بنیادی صفحہ » اداریہ » دل دھنک » کرسی اور خودی !

کرسی اور خودی !

کرسی اور خودی !
یہ واقعہ انیس سال پرانا ہے ایک قریبی دوست سے معلوم ہو کہ ایک شخص جو ہندوستان میں میں کئی دھائیوں کی قید کاٹ کر وطن لوٹا ہے اور اب روحانی اعلی عہدے پر فاعز ہیں تو ملنے کا شدید اشتیاق ہوا ان دنوں لوگوں میں نہ اتنی نفرتیں تھیں نہ اتنی نفسا نفسی ، میں بھی انسے ملنے گیا کافی بزرگ اور کمزور لگ رہے تھے مگر با اعتماد اور بہت سکون تھا ان چہرے پر میں نے انسے حال احوال کے بعد عرض کی کہ بابا جی آپ نے 29 سال قید میں گزارے 23 لوگوں کو راہ حق بھی دکھائی غازی بھی ہیں آپ کا بڑا مرتبہ ہے مجھے بھی کوئی نصیحت فرمائیں انہوں نے میرا ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھ میں تھاما اور غور سے میری آنکھ میں دیکھا جیسے ہر مریض کا مرض اک جیسا نہیں ہوتا اسی طرح ہر سائل کا معاملہ اور تشخیص الگ الگ ہوتے ہیں ان بزرگ بابوں کی ESP سسٹم بہت تیز ہوتا ہے پلک جھپکتے ہی آپکی فائل ان کے پاس ڈاؤن لوڈ ہو جاتی ہے ؛تھوڑی دیر بعد وہ بولے کبھی اس جگہ نہ جانا جہاں کرسی نہ ملے !! یہ بات کہہ کر وہ خاموش ہوکر میری طرف دیکھنے لگے کہ میرے اندر انکی کہی ہوئی بات پوری طرح اتری یا نہیں ؟ مجھے کنفیوز دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا عاجزی انسان کا لباس ہے میرے مالک نے اس کو بہت پسند فرمایا ہے مگر ہمارے اندر کی انا ہمیشہ گمراہ کر دیتی ہے انا نفس کا ہتھیار ہے اور قلب کی دشمن مگر ایک اور چیز بھی ہے وہ خودی ہے یہ اس بات کا ادراک دیتی ہے کہ کب اور کہاں اپنے عزت کی حفاظت کرتی ہے اگر آپ اللہ کی رضا کے لئے جو بھی عزیمت اٹھاتیں ہیں اسکا معاملہ اور ہے مگر اگر آپ دنیاوی کامیابی یا تشہیر کے لئے وہاں جاتے ہیں جہاں آپ کی عزت دوسروں کے مقابل کم ہو تو یہ آپ کو اپنے اور دوسروں کی نظر میں بھی کمتر کر دیگی اور آپ کی خودی اور عزت نفس بہت مجروح ہو جاتی ہے اللہ کو غیرت مند لوگ بہت پسند ہیں اور آپس کی بات ہے غیرت وہی ہوتی ہے جو اللہ کی رضا کے لئے اس کی بنائی ہوئی خودی کے لئے کھائی جائے ورنہ بندہ اندر سے خالی ہوجاتا ہے اگر کوئی دوست کوئی رشتہ دار کوئی اعلی آفسر آپ کی توقیر پہلے جیسا یا بالکل نہیں کرتا اور اس کی محفل میں دنیاوی فائدے یا تشہیر آپ کا مرتبہ اپنی اور انکی نظروں میں بھی گرا دیگا اور اس کے بعد آہستہ آہستہ خالی خول رہ جائیگا اندر سے فریکونسی والا معاملہ ختم ہوجائیگا تو اس کے لئے بہت آسان سا کلیہ ہے سب کے کام آؤ ہر دکھ درد میں بلا امتیاز شریک ہو مگر صرف اس جگہ نہ جانا جہاں کرسی ( یعنی عزت) نہ ملتی ہو ! بابا جی کی بات اس وقت شاید سمجھ نہ آئی ہو مگر کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے کہ ہماری روح امر ربی ہوتی ہے اور اصل میں وہی میرے اللہ مالک کا وہ حصہ ہے جو ہمارے اندر ہے اور میرا مالک تمام جہانوں کا مالک بادشاہوں کے بادشاہ نے ہمیں ُاسی امر ربی کا امین بنایا ہے اگر ہم اس کو مجروح کریں گے اپنی عزت خود نہیں کریں گے یا رکھیں گے تو ہم کسی اور کیا امید رکھ سکتے ہیں خودی کی پستی اور بلندی کا ایک ہی راستہ ہے وہ ہے کہ دنیاداری کے لئے اس جگہ یا اس شخص یا اس محفل سے پرہیز کرنا چاہے جہاں کرسی نہ ملے !!
اعجاز احمد خان !!!

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے مولویوں کی پکڑ کرنے والا یے کوئی….؟

معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے مولویوں کی پکڑ کرنے والا یے کوئی….؟ کوئی ہے جو ...