بنیادی صفحہ » اداریہ » نیا وزیراعظم اور درپیش چیلنج!!!

نیا وزیراعظم اور درپیش چیلنج!!!

مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے نواز شریف کی جگہ لینے کیلئے شاہد خاقان عباسی صاحب کو قومی اسمبلی کے قائد ایوان کے طور پر منتخب کیا جس کے بعد منگل کو قومی اسمبلی نے انہیں وزیراعظم منتخب کر لیا اور بدھ کو انہوں نے عہدے کا حلف اٹھا لیا ۔ وہ 45 دن کیلئے عبوری وزیراعظم ہوں گے۔ اس دوران موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو لاہور میں نواز شریف کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 سے منتخب کرا کے پارلیمنٹ کا رکن بنا دیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ اسمبلی کے اکثریتی ارکان کا اعتماد حاصل کرکے مستقل وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیں گے جس پر اگلے انتخابات تک جن کے انعقاد میں دس ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے، برقرار رہیں گے۔ یوں وزارت عظمیٰ شریف خاندان میں رہے گی اور اس کی حکومت کا تسلسل برقرار رہے گا۔ آئینی اور جمہوری نظام چلتا رہے گا۔ نوازشریف اگرچہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے اہل نہیں رہے لیکن آنے والی حکومت کے اصل دماغ اور پارٹی کے غیر متنازع لیڈر کے طور پر اپنا کردار سرانجام دیتے رہیں گے اگرچہ اس دوران میں حکومت کو کئی ایک چیلنجوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مقابلے کی قوتیں کئی داﺅ اور پیچ کھیلیں گی اور برسر اقتدار جماعت کو اس چیلنج کا بھی سامنا ہوگا کہ شہباز شریف کی جگہ لینے والا پنجاب کا اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا۔ ان گوناگوں مسائل کی وجہ سے نئی حکومت کو کہیں زیادہ بالغ نظری کے ساتھ قوم کی کشتی کو آگے لے کر چلنا اور ہر قسم کے بحرانوں کی زد سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ وہ ان سے کس طرح عہدہ برآ ہوگی۔ آئندہ انتخابات میں اس کی کامیابی کا بہت کچھ انحصار اسی کارکردگی پر ہوگا۔
توقع کرنی چاہئے کہ نواز عہد میں پاکستان کی معیشت نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان میں اضافہ ہوگا جو کمزوریاں باقی رہ گئیں انہیں دور کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ بجٹ کا خسارہ دور کرنے کے اقدامات تیز ہوں گے اور برآمدات کو بڑھانے کی بھی ہر ممکن تدبیر اختیار کی جائے گی۔ ترقیاتی کاموں کی رفتار جاری رہے گی اور عام آدمی کی خوشحالی کی منزل کو قریب تر لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اس میں شک نہیں کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت برقرار رہے گی اگرچہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے حکمران پارٹی کے حوصلوں میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن کامیاب قوموں، گروہوں اور افراد کا وتیرہ یہی ہے کہ وہ ایک مرتبہ گرنے کے بعد پوری قوت سے کھڑے ہوجاتے ہیں اور پوری پامردی کے ساتھ اپنی راہ عمل پر گامزن رہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو اسی قسم کے حالات کا سامنا ہے لیکن اسے درپیش مشکلات پر پہلے سے بھی زیادہ بالغ نظری اور ہوش مندی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔ نئے وزیراعظم کو اگرچہ اپنے قائد نوازشریف کی ہدایات اور مشورے ملتے رہیں گے تاہم اصل امتحان ان کی اپنی صلاحیتوں کا ہوگا۔ نوازشریف کے بارے میں ابھی معلوم نہیں کہ وہ ایک مرتبہ کیلئے نااہل ہوئے ہیں یا تاحیات۔ اس معاملے میں آئینی و قانونی ماہرین کی رائے بٹی ہوئی ہے۔ اس لئے ان کے جانشینوں کو کہیں زیادہ بہتر طریق عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ سخت ترین حالات میں ایک متحد جماعت کے طور پر سیسہ پلائی ہوئی دیور بن کر کھڑے رہیں۔ اپنی صفوں میں انتشار و افتراق کو در نہ آنے دیں اور مخالفین سمیت ساری دنیا کو بتا دیں کہ وہ آئین کی سربلندی، جمہوریت کے تسلسل اور قوم کی معاشی ترقی کیلئے اسی طرح چٹان بن کر کھڑے ہیں جس طرح ان معزول ہوجانے والا لیڈر ان باتوں کی علامت بن گیا تھا۔ اس کے برعکس اگر کچھ افراد نے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کی خاطر پارٹی کے اندر دراڑیں پڑ جانے کی راہ ہموار کی تو خود اپنے آپ کو بھی صحیح راستے سے اکھاڑ پھینکیں گے اور جماعت بھی اپاہج ہونا شرع ہوجا ئے گی جس کا فائدہ لامحالہ غیر جمہوری قوتوں اور حکمران جماعت کے سیاسی مخالف اٹھائیں گے لہٰذا وقت کا تقاضا ہے اور ملک و قوم کا وسیع تر مفاد متقاضی ہے کہ حکمران جماعت کو متحد و متفق رکھا جائے اور کسی طور پر اپنی صفوں میں انتشار در نہ آنے دیں۔ صرف اسی صورت میں وہ آئندہ انتخابات جس میں اس ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے کہ موقع پر سخت مخالفین کا مقابلہ کرنے میں کامیابی حاصل کر پائیں گے۔ بصورت دیگر ان کی جماعت پگھلنا شروع ہوجائے گی۔ سیاسی جماعتوں کو لامحالہ اس کا فائدہ پہنچے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالتی فیصلے اور وزیراعظم نوازشریف کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے قائدین مسلم لیگ (ن) کی حالات کے چوراہے پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی اگلی منزل کا سفر کتنی استقامت اور راست بازی کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔ اسی میں نوازشریف کی بے دخلی کے باوجود انہیں اپنے عزائم کی تکمیل میں فائدہ حاصل ہوگا لہٰذا آنے والا دور یہ بتانے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گا کہ مسلم لیگ (ن) درپیش آزمائش پر کتنا پورا اتری۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

“دھنک کے رنگ تمہارے بھی ہیں ہمارے بھی”

  “دھنک کے رنگ تمہارے بھی ہیں ہمارے بھی” دھنک لندن کا ہفتہ وار شمارہ ...