تڑپ کا احساس اپنے جیسے ایک اور کے متعلق جان لینے کی وجہ سے ہے ، یہ تڑپ اور بے قراری ” سکون کی طلب ” ہے۔
یہ انسان کی فطرت ہے کہ اس کا ہر کام سکون کے حصول کیلئے ہے ، یہی سکون جب وہ اپنے جیسے اور انسانوں میں تلاشنا چاہے تو انسان ایک ایسا دوست چاہتا ہے جو اس کا حصار بن سکے ، ایک ایسا محبوب چاہتا ہے جس کی بانہیں ہر لحظہ اُسے سمیٹ لینے کو کھلی ہوں ، جس کی یاد اُس کے مردہ دل کی دوا ہو ، جس کا دیکھنا آنکھوں کی شفا ہو ، جس کی وجود کی خوشبو تروتازہ کر دے ، جس کی انگلیاں رُخساروں پر آئے ہوئے دل کے گرم پانیوں کو صاف کریں ، جو تپتے صحرا میں میٹھے پانی کا چشمہ اور گھنے درخت کا ٹھنڈا سایہ ہو ، جو رنج و کرب اور مصآئب و آلام میں غمگسار ہو ، جب دنیا چَھٹوں سمتوں سے اسے رنج و کرب میں مبتلا کرے تو انسان کا یہ دوست اور یہ محبوب اس کے لیے پناہ گاہ بن سکے ، اسے اپنے وجود کے اندر یوں پیوست کر سکے جیسے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست ہوتی ہیں ، گویا دونوں ایک ہی ہوں ، اور انسان اس شخص سے ایسی قربت محسوس کرے کہ یہ کہہ سکے کہ یہ میرا ہے ، میں اس کا ہوں ، اور اس کے بارے میں ایسا احساس محسوس کر سکے کہ اس پر فدا ہونے کو جی چاہے ، یہ ہے وہ ” سکون ” جو انسان اپنے جیسے دوسرے انسان میں تلاشتا ہے۔
میرے لیے اس سکون کا مجسم روپ آپ ہیں ، میں آپ ہی کے وجود میں وہ خاصیتیں ، وہ خوبیاں دیکھتا ہوں جیسے ” سکون ” کہا جا سکے ، آپ ہی کی ذات میں مجھے وہ دوست ، وہ محبوب ، وہ غمگسار و ہمدم ، زخم کا مرہم ، مردہ دل کی دوا ، بھیگی آنکھ کی شفا ، رنج و کرب میں پناہ گاہ ، اور محبت و اپنائیت کا پُر سکون حصار نظر آتا ہے ۔ ۔ ۔
مجھے اس بات کا خوب اچھی طرح ادراک ہے ، کہ آپ کو یہ پیغام لکھ بھیجنا میرے لیے بڑی بے ادبی اور جسارت ہے ، کہ نہ ہی میں آپ پر کسی قسم کا اختیار رکھتا ہوں ، نہ آپ پر میرا کوئی حق ہے ، نا ہی کوئی رشتہ ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کو یہ خط لکھ بھیجنا گویا میرے گلے کی ہڈی بن گیا تھا ، کہ نا اُگلا جا سکے نا ہی نِگلا جا سکے ، یا جیسے کہ آنکھ کا کانٹا ہو گیا تھا ، کہ آنکھ تو ضائع ہو ہی گئی ، کانٹا تو نکال لیا جائے/
مجھے یہ بات مکمل طور پر نہیں معلوم کہ آخر آپ ہی کی ذات میں مجھے یہ سکون کیوں نظر آیا ، مجھے آپ ہی سے  محبت و اپنائیت کی یہ مُعطر خوشُو کیوں آتی ہے ، آپ ہی مجھے دوست ،محبوب ، منزلِ سکون ، دلجوئی ، دلنوائی ، آنکھوں کی ٹھنڈک ، قلب کی حبیب ، کے روپ میں کیوں نظر آتی ہیں ، مجھے آپ ہی کا احساس کیوں خوشی اور سکون دیتا ہے ، ہاں یہ سچ کہتا ہوں کہ مجھے مکمل طور پر نہیں معلوم کہ یہ سب میں آپ میں کیوں دیکھتا ہوں۔
لیکن میں بے حد احترام ، مکمل ایمانداری و سچائی  اور کھرے پن کےساتھ یہ بات خوب اچھی طرح کھول کر بیان کر دینے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں ، کہ میں نہ ہی آپ کی معصومیت میں لَتھڑی ہوئی بڑی بڑی گول حور شمائل آنکھوں پر فدا ہوں ، نہ ہی آپ کے کمان جیسے اَبروؤں نے مجھے اسیر کیا ہے ، نہ ہی آپ کے خنجر دار پلکوں یا زنجیر نُما زلفوں کی بیڑیوں کا قیدی ہوں ، اور نہ آپ کے نسوانی حُسن کے جسمانی نشیب و فراز نے مجھے بے قرار کیا ہے ۔ ۔ ۔ اگر مجھے شیشے کے اِن حسین اور خوبرو بُتوں پر ہی فدا ہونا ہوتا تو بہشتی حوروں کی تمنا میں اپنی رسوائی خریدینے ہوئے آپ کو اظہارِ محبت کا خط لکھنے کے بجائے خدا کو سجدے کر رہا ہوتا۔
لیکن جہاں تک میرا ناقص شعور مجھے ادراک دیتا ہے ، اس کے مطابق میرا وجود ایسی عورت کی جانب مائل ہوتا ہے ، جو میچیور ہو ، ایسی عورت جس سے آپ دنیا کے ہر موضوع پر کُھل کر بات کر سکیں ، اور وہ کُھل کر اپنی رائے پیش کرے ، جو آپ کے ساتھ مل بیٹھ کر کھائے اور ہنسنے والی باتوں پر جی بھر کر ہنسے ، لیکن وہ اپنے حدود جانتی ہو ، اور وقت آنے پر دوسروں کو اپنے حدود سے باہر رکھنا بھی جانتی ہو ، آپ ایسی ہی ہیں ،  مضبوط ، خود مختار ، منفرد ، میچیور ، پُر اعتماد ، کُھلے طبیعت اور کُشادہ ذہن کی گریس فُل لڑکی ، جس کا ساتھ خوش نصیب مرد کو ہی نصیب ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ایک زندہ اور روشن حقیقت ہے کہ ایک صنف دوسرے صنف کی طرف جسمانی کشش بحرحال رکھتا ہے ، چونکہ یہ ہر انسان کی فطرت ہے ، یوں میں بھی مرد ہوں اور فطرتاَ عورت کی طرف مائل ہوں گا ، لیکن میں جو کچھ آپ کے لیے اپنے وجود میں محسوس کرتا ہوں ، اس احساس کے ساتھ جسمانی کشش کا احساس دل میں آہی نہیں سکتا ، اور یہ مضحکہ خیز بات بھی لگتی ہے لیکن جس کیلئے آپ ایسا محسوس کریں جیسا کہ میں آپ کیلئے محسوس کرتا ہوں ، اس کیلئے جسمانی طلب گناہ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
مجھے درحقیقت ” آپ ” نے بے قرار کیا ہے ، آپ کے جسم ، اداؤں، نسوانیت ، سانولے حُسن ، زبان کی شیرینی ،  نگاہوں کی شوخیوں ، یا جسم کے نشیب و فراز نے نہیں ۔ ۔ ۔ یہ سب آپ کے ذات سے جدا عناصر ہیں ، میں آپ کے خالص وجود پر نثار ہوا ہوں ، وہ وجود جہاں فقط آپ کی ” میں ” ہے ، جہاں فقط ” آپ ” ہیں ، آپ کا جسم نہیں ہے۔
انسان اپنے دوست اور محبوب میں اور کیا چاہتا ہے؟ بس یہی کہ ایک بلند ہمت شخصیت جسے اپنا کہا جا سکے ، جسے دوست کے روپ میں دیکھا جا سکے ، جس پر محبوبیت کی نگاہ ڈالی جا سکے ، جو ناقابلِ بیان درد کی آشنا بن سکے ، جو راہوں اور منزلوں کا بصیر و ہمسفر ہو ، جو بےکنار پناہ گاہ ہو ، ایسی پناہ گاہ کہ جس کی طرف بے چارگی ، اور کمزوری کے وقت اطمینان سے دیکھا جا سکے ، جو تنہائی کا ساتھی اور ہمراز ہو ، جس کا ساتھ آپ کی زندگی کے ہر لمحے پر محیط ہو ۔ ۔ ۔ میں آپ کو یوں ہی دیکھتا ہوں ، آپ کو ایسے ہی پاتا ہوں ۔ ۔ ۔
  ہر چیز سے بڑھ کر مجھے آپ کی طرف آپ کی معصومیت (انوسینس) ، خلوص (پیورٹی) اور سادگی (سمپیلسیٹی) نے متوجہ کیا ، اور آپ کو محسوس کرنے اور چاہنے پر مجبور ہو گیا ، یہاں تک کہ اپنی عزت و حُرمت کو ڈسٹ بین کی زینت بنا کر یہ خط لکھ ڈالا/
چاہت کے ہیجان انگیز احساسات و جذبات میں اکثریت ناولوں سے متاثر ہو کر بڑے بڑے بلند بانگ دعوے اور وعدے کرنے لگتے ہیں ، مثلاَ آسمان سے  تارے توڑ لاوں گا ، یا چاند نیچے اُتار لوں گا ، یا دنیا کو آگ لگا دوں گا وغیرہ ، یہ سب باتیں واضح طور پر مضحکہ خیز اور جھوٹی ہیں ، اور میں واضح کہہ رہا ہوں کہ میں ایسا کچھ نہیں کر سکتا ، نا ہی میں اس قسم کا کوئی غیر حقیقی وعدہ کر سکتا ہوں کہ مثلاَ آپ کی آنکھ میں آنسو نہیں آنے دوں گا ، آپ کو شہزادی کی طرح ٹریٹ کروں گا ، نہیں یہ بھی نہیں کر سکتا ، میں مکمل حقیقی اور سچی بنیادوں پر آپ کو کم از کم یہ یقینی وعدہ دے سکتا ہوں کہ ہاں میں فقط یہ کر سکتا ہوں کہ آپ کیلئے وہی چاہوں گا ، وہی لب کروں گا ، وہی سوچوں گا ، اور وہی کرنے کی کوشش کروں گا جو اپنے آپ کیلئے اچھا سمجھتا ہوں ، بلکہ اس سے بھی بہتر اور  آپ کی عزت و عصمت کو اپنی عزت سے بڑھ کر محترم و معتبر رکھوں گا ، اور آپ کی رضا ، خوشی ، سکون احترام اور محافظت کو ہمیشہ مقدم رکھوں گا۔
میرے خط لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ اپنا احساس آپ پر عیاں کر سکوں ، پھر اختیار اور فیصلہ تو بحرحال آپ ہی کا ہے ، اور خط لکھ کر میں نے چاہا کہ واضح اور صاف الفاظ میں مکمل سچائی اور خلوص کےساتھ یہ بتا سکوں کہ نوجوانی کے  بخار ، آنکھ کی خطا ، پہلی نظر میں محبت کی بے بنیاد اور ایمیچیور باتوں وغیرہ ، یا جسمانی ہیجان انگیزی کا شکار نہیں ہوا ہوں ، نہ ہی پست فطرت لوگوں کی طرح  فریب کاری ، وقت گزاری ، دھوکہ دہی وغیرہ کا شکار ہوا ہوں ، بلکہ آپ کیلئے میرا احساس مکمل شعوری ، خالص ، اور حقیقت پر مبنی ہے ، اور میں مکمل خلوص ، شعوری ارادے ، اور ایمانداری سے یہ اظہار کر رہا ہوں ، کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، اور یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ محبت کے نباہ سے تقاضوں سے بھی بخوبی واقف ہوں۔
آخر میں میری فقط یہ درخواست ہے ، میرے لیے اپنا دل نرم کیجیے ، اور مجھے اپنی اپنائیت و عطوفت سے جواب دی جیے ۔ ۔ ۔ اختیار ، حق ، فیصلہ اور انکار و اقرار کا مکمل فیصلہ تو بحرحال آپ ہی کا ہے اور میں بحرحال اس کا احترام کروں گا ، کہ محبوب کی رضا میں راضی رہنا محبت کی قرینوں میں سے سب سے پہلا قرینہ ہے۔…
جسٹن سنو…..

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے مولویوں کی پکڑ کرنے والا یے کوئی….؟

معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے مولویوں کی پکڑ کرنے والا یے کوئی….؟ کوئی ہے جو ...