بنیادی صفحہ » ادب » عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 201 بعنوان جشنِ بہاراں

عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 201 بعنوان جشنِ بہاراں

عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 201 بعنوان جشنِ بہاراں
رپورٹ : ڈاکٹر ارشاد خان بھارت

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری برقی دنیا میں منفرد ادارہ ہے جو گوناگوں پروگرام منعقد کرتا آیا ہے ۔اس ادارے نے اب تک 200یونیک پروگرام پیش کیے ہیں جو اپنے آپ میں ریکارڈ ہے ۔نہ صرف 200پروگراموں کی ہمالیائی بلندی کو چھو لیا ہے بلکہ تمام تر پروگرام برائے تنقید ہوئے ۔اس ادارے سے جڑے افراد اپنے اپنے شعبے میں ماہر ،ادب کی ہر صنف سخن سے وابستہ اور دنیا کے کونے کونے سے جہاں جہاں اردو کانوں میں رس گھولتی ہے وہاں وہاں سے اس کے شیدائی ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری میں شموليت اختیار کر اردو دوستی کا ثبوت دے رہے ہیں ۔نثر ونظم کی تقریباً تمام اصناف سخن میں انفرادیت سے بھر پور مع نقد ونظر پروگرام منعقد ہوچکے ہیں ۔ادارہ ہذا کے بانی وچیئرمن توصیف ترنل صاحب جو ہر بار کچھ نیا کرنے کی دھن میں رہتے ہیں نام صرف پروگرام برائے تنقید پیش کئے بلکہ مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی انجام دینے پر ایوارڈ اور توصیفی اسناد سے بھی نوازا ۔ایک اور تجربہ ۔۔ایک پروگرام فیس بک پر لائیو ٹیلی کاسٹ ہوا ۔کتب ادارے کے ذریعے اشاعت پذیر ہوئیں ۔۔اور حالیہ ایک تجربہ فیس بک پر بہترین تخلیق کے لیے ووٹنگ سسٹم ۔۔۔مختلف ویب سائٹس ، اخبار وجرائد میں پروگرام کی نشر واشاعت ۔۔اور اگلا قدم ان شاءاللہ یوٹیوب چینل پر تخلیقات کی نشر و اشاعت ۔
ادارہ اب کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔۔ادارے سے جڑے افراد نے اسے وہ مقام عطا کیا ہے کہ دیگر اس سے انسلاک کے خواہاں ہیں ۔۔قابل ستائش اقدامات پر ادارہ اور اس سے منسلک ممبران کی پذیرائی کی جاتی ہے ۔یہ ایک ٹیم ورک ہے ۔۔۔بلکہ یوں کہنا چاہئے بیسٹ اردو پوئٹری ایک خاندان ہے ۔۔جس کا ہر فرد لائق تعظیم اور اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے ۔۔جسے توصیف سر نے مالا میں پروئے رکھا ۔۔ان کے اسی وصف کی جتنی توصیف کی جائے کم ہے ۔

ادارہ ہذا کا پروگرام 201 بعنوان ،،جشنِ بہاراں کی شام ۔۔جگر مراد آبادی کے نام ،،ان کے یوم ولادت کے موقع پر ان سے منسوب ہے ،۔۔۔شہنشاہِ تغزل ۔۔ممتاز ترین قبل از جدید ۔۔شاعروں میں نمایاں ،۔بے پناہ مقبول ،مترنم لب ولہجے کے لیے مشہور ۔۔جورندانہ سرمستی میں کہہ اٹھے ،
پہلے شراب زیست تھی ،اب زیست ہے شراب
کوئی پلا رہا ہے ،پیئے جارہا ہوں میں
محبت کا وسیع تر مفہوم دیکھیے ،
اک لفظ محبت کا اتنا سا فسانہ ہے
سمٹے تو دل عاشق ،پھیلے تو زمانہ ہے
وہ صحیح معنوں میں اسے فاتح قرار دیتے ہیں ،
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ

یہ جشنِ بہاراں موسم بہار میں منعقد کیا گیا ۔۔۔جسے اردو شعرا نے مختلف مفاہیم دیے،
جوش نے اپنی ایک نظم میں یہ خوبصورت مصرع نظم کیا ،

خزاں کہیں گے پھر کسے ؟اگر یہی بہار ہے

تو فیض نے یوں خامہ فرسائی کی ،

گلوں میں رنگ بھرے ذکرِ نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
ایک شاعر نے یوں بیان کیا ،
ہوا بھی یہ اقصائے عالم میں پکار آئی
بہار آئی ،بہار آئی ،بہار آئی ،بہار آئی
تو میر یوں گویا ہوئے ،

چند موج ہوا پیچاں اے میر نظر آئی
شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی
علامہ کا نقطۂ نظر ملاحظہ ہو ،
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لاالٰہ الا اللہ

غرض اردو شعرا نے بہار پر بہترہے پر بہار اشعار کہے۔۔ادارے کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ عصر حاضر کے قلمکار مجوزہ عنوان پر قلم کی جولانیاں دکھائیں ۔۔اور تنقید کے گلخن سے گزر مثل کندن دمکیں۔۔ادارہ ہمیشہ ہی قلمکاروں کی بوقلمونی کا معترف اور اردو ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے ۔۔کہ وہ انجماد کو قائل نہیں وہ سدا متحرک اور جدید تقاضوں سے لیس رہا ہے ۔۔حالیہ پروگرام جس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

کبھی اس پر خزاں نہیں آئی
دل عجب عالمِ بہار میں ہے
احمدمنیب۔ لاہور پاکستان

ہم تو خزاں کے ساتھ ہی جی لیں گے شوق سے
گلشن میں اب بہار نہیں ہے تو کیا ہوا
اصغر شمیم بھارت

چلو کہ جشن_ بہاراں منائیں ہم اشرف
وگرنہ لوگ کہیں گے بجا نہیں صاحب
اشرف علی اشرف پاکستان

زخم دل مشک بار میں نے کیا
یوں خزاں کو بہار میں نے کیا
تھذیب ابرار بجنور انڈیا

ہے “صدف”بھى ارغوانى چمپئ رنگوں میں آج
ہو رہا ہے یہ گماں جانے بہار آنے کو هے
صبیحہ صدف بھوپال بھارت

ہوا بھی مشک بار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں یہ وہی بہار ہے
ڈاکٹر ارشاد خان بھارت

لمس_یاراں سے برگ وبار هوئ
عین پت جھڑ میں نوب ھار ھوئ
ماورا سید کراچی پاکستان

میرے چہرےپہ محبت کی جھلک آجائے
ذکرِ دشمن بھی اگر میری زباں تک پہنچے
ضیاء شادانی بھارت

لوگ آساں سمجھتے ہیں. مگر مشکل سے
کوئی غالب کوئی اقبال و جگر بنتا ہے
اتنا آساں نہیں بستی کو بسانا اے “صبا”
بنتے بنتے ہی کہی جاکے نگر بنتا ہے
نسیم خانم صبا معلمہ کوپل بھارت

نوک پر کانٹوں کے رکھ کر اک کلی نے اپنے لب
یوں بھی بدلا ہے بہاروں میں خزاؤں کا مزاج
ڈاکٹر مینا نقوی مراداباد بھارت

واحد وہ ذات جس کا ہرگز نہیں ہے ثانی
اس کے کرم سے یارو ہر ایک کامرانی
عامرحسنی ملائیشیا

بیت جائے نہ پیار کا موسم
ہے ابھی تک بہار کا موسم
جعفر بڑھانوی بھارت

چمن میں جھونکا ہوا کا خرام کرتا ہے
کلی سے پھول سے دلکش پیام کرتا ہے
زمیں کے جسم پہ یہ ارتسام کرتا ہے
نظر و دل و زباں سے کلام کرتا ہے
ہمیں بہار کا موسم سلام کرتا ہے
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

خدا کرے ترے دل کو قرار آ جائے
ہوا چلے کبھی ایسی، بہار آ جائے
ڈاکٹر شاھد رحمان فیصل آباد

ہر طرف اِک نکھار آیا ہے
موسمِ نو بہار آیا ہے
دیکھ کر نو شگفتہ پھولوں کو
تِتلیوں کو قرار آیا ہے
سارے بَھنورے ہیں مَحوِ جشنِ بہار
ہر کلی پر نکھار آیا ہے
روبینہ میرجموں کشمیربھارت

اس کو سوچا ہے، اس کو لکھا ہے
سانس میری بحال ہے یعنی
دل کی دھڑکن خبر یہ دیتی ہے
دل کے اندر دھمال ہے یعنی
اطہر حفیظ فراز فیصل آباد، پاکستان

خزاں رت کو بہار کر دوں
کیا ایسا میں یار کر دوں؟؟
سمی شاہد

لوگ مجھ سے نگاہیں چرانے لگے
جب سے میرا قلم آٸینہ ہوگیا
اظہر عاطف، ناندورہ (مہاراشٹر)

ملے یہ پیار کی راحت تجھے زمانے میں
دیے خوشی کے جلیں تیرے آشیانے میں
ساجدہ انور کراچی پاکستان

جا چکی ہے اب خزاں جشنِ بہاراں کیجئے
آئیے جم کر یہاں جشنِ بہاراں کیجئے
مختلف عنوان پر دو سَو مکمل ہو چکے
آج دو سَو ایک واں جشنِ بہاراں کیجئے
گلشنِ اردو ادب میں آ گئی فصلِ بہار
آئیے اب تو میاں جشنِ بہاراں کیجئے
مختار تلہری بھارت

بہار آتی ہے جب بھی نفیسؔ گلشن پر
تو حاسدین کے چہرے اترنے لگتے ہیں
نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)

خطبۂ

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین…..
بعد الحمد…،
درود و سلام ہو نبیِ کریم ﷺ پر اور
ان کی آل و اصحابِ کرامؓ پر….

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے
بانی و چیئرمن محترم توصیف ترنل صاحب
صدرِ ادارہ عالی وقار….،
محترم مسعود حسّاس صاحب قبلہ….
معتبر انتظامیۂ ادارہ….،
معزّز شعرائے کرام اور ناظرینِ محفل….

اَلسَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

احبابِ ذی وقار
آفاقِ ادب کے اِس درخشاں سَیّارے پر…، عظیم المرتبت تابندہ سِتاروں کے درمیان مجھ خاکسار و ہیچ مداں ذرّے کو مسنَدِ صدارت سونپی گئی… حتّٰی کہ کسی اعتبار میں خود کو اِس قابل نہیں پاتا… باوجود اِس کے مجھ نااہل کو محفلِ کاملین میں اعزازی نشست کا دِیا جانا یقیناً یہ امر انتظامیہ کی کشادہ دلی کا مظہر ہے… مجھ طفل مکتب کی حوصلہ افزائی کے لئے اٹھایا گیا خوش آئند قدم ہے اور ساتھ ہی محبّانِ نفیسؔ کی محبّت کا نایاب و نادر تحفہ بھی…*
*احباب…، مجھ ادنیٰ طالبِ علم کی کیا بساط کہ جہانِ ادب کی ارفع و اعلیٰ بزرگوار شخصیات کی موجودگی میں خطبۂ صدارت پیش کر سکوں… اس لئے ناچیز کی اس تحریر کو محض اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی سمجھے نہ کہ خطبۂ صدارت

بہ فضلِ رَب تعالیٰ…، ادارے کے بنیادی دَور سے ہی
مجھے اِس سے جُڑنے اور خدمتِ اردو ادب کرنے کا موقع مِلا… بعد ازاں ناچیز کی ادنیٰ خدمات کو سَراہتے ہوئے سابقہ انتظامیہ کی متّفقہ رائے سے محترم توصیف ترنل صاحب نے مجھ نااہل کو پہلے گروپ ایڈمن بنایا اور پھر انتظامیہ میں بھی شامل کِیا… جس کے لئے میں ان کا صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کرتا ہوں… دوستوں ادارے میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے سبب بڑی ذمّہ داری کے ساتھ یہ بات کہتے ہوئے فخر محسوس کررہا ہوں کہ فروغِ اردو ادب اور اِس کی ترقی و ترویج کے لئے ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
اپنے روزِ اوّل سے ہی سَرگرمِ عمل رہا ہے…

دوستو…، معیاری تنقیدی پروگرامز ادارے کی انفرادیت مع کامیابی کا وطیرہ گردانے جاتے ہیں… جن کے ذریعے دنیا بھر کے قلمکار مستفید ہورہے ہیں… ادارے سے منسلک سخنورانِ عالم میں جہاں اردو، عربی، فارسی کے علاوہ سرائیکی، پنجابی، ترکی، رومن وغیرہ زبانوں پر مہارت رکھنے والے استاد شعراء و ادباء موجود ہیں تو وہی خال خال ایسی شخصیات بھی جلوہ فگن ہیں جو اپنے آپ میں کسی ادبی انجمن سے کم نہیں…، جن میں سَرِ فہرست محترم مسعود حسّاس صاحب قبلہ، محترم شفاعت فہیم صاحب، محترم شہزاد نیّر صاحب، محترم احمد منیب صاحب وغیرہ شامل ہیں… جو اپنے علم و فن کے دریا بہا کر طفلِ دبستان کو نہایت ہی مشفِقانہ انداز میں سَیراب فرمارہے ہیں…

ادارے کی یہ کارکردگی بھی لائقِ ستائش اور قابلِ تقلید ہے کہ ادارۂ ھٰذا نہ صرف فروغِ اردو ادب کے لئے کوشاں رہتا ہے بلکہ ادبی تخلیقات شائقینِ ادب تک پہچانے کے لئے برقی دنیا کے تمام تر وسائل بروئے کار لاتا ہے… اور ساتھ ہی قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھیں مختلف النوع اسناد بھی عطا کرتا ہے… جس میں یقیناً مزید بہتری کی گنجائش باقی ہے…

غرض کہ ادارۂ ھٰذا جدّت پسندی کے ساتھ ساتھ اس تکنیکی دَور کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے خدمتِ اردو ادب انجام دے رہا ہے… اور آج اپنے ہفتہ وار انعقادات کی ۲۰۱ ویں منزل “جشنِ بہاراں” کو بحسن و خوبی کامیابی کے ساتھ طے کرچکا ہے… جس کے لئے نہ صرف بانئ ادارہ توصیف ترنل صاحب اور ادارے کی انتظامیہ قابلِ مبارکباد ہیں بلکہ منتظمیںِ محافل، ناقدین و مبصّرین، شعرائے عالَم، صحیفہ نگار، ناظرینِ کرام جیسے وہ تمام تر افراد مبارکباد کے مستحق ہیں جو اپنی ذاتی مصروفیات، درد و غم، پریشانیاں، چین و سکون، لمحۂ نشاط وغیرہ سب کچھ بالائے طاق رکھ کر محفل کو کامیاب کرنے کے لئے بے لوث خدمات انجام دیتے آئے ہیں… یقیناً اِس کامیابی کا سِہرا ادب کے ان تمامی جیالوں کے سَر جاتا ہے… اور ادب کے اِنھیں سپاہیوں کو ایک محاذ پر قائم رکھنا یہ محترم توصیف ترنل صاحب کا کمال ہے

آج کی اس ۲۰۱ ویں محفل “جشنِ بہاراں” جو کہ استاد الاساتذہ محترم جگر مرادابادی سے منسوب کیا گئی ہے میں اس میں شریک تمامی سخنورانِ عالم اور محبّانِ اردو کو مبارکباد پیش کرتا ہوں… واقعی تمامی شعرائے کرام نے موضوع کی مناسبت سے عمدہ ترین کلام پیش کِیا جس کے لئے تمامی قلمکار مبارکباد کے مستحق ہیں… مجھ طفل مکتب کو اپنی قلبی داد و تحسین اور دعاؤں سے نوازنے کے لئے آپ کا از حد ممنون ہوں… ناظمِ مشاعرہ محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ کا منفرد لب و لہجہ بھی مبارکباد کا مستحق ہے… ساتھ ہی ایک بار پھر مجھ خاکسار و ہیچ مداں کو مسندِ صدارت کے اہل سمجھنے کے لئے بانئ ادارہ توصیف ترنل صاحب اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں… بالخصوص محترم مسعود حسّاس صاحب قبلہ، پروگرام آرگنائزر محترم احمر جان صاحب اور دیگر محبّانِ نفیسؔ کا صمیمِ قلب سے ممنون و شکر گزار ہوں… یقیناً…،
یہ اللّہ کریم کا احسانِ عظیم ہے کہ
اُس نے اِس انہماکی دور میں بھی
آپ جیسے چند سہی مگر
اہلِ علم و نظر اور مخلص دوست
مجھ گنہگار کی جھولی میں ڈال رکھے ہیں…
اللّہ کریم سے دعا کرتا ہوں کہ ادارۂ ھذا اور اس سے منسلک احباب کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے… آمین
والسلام…..
احقرالعباد….نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)

اس خوبصورت پروگرام کے آرگنائزر تھے احمر جان صاحب ۔۔لائیو رپورٹ پیش کی ادارے کے بانی و چیئرمین توصیف ترنل صاحب نے ۔۔صدر نشین تھے نفیس احمد نفیس صاحب ۔۔مہمانان خصوصی تھے ۔۔اظہر عاطف صاحب اور ساجدہ انور صاحبہ جبکہ مہمانان اعزازی تھے ۔۔ڈاکٹر سمی شاہد صاحب اور صبیحہ صدف صاحبہ ۔۔اور سب سے بڑھ کرجاذبیت سے بھر پور گرافکس ڈیزائن کی تھی صابر جاذب صاحب نے ۔۔ناقدین کے فرائض ۔۔شفاعت فہیم صاحب ،مسعود حساس صاحب ،غلام مصطفیٰ دائم صاحب ،نعیم جاوید صاحب وامجد شاہ صاحب نے انجام دیے۔۔
حمد کا نذرانہ پیش کیا عامر حسنی صاحب ونسیم خانم صبا صاحبہ نے ۔۔رسالت مآب میں ہدیۂ نعت پیش کیا نفیس احمد نفیس صاحب نے ۔
اس کے بعد شعرا نے پر بہار خامہ فرسائی کی ۔۔نمونہ کلام آپ دیکھ چکے ہیں ۔
خوبصورت نظامت سے محفل میں بہار کا سماں پیش کیا صبیحہ صدف صاحبہ نے ۔۔اس خوبصورت پروگرام کا اختتام خطبۂ صدارت پر ہوا ۔۔۔ایک اور کامیاب پروگرام پیش کرکے ادارے نے ایک اور سنگِ میل عبور کیا ۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

زندگی اور موت حیات اور ممات:

رپورٹ تنقیدی پروگرام نمبر 199بعنوان حیات و موت تحقیق و تحریر احمدمنیب۔ لاہور پاکستان زندگی ...