بنیادی صفحہ » آج کا سوال » آج کا سوال

آج کا سوال

انسان ٹیکنولوجی کے کنٹرول میں ہے یا ٹیکنالوجی انسان کے کنٹرول میں؟

کون خادم ہے اور کون مخدوم؟

فرقان گوہر   بھکر
پنجاب

تعارف: Admin

ایک تبصرہ

  1. انسان، ٹیکنالوجی اور ان کے ایک دوسرے پر گرفت اور غلامی پر سوال ہے، سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہئیے کہ ٹیکنالوجی اقداری یعنی ویلیولوڈڈ ہے یا غیر اقداری یعنی ویلیو نیوٹرل ہیں، ایک بات تو جدید محققین فلاسفہ کے ہاں مسلم ہے کہ انسان کا کوئی بھی فعل غیر اقداری نہیں ہوتا بلکہ یا تو اقداری ہوتا ہے یا کسی ضرورت کے تابع اور انسانی ضرورت بھی اقدار کے ہی تابع ہوتی ہے اب چاہے اس فعل کو مذہبی آدمی انجام دے یا غیر مذہبی آدمی کیونکہ مذہب کو ماننے والے کی طرح مذہب نہ ماننے والابھی اقدار رکھتا ہے چاہے آپ اسے غیر مذہبی اقدار ہی کا نام دیں، ٹیکنالوجی کے متعلق ہائیڈیگر کی کتابQuestion Concerning Technology بہتر اشارات دیتی ہے کہ اس ٹیکنالوجی نے کس طرح جدید دنیا جو کہ جدیدیت کی کوکھ سے یوپین رینی سان اور تحریک تنویر اور رومانویت کے جلو میں آئی ہے، کے زمان و مکان کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کیا، ہیبر ماس ایک جگہ کہتا ہے کہ یورپ میں ریل گاڑی نے یورپ کے اخلاق پر زبردست اثر کیا اور وہاں کی مخلوق کے اقدار پر بہت اثر انداز ہوئی، اگرچہ ظاہرا ہم ایک مشین کا استعمال اچھا ہو تو اچھی اور استعمال برا ہو تو بری کہہ کر اس سوال کو ٹال بھی سکتے ہیں، جیسے بم اور دیگر جان و امن کش اشیا، یا فلاں کی اچھی چیز لے لو اور جو بری لگے چھوڑ دو کے خوبصورت پر پیچیدہ مفروضے کی مدد سے ہر چیز کے لیے جواز نکال لیتے ہیں، اور اس کے متعلق اقداری اور تہذیبی نوعیت کے سوالات کو دبا دیتے ہیں، اس لیے شاید جدید آدمی کو کسی کہنے والے نے One Dimensional Man کہا ہے ،اب اگر ارد گرد دنیا کو ذرا سی بھی دقت نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے غلام ہیں یا وہ ہماری گرفت میں ہے اور اگر اس کے غلام ہیں تو اس نے ہمارے عمل کے ساتھ شعور پر بھی کیا اثرات وارد کیے ہیں.اور اگر وہ ہماری “کنٹرول” میں ہے تو انسان کی اخلاقیات اوتمدن وغیرہ میں تبدیلی اس کے جو آنے کے بعد ہوئی پہلے کیوں نہ ہو سکی، اس پر تھوڑا سا بھی سوچنے سے نئے احوال کے دریچے ممکن ہے کھل جائیں جو شاید ہماری ہی یک رخی سے بند ہیں.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

بھیگے پَل سے سورج کا اغوا ،، تک کا سفر: (فرخندہ رضوی خندہ ؔ )

مصنف ( سرور ظہیر غزالی ) برلن (جرمنی) اظہار خیال (فرخندہ رضوی خندہ ؔ )برطانیہ ...