بنیادی صفحہ » ادب » ایشیا کی  ادبی تنظیم سندھی ادبی سنگت سندھ کی جانب   سے    عالمی غیر طرحی مشاعرے کا انعقاد

ایشیا کی  ادبی تنظیم سندھی ادبی سنگت سندھ کی جانب   سے    عالمی غیر طرحی مشاعرے کا انعقاد

سندھی ادبی سنگت  کی جانب   سے    عالمی غیر طرحی مشاعرے کا انعقاد

رپورٽ غلام حيدر عمران

ایشیا کی  ادبی تنظیم سندھی ادبی سنگت سندھ واٹس ایپ گروپ سنگت روح رھان کی جانب   سے    عالمی غیر طرحی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر کے سینئر شعرائے کرام نے بڑے زور شور سے حصہ لیا

عالمی غیر طرحی مشاعرے کا آغاز شاہ عبداللطیف بھٹائی کی وائی سے کیا گیا بعد شعرائے کرام نے اپنے اپنے خوبصورت غزل نظم پیش کرنا شروع کیا اور خوب داد و تحسین سمیٹی جن میں محترم عصمت اللہ چانڈیو صاحب کراچی محترم اخلاق عاربانی صاحب گھوٹکی محترم اشوک شرما صاحب عمر کوٹ محترم اشرف علی اشرف صاحب نوشہرو فیروز محترم خادم جسکاٹی صاحب جوہی محترم اختر اترادی صاحب کشمور محترم لطیف ردائی صاحب دادو محترم کعنیو سیواٹی صاحب بھارت محترم محمد حارف لنڈ صاحب گھوٹکی محترم اعظم بھٹی صاحب ٹنڈو محمد خان محترم اللہ بخش آریسر صاحب عمر کوٹ محترم خیال کتری صاحب مٹیاری محترم غلام حسین مغیری صاحب شھدادکوٹ محترم کیمن یو مولاٹی صاحب بھارت محترم باغی بلوچ صاحب رتودیرو محترم ضمیر احمد صاحب گھوٹکی محترم نوردین ساگر صاحب فلجی اسٹیشن محترم ساقی عالم جان صاحب عمرکوٹ محترم معشوق محسن آبرو صاحب مورو محترم ھری چوئٹائی ھری صاحب بھارت محترم مظہر چانگ صاحب پکا چانگ شامل تھے اس خوبصورت محفل مشاعرا کی صدارت واٹس ایپ گروپ کا بانی و چیئرمین سندھی ادبی سنگت شاخ فلجی اسٹیشن کے سابق سیکریٹری جانے مانے کہانی کار شاعر افسانہ نگار بھٹائی کے عاجز محترم جناب ممتاز مصطفی دوست نے سر انجام دیں جب کہ مہمان خاص بھارت کی معروف اور مشہور شاعرہ محترمہ اندر پونا والا شبنم صاحبہ تھی اور پروگرام کے آرگنائزر تھے عالمی اردو محفل کا بانی و چیئرمین محترم جناب میھر خان میھر صاحب اور اس عالی شان محفل مشاعرہ کی نظامت کے فرائض کو بہت ہی خوبصورت انداز کے ساتھ سر انجام دے رہے تھے محترم جناب میھر خان میھر صاحب اور رپورٹ کی ذمہ داری محترم جناب غلام حیدر عمران صاحب نے نبھائیں اور یوں یہ خوبصورت سیکھنے سکھانے کا عمل رات دیر تک جاری اور ساری رہا پروگرام کے آخر میں باقاعدہ صدر مشاعرہ اور مہمان خاص کی جانب سے تاثرات پیش کیے گئے صدر مشاعرہ محترم جناب ممتاز مصطفی دوست صاحب نے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ روایتی غزل سے لے کر کلاسیکل غزل پڑھنے کو ملے جس میں رومانس کے ساتھ ساتھ ہی سماجی زندگی کے عکس نمایاں طور پر نظر آئے ایسا لگا سندھو دریا میں بہتے ہوئے اشتعارہ ہے تشبیح کے موتی نظر آئے اور اس عالی شان محفل مشاعرہ کی مہمان خاص محترمہ اندرا پونا والا شبنم صاحبہ نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ نظامت ایسی خوبصورت انداز کے ساتھ ترتیب سے چل رہی تھی کہ مانو جیسے ہم سب جیسے کسی حال میں پروگرام دیکھ اور سن رہئے ہیں اور اصلاح بھی کر رہے تھے پورے پروگرام میں مجھے یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں کسی پروگرام میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں بیٹھی ہوں اور یے کہا کے جدید دور کے تقاضوں کو دیکھ کر سنگت روح رھان نے مسلسل خوبصورت مشاعر پیش کرکے احساس نازک خیال کے ساتھ دنیا بھر کے سندھی شاعروں کو ایک خوبصورت پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جو قابل ستائش بات ہے جس کی وجہ سے ھذا دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے اور پروگرام کے آخر میں شعرائے کرام نے کہا کہ واٹس ایپ گروپ سنگت روح رھان ذریعے سندھی ادب کی ایک بستی قائم کر دی ہے

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

زندگی اور موت حیات اور ممات:

رپورٹ تنقیدی پروگرام نمبر 199بعنوان حیات و موت تحقیق و تحریر احمدمنیب۔ لاہور پاکستان زندگی ...