بنیادی صفحہ » اوورسیز کمیونٹی » جرمنی کے دو معروف افسانہ نگاروں کے مجموعہ کلام کی تقریب رونمائی اور ان کی پزیرائی

جرمنی کے دو معروف افسانہ نگاروں کے مجموعہ کلام کی تقریب رونمائی اور ان کی پزیرائی

جرمنی کے دو معروف افسانہ نگاروں کے مجموعہ کلام کی تقریب رونمائی اور ان کی پزیرائی
(منور علی شاہد کی رپورٹ) علم و ادب سے وابستہ پاکستانی اہل قلم دیار غیر میں بھی علم و عرفان کی محفلیں سجاتے رہتے ہیں ،جرمنی میں ادبی ذوق و شوق رکھنے والوں کی کمی نہیں ہے اور یہاں بھی گاہے بگاہے ایسی محفلیں سجتی رہتی ہیں جن میں شامل ہو کر پاکستانی مرد و خواتین اپنی علمی ادبی پیاس بجھاتے رہتے ہیں، اس وقت بہت سے ناموں کی شہرت سرحدوں کے پار بھی پہنچ چکی ہے انہی ناموں میں جرمنی کے دو معروف ادبی لکھاری و شاعر سید سرور ظہیر غزالی اور سید انور ظہیر رہبر بھی شامل ہیں، گزشتہ دنوں ان کے افسانوں کے مجموعہ کلاموں کی تقریب رونمائی لندن میں منعقد ہوئی جس کا اہتمام والتھم فاریسٹ پاکستانی کمیونٹی فورم کی طرف سے کیا گیا تھا،تقریب کی صدارت برطانیہ کی مشہور و معروف ادبی شخصیت اور متعدد کتابوں کی مصنفہ، شاعرہ اور افسانہ نگار محترمہ فرخندہ رضوی نے کی جب کہ مہمان خصوصی علامہ جاویدالقادری تھے۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد مقررین نے دونوں مجموعہ کلاموں پر سیر حاصل مضامین پڑھے،سب سے پہلے امجد مرزا امجد نے سرور غزالی کے مجموعہ کلام ’’سورج کا اغواء‘‘ پر اور سید انور ظہیر رہبر کی کتاب’’ عکس آواز‘‘ اپنے پر مغز مقالے پڑھے اور ان کی خدمات کو سراہا، اس کے بعد ماپنامہ ’’ قندیل ادب‘‘ کے بانی مدیر اور کالم نگار عبدالرزاق رانا نے دونوں قلمکاروں کی ادبی و قلمی کاوشوں اور ان کے مجموعہ کلاموں پر روشنی ڈالی۔مجموعہ کلام ’’سورج کا اغواء‘‘ اور’’ عکس آواز‘‘ کی تقریب رونمائی کے بعد مبارکبادوں کے بعد دیگر مقررین نے اظہار خیال کیا۔ معروف کہانی کار فہیم اختر نے دونوں بھائیوں کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی اور افسانہ نگاری بارے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سید سرور غزالی نے سید انور ظہیر رہبر کی افسانہ نگاری، شاعری اور ادبی زندگی پر روشنی ڈالی اور خراج تحسین پیش کیا۔ محترمہ فرخندہ رضوی نے جو اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں نے دونوں بھائیوں کی خدمت میں پھولوں کے گلدستے پیش کئے اور ان کی ادبی کاوشوں کو سراہا اور اپنا کلام بھی سنایا، معروف شاعرہ محترمہ عابدہ شیخ صاحبہ کے علاوہ معروف کالم نگار فہیم اختر نے دونوں بھائیوں کو مبارک دی اور ان کے کام کی تعریف کی۔ شاعری کی دنیا کی جانی پہچانی شخصیت و شاعر ڈاکٹر رحیم اللہ شاد اپنی پہلی کتاب سے چند قطعات سامعین کو پڑھ کر سنائے اور داد حاصل کی۔تقریب کے مہمان خصوصی علامہ جاویدالقادری نے احادیث پر مشتمل اپنی ضخیم کتاب تحفہ کے طور پر دونوں بھائیوں کو دی،اس موقع پر انہوں نے حمد و نعت کے چند اشعار بھی پڑھے اور خوب داد حاصل کی۔

تقریب کے اختتامی لمحات میں سید سرور ظہیر غزالی اور سید انور ظہیر رہبرنے تقریب کے میزبانوں اور صدر اجلاس اور مقررین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی ادبی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ تقریب کے آخر پر تنظیم کے صدر ڈاکٹر شوکت نواز خان نے تمام مہمانوں اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا اور مصنفین کو مبارکباد دی۔تقریب کی نظامت کے فرائض معروف صحافی و شاعرہ سیدہ کوثر منور  نے انجام دیئے تھے

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

” اورسیزز میں آباد پاکستانیوں کی ذمہ داریاں”

” اورسیزز میں آباد پاکستانیوں کی ذمہ داریاں” تحریر چوھدری عبدالعزیز پیٹربراء جب میں آپنے ...