بنیادی صفحہ » اوورسیز کمیونٹی » جرمنی میں تشدد کے بعد سولہ سالہ پاکستانی لڑکے کو قتل کر دیا گیا
Munawar_Shahid_Itly

جرمنی میں تشدد کے بعد سولہ سالہ پاکستانی لڑکے کو قتل کر دیا گیا

Munawar_Shahid_Itly
جرمنی کے شہرسیبروکرمیں مقامی تشدد کے بعد ہلاک ہونے والے سولہ سالہ پاکستانی لڑکے سید حسن آفتاب الحسن کے بارے میں مزید اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔پاکستانی کمیونٹی کے ذرائع کے مطابق سوموار کی شام دریا کے کنارے جرمن لڑکوں اور افغانی لڑکے کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہاتھا پائی تک جا پہنچی اورمقامی لڑکوں نے افغانی لڑکے پر تشدد شروع کردیا وہاں موجود سولہ سالہ پاکستانی لڑکے سیدحسن آفتاب الحسن نے ان کے درمیان لڑائی کو روکنے کی کوشش کی تو اس پر بھی تشدد شروع کردیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا بعد ازاں اس کو اور افغانی لڑکے کو نیم بےہوشی کی حالت میں نہر میں پھینک دیا گیا تھا،موقع پر موجود لوگوں کی طرف سے اطلاع ملنے پر پولیس کی بروقت کاروائی سے شدید زخمی پاکستانی بچے کو نہر سے نکال کر طبی امداد کے لئے فوری طور پر ہسپتال میں پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے رات گیارہ بجے مقامی ہسپتال میں وفات پاگیا۔زخمی ہونے والے افغانی لڑکے کا نام آفتاب خان بتایا جاتا ہے اور وہ اب پراسرار طور پر گھر سے غائب ہے اور اہل خانہ نے اس بارے خاموشی اختیار کر رکھی ہے مقامی جرمن میڈیا میں یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ افغان لڑکے کا مقامی لڑکوں کے ساتھ منشیات کے معاملہ میں تلخ کلامی ہوئی جس نے بعد ازاں ایک خطرناک لڑائی کی شکل اختیار کرلی، تشدد سے ہلاک ہونے والا پاکستانی لڑکا میٹرک کلاس کا طالب علم تھا ۔اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی پولیس نے باقاعدہ اپنی تفتیش شروع کردی ہے اور اس کا آغاز اسی اسکول سے کیا گیا جہاں یہ سب لڑکے پڑھتے تھے ۔اطلاعات کے مطابق پولیس نے ایک لڑکے کو گرفتار کرلیا ہوا ہے جب کہ دیگر چار کو رہا کیا ہوا ہے لیکن وہ پولیس کی نگرانی میں ہیں۔ پاکستانی لڑکے کی نعش تاحال ضروری کاروائی کے لئے پولیس کے قبضے ہی میں ہے۔نہر کے کنارے جہاں پاکستانی لڑکے کو قتل کیا گیا وہاں اعزیزواقارب کے علاوہ مقامی لوگ بھی تعزیت کرتے ہوئے پھول رکھ رہے ہیں
اس اندوہناک واقعہ پر پاکستان جرمن پریس کلب فرینکفرٹ اور برلن میں مقیم میاں متین دیگر سیاسی و سماجی راہنماوں نے بھی نہ صرف شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے بلکہ وہاں مقیم پاکستانیوں خصوصا ہلاک ہونے والے لڑکے کی فیملی کا ہر طرح کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں فیملی کی مالی مدد کے علاوہ فری لیگل امداد بھی شامل ہے۔برلن سے پاکستانی نژاد معروف بیرسٹر حبیب محمد علی نے خصوصی طور پر آج سار بروکن کا دورہ کیا، اور مقتول کی والدہ اور اہل خانہ سے ملاقات کی اور اس کیس کے لئے بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کیں۔انہوں نے مقامی پاکستانیوں سے بھی ملاقات کی اور بتایا کہ قتل کرنے والے جرمن لڑکے کی والدہ بھی ایک وکیل ہے لہذا اس کیس میں پاکستانی وکیل کا پیش ہونا اشد ضروری ہے تاکہ بھرپور کیس کی پیروی ہو سکے۔پریس کلب کے صدر سلیم بٹ نے اس موقع پرجرمنی کے آن لائن اور دیگر پاکستانی میڈیا کے رپورٹرز کی راہنمائی کرتے ہوئے انہیں سنجیدہ رپورٹنگ کے لئے مقامی پولیس سے رابطے میں رہنے کامشورہ دیا ہے۔

مقامی سماجی راہنما توقیر بٹر صابری نے نمائندہ مشرق سے موبائل پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ لڑکے کی والدہ اس صدمہ سے بہت نڈہال ہے اور ان کی طبیعت نہیں سنبھل رہی۔انہوں نے مزید بتایا کہ تشدد سے ہلاک ہونے والا پاکستانی بچہ یتیم تھا اس کے والدپاکستان گئے ہوئے تھے کہ وہاں اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے وفات پا گئے تھے۔پاکستانی نوجوان کے اس بہیمانہ قتل پر پاکستانی کمیونٹی میں شدید دکھ،غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اس واقعہ پر بہت اشتعال میں ہیں اور فوری انصاف چاہتے ہیں
سیبروکر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی میں شدید دکھ اور غم سے دو چار ہیں اور وہ سب اس واقعہ پر بہت مشتعل دکھائی دیتے ہیں

روزنامہ مشرق کے نمائندہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے وہاں کے مقامی پاکستانی سیاسی و سماجی راہنماتوقیر بٹر صابری نے بتایا کہ مرحوم کی والدہ اس ناگہانی اور اچانک صدمے سے بہت نڈحال ہیں چند ماہ قبل ہی ان کے والد کا پاکستان کے دورہ کے دوران حرکت قلب بند ہو جانے سے وفات ہوئی تھی جس کا غم بھی ابھی کم نہیں ہوا تھا یہ کل چار بھائی ہیں اور حسن کا بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا

تعارف: Admin

2 تبصرے

  1. Undeniably consider that that you said. Your favourite reason appeared to be at
    the internet the easiest factor to be aware of.
    I say to you, I definitely get irked even as people think about issues that they plainly don’t recognize
    about. You controlled to hit the nail upon the highest and outlined out the whole thing with no need side effect ,
    folks can take a signal. Will likely be again to get more.
    Thank you! https://to.ly/1sVei

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

آفن باخ فیضان مدینہ میں تربیتی اجتماع بسلسلہ سحر و افطار کا انعقاد

آفن باخ فیضان مدینہ میں تربیتی اجتماع بسلسلہ سحر و افطار کا انعقاد آفن باغ ...