بنیادی صفحہ » اداریہ » پارلیمانی کمیٹی کا قیام: مستحسن فیصلہ!!!

پارلیمانی کمیٹی کا قیام: مستحسن فیصلہ!!!

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر ان کی اپنی پارٹی کی ایک رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات گزشتہ روز قومی اسمبلی میں زیر بحث رہے۔ وفاقی کابینہ کے حلف اٹھانے کے بعد جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اس میں عائشہ گلا لئی بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک رکن اسمبلی نے اپنی پارٹی کے سربراہ پر بعض الزامات لگائے ہیں۔ جن پر الزامات لگائے گئے ہیں وہ بھی اسمبلی کے رکن ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کا معاملہ ہے، گالی گلوچ کے ذریعے ایوان کے تقدس پر حرف نہیں آنا چاہےے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں عائشہ گلا لئی کی طرف سے سکیورٹی کے حوالے سے خط کا علم ہوا ہے۔ جس پر آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ ان کو بھرپور سکیورٹی دی جائے۔ ایوان کی ایک ممبر نے دوسرے پر الزام لگایا ہے جس نے الزام لگایا ہے اس کا احترام کرتے ہیں اور جس پر الزام لگایا گیا ان کا بھی احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں تجویز پیش کی کہ ہاو¿س کا معاملہ ہاو¿س میں ہی حل ہونا چاہےے۔ گزارش ہے کہ ایوان کے تقدس کا مسئلہ ہے اس لیے پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی بنا دیں جو ”ان کیمرا“ تحقیقات کرے۔ میں تیس سال سے اسمبلی میں ہوں اس سے پہلے ایسی بات بھی نہیں ہوئی۔ ایوان کی کمیٹی ایک ماہ میں تحقیقات کرکے رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ کمیٹی میں تمام پارٹیوں کے ارکان ہوں گے اور اس کی رپورٹ پر تمام معاملہ سامنے آجائے گا۔ وزیراعظم کی تجویز کے بعد ایم این اے عارفہ خالد نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے قرار دادا یوان میں پیش کی جو تمام جماعتوں نے منظور کر لی تاہم تحریک انصاف نے کمیٹی کے لیے قرار داد کی مخالف کی۔ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کمیٹی تشکیل دیں گے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے حکمران مسلم لیگ (ن) سے 13 اور اپوزیشن لیڈر سے سات ارکان کے نام طلب کر لیے ہیں تا کہ کمیٹی تشکیل دی جا سکے۔ تحریک کے مسودے کی تیاری کے دوران تحریک انصاف نے ایوان میں شدید احتجاج کیا اور عائشہ گلالئی کے الزامات کو جھوٹ قرار دیا۔ لیگی خواتین نے عائشہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پیپلزپارٹی کی شگفتہ جمالی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ عائشہ گلا لئی کے معاملہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاتون رکن کی کردار کشی اور میڈیا ٹرائل قابل مذمت ہے۔ اب دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اس کا گھر جلائیں گے، اس پر تیزاب پھینکیں گے ۔ اگر دوسرے معاملات پر جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو اس پر کیوں نہیں۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی جو تضحیک ہو رہی ہے وہ قابل مذمت ہے۔ حکومتی رکن ماروی میمن نے کہا کہ عائشہ گلا لئی نے جرا¿ت کا مظاہرہ کیا ہے، اس پر ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی جانتی ہے یہ بات درست ہے لیکن یہ اپنی سیٹیں بچانے کے لیے خاموش ہیں۔ جب شیریں مزاری کے ساتھ معاملہ ہوا کتنا ایشو بنایا گیا۔ یہ معاملہ اتنا چھوٹا نہیں ہے۔ طوفان بھی اتنا ہی بڑا ہو گا بات بہت آگے تک جائے گی۔ جواب میں تحریک انصاف کی شریں مزاری نے کہا کہ جب میرے حوالے سے حکومتی رکن کی طرف سے برا بھلا کہا گیا تو اس وقت مسلم لیگ (ن) کی خواتین کیوں خاموش تھیں ۔ ماروی میمن نے میرے خلاف گالم گلوچ کی ہے یہ رویہ نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عائشہ کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کرے تا کہ جس پر الزام ہے اسے سزا ملے۔ عمران خان پر جھوٹا الزام لگا تو تمام حکومتی ارکان کو عزت یاد آ گئی۔ پیپلزپارٹی کی نفیسہ شاہ نے کہا کہ الزام انتہائی سنجیدہ ہے۔ یہ اس ایوان کے دو ارکان کے درمیان معاملہ ہے ان کیمرا تحقیقات ہونی چاہےے۔ جے یو آئی کی نعیمہ کشور نے کہا کہ زیادہ بحث نہ کی جائے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے کہا کہ معاملہ کی انکوائری کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔ قرار داد کی منظوری کے بعد سپیکر نے مسلم لیگ (ن) کے شیخ آفتاب احمد اور قائد حزب اختلاف سے کمیٹی کی رکنیت کے لیے نام طلب کر لیے۔ پی ٹی آئی کے رہنماو¿ں نے بعد میں ایک پریس کانفرنس میں کمیٹی کی مخالفت کی۔ شفقت محمود نے کہا کہ جہاں ہمارے مخالفین ہوں گے انصاف پر مبنی فیصلہ آ سکے گا تاہم رات گئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عائشہ گلا لئی کے الزامات پر پارلیمنٹ کی کمیٹی کے قیام کا خیر مقدم کیا ۔ ایک بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ آدھا پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہے اور وزیراعظم کے نزدیک یہ معاملہ زیادہ اہم ہے اور انہوں نے پہلا حکم میرے خلاف جاری کیا۔ عمران نے کہا کہ سپریم کورٹ میں میرے اور میری جماعت کے خلاف کیسز ناکام ہو گئے ہیں اب لیگ اور دیگر جماعتیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنا چاہتی ہیں انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ الزامات کا ماہرین کے ذریعے فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلا لئی تین افراد سے رابطے میں تھیں توقع ہے کہ تینوں شخصیات اور عائشہ کے والد کا موبائل کا بھی فرانزک آڈٹ ہو گا۔ کارکنوں کا جتنا بھی مرضی سیاسی استحصال کریں کرپشن کے خلاف جنگ نہیں رکے گی۔ عائشہ گلا لئی کے الزامات پر پارلیمانی کمیٹی قائم ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث اب ختم ہو جانی چاہےے اور تمام افراد اب پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں۔ عائشہ گلا لئی نے ایک سینئر صحافی کو خود کو ملنے والے کچھ میسج دکھائے ہیں۔ جس سے معاملے میں سنجیدہ صورت آ گئی ہے۔ ہمارے نزدیک پارلیمانی کمیٹی ہی اس کا بہترین حل ہے۔ اگر عمران پر غلط الزام لگائے گئے ہیں تو الزام لگانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تا کہ آئندہ کسی کو ایسی جرا¿ت نہ ہو۔ اگر الزام درست ثابت ہو تو پھر عمران خان جیسے عائشہ گلا لئی کے الفاظ میں بد کردار اور ایسے سیاستدان کو جس کی محفل میں بہنوں، بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں قومی زندگی کے مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دینا چاہےے تا کہ آئندہ کے لیے عبرت کی مثال قائم ہو اور کسی اور کو ملک کی اجتماعی زندگی میں خواتین کی قربت سے ناجائز فائدہ اٹھاکر نازیبا حرکات کی جرا¿ت اور ہمت نہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے کمیٹی کو تسلیم کر کے ایک بہتر اقدام کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس کے نتائج ان کے حق میں ہوں یا مخالفت میں صدق دل سے تسلیم کرلیں گے کیونکہ اسی میں قوم کی بھلائی ہے۔ عائشہ گلا لئی نے کمیٹی کے سامنے تمام ثبوت پیش کرنے کا کہا ہے اور کہا ہے کہ وہ تمام ثبوت سامنے لے کر آئیں گی تاہم وہ عمران سے کہتی ہیں کہ وہ ان معاملات پر معافی مانگ لیں تو وہ ان کو معاف کر دیں گی۔ ابھی ان کے پاس موقع ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا لیں۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

“دھنک کے رنگ تمہارے بھی ہیں ہمارے بھی”

  “دھنک کے رنگ تمہارے بھی ہیں ہمارے بھی” دھنک لندن کا ہفتہ وار شمارہ ...