بنیادی صفحہ » اداریہ » یوم آزادی، سی پیک اور جمہوریت!!!

یوم آزادی، سی پیک اور جمہوریت!!!

کنونشن سنٹر اسلام آباد میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ’ قوم توقع رکھتی ہے کہ قائدین گروہی مقاصد سے اوپر اٹھ کر ملک کے مستقبل کی نگہبانی کریں، کشیدگی کے ماحول میں جوش پر ہوش غالب نہ آیا تو اقتصادی احیا کا خواب پورا نہ ہو سکے گا‘۔انہوں نے کہا ’وطن کو درپیش چیلنجز پر غیر جذباتی انداز میں توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ترقی و خوشحالی کے لئے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’قومیں اپنے مستقبل پر نظر رکھتی ہیں اور جو قومیں خوشی اور مسرت کے لمحات میں مستقبل کو بھول بیٹھتی ہیں تو ایسی قوموں کے لئے بربادی کے سوا کچھ نہیں، نظام حکومت کے بارے میں عوام کی بے چینی پر ضرور توجہ دینی چاہئے، قومی معاملات میں فکر قابل تحسین ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے ضروری ہے کہ معاملات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھنے کے بجائے اسے درست تناظر میں دیکھا جائے، قومی ترقی اور استحکام کا راستہ قومی بلوغت سے ہموار ہوگا، وطن عزیز کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے ایسے میں نوجوان دانشمندی کا مظاہرہ کر کے قومی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن جائیں‘۔ بعد ازاں اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے ایئرشو کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ ” یہ عظیم ملک روز اول سے ہی دشمن کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے، دشمن نے ملک کے مختلف گوشوں میں دہشت گردی شروع کرا دی“۔ فضائی مظاہرے کابہترین پہلو جے ایف 17 تھنڈر کی کارکردگی تھی، پاک فوج نے دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کرکے دشمن کے دانت کھٹے کردیئے، اس جنگ میں پاک فضائیہ کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے، کوئی بیرونی یااندرونی سازشیں ہمارے جذبوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتیں، یقین ہے دفاعی خودمختاری کی کاوشیں اسی جذبے کے ساتھ جاری رہیں گی،معاملات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھنے کے بجائے اسے درست تناظر میں دیکھا جائے‘۔واضح رہے کہ اس تقریب کے مہمان خصوصی چین کے نائب وزیراعظم تھے۔ یہ امر لائق تو جہ ہے کہ 70 ویں یوم آزادی کی تقریب میں چین کے نائب وزیراعظم کی بطور مہمان خصوصی شرکت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ سابق وزیراعظم کی تبدیلی کے بعد بعض حلقوں میں شکوک و شبہات کی فصل کاشت کرنا شروع کر دی گئی تھی کہ پاکستان نے اپنے قابل اعتماد، دیرینہ ، آزمودہ اور عظیم ہمسایہ ملک چین کے اشتراک و تعاون سے سی پیک کے جس شاندار منصوبے کا آغاز کیا تھا، کہیں اس کی تکمیل معرض خطر میں نہ پڑ جائے لیکن چین کے نائب وزیراعظم نے پاک فضائیہ کے ایئرشو کی اختتامی تقریب میں شرکت کر کے چینی حکومت اور عوام کی نمائندگی کی۔ ان کی اس نمائندگی سے یہ منفی تاثر کلیتاً زائل ہو گیا۔ ان کی تقریب میں موجودگی نے بزبان حال یہ پیغام دیا کہ پاکستان اور چین کی دوستی مستحکم بنیادوں پر استوار ہے اور نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کر کے ثابت کیا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور عوام مشترکہ مقاصد اور منصوبوں کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہیں اور کسی طور پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ یوم آزادی کی تقریب میں چین کے نائب وزیراعظم کی شرکت نے ان بین الاقوامی قوتوں کو بھی واضح پیغام دیا ہے کہ جو سی پیک جیسے منصوبے کی بحسن و خوبی اور بر وقت تکمیل کو اپنے مذموم مفادات کی راہ میں کوہِ گراں سمجھتے ہیں۔ یہ وہ قوتیں ہیں جو میاں محمد نواز شریف کی سبکدوشی کے بعد باطنی سطح پر مسرت محسوس کر رہی تھیں اور یہ تصور کئے رہتی تھیں کہ ایوان اقتدار سے اُن کی رخصتی کے بعد شاید حکومت پاکستان کا خطے کا اقتصادی نقشہ بدل دینے والے اس منصوبے کی رفتارِ کار سست پڑ جائے گی اور شاید یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ بحمد للہ! اُن کی خواہشوں پر اوس پڑ چکی ہے اور چین سے آنے والے مہمان عظیم بھی پیغام دے کر اپنے وطن روانہ ہو رہے ہیں کہ سی پیک اور پاک چین دوستی کے تحت چلنے والے دوسرے منصوبوں کی گاڑی اپنی پٹری پر رواں دواں رہے گی۔ اب یہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ذمہ داری اور فرض اولیں ہے کہ وہ اس مشن کی تکمیل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ یہ امر خوش آثار ہے کہ سی پیک سے متعلقہ وزارت بھی وزیراعظم کے پاس ہے، اس تناظر میں اُن کی ذمہ داری بھی دو چند ہو جاتی ہے۔ یوم آزادی کی اس تقریب میں صدر مملکت ممنون حسین نے پرچم کشائی کی رسم بھی ادا کی۔ اس موقع پر انہوں نے علامہ اقبالؒ ، قائداعظمؒ اور دیگر عظیم قومی رہنماو¿ں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اسلامی جذبے اور جمہوری بنیادوں پر جاں گسل جدوجہد کی اور اس عظیم مملکت کے قیام کو ممکن بنایا۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ’جمہوری نصب العین کو موجودہ حالات میں بھی عزم صمیم اور بھرپور قوت کے ساتھ زندہ و تابندہ رکھنا ہے اور اس کے مقاصد کو رو بہ عمل لانا ہے اور آج ہم جن گروہی اور طبقاتی مفادات میں الجھے نظر آتے ہیں، اُن کی وجہ سے جمہوری سفر کو رکاوٹیںدرپیش ہیں۔ ہمیں اُنہیں دور کرنے کے لیے حقیقی منزل کی طرف گامزن رہنا ہے، آئین کی بالادستی اور جمہوری عمل کا تسلسل ہمارا قومی نصب العین ہے، ماضی میں اسے بہت سے صدمے برداشت کرنا پڑے، حال میں بھی اسے کئی چیلنجوں کا سامنا ہے‘۔ اس تناظر میں یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کی تمام قومی و سیاسی قیادت اختلافات کے باوجود نشان منزل کو نہیں بھولی۔ 13 اگست کو آرمی چیف نے بھی واہگہ بارڈر پر جنوبی ایشیا میں پاکستان کے سب سے بڑے پرچم کی رونمائی کرتے ہوئے انہی خیالات کا اظہار کیا اور آئین اور جمہوریت کی شاہراہ پر آگے بڑھتے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ہم یہاں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جمہوریت صرف الفاظ اور ایک خاص آئینی ڈھانچے کا نام نہیں جو بظاہر کھڑا نظر آئے تو ہم یہ کہہ دیں کہ جمہوریت ہمارے ہاں وجود رکھتی ہے۔ جمہوریت دراصل عوام کی حکمرانی کا دوسرا نام ہے۔ تمام ریاستی اور سیاسی ادارے عوامی منشا کے تابع ہیں اور عوام ہی اس ملک کے اصل مالک ہے۔ یہ عوام ہی ہیں جو ایک طے شدہ آئینی مدت کے لیے اپنے ملک کی منتخب حکومت کا انتخاب کرتے ہیں اور اُنہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہی ووٹ کی پرچی کے ذریعے اپنی منتخب کردہ حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ کوئی ادارہ ، کوئی طاقت عوام سے اُن کا یہ حق سلب نہیں کر سکتی۔ شومیِ قسمت کہ گزشتہ 70 برسوں میں 18 بار عوام کی منتخب حکومتیں قائم ہوئیں اور 18 بار ہی ماتحت ریاستی اداروں نے اُنہیں منہدم کر دیا۔ اس دوران جمہوریت کی کشتی نہ صرف بحرانوں کے گردابوں میں ہچکولے کھاتی رہی بلکہ جان لیوا حادثات کا شکار بھی ہوتی رہی۔ 70 ویں یوم آزادی کے موقع پر صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور دوسرے رہنماو¿ں کی تقاریر نے اس احساس و شعور کو بیدار کیا ہے کہ پاکستان کی اصل منزل کیا ہے اور عوام کو جہاں یہ حق حاصل ہے کہ مرضی کی حکومت حاصل کریں وہیں وہ یہ حق بھی رکھتے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے اسے برقرار رکھنے یا گھر بھیجنے کا فیصلہ کریں۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

“دھنک کے رنگ تمہارے بھی ہیں ہمارے بھی”

“دھنک کے رنگ تمہارے بھی ہیں ہمارے بھی” دھنک لندن کا ہفتہ وار شمارہ حاضر ...