بنیادی صفحہ » برطانیہ » برطانوی پارلیمان نے وزیراعظم تھریسامے سے بریگزٹ معاملات پر فیصلے کا اختیار چھین لیا،

برطانوی پارلیمان نے وزیراعظم تھریسامے سے بریگزٹ معاملات پر فیصلے کا اختیار چھین لیا،

لندن/ برلن (رپورٹ. مطیع اللہ ) برطانوی پارلیمان نے وزیراعظم تھریسامے سے بریگزٹ معاملات پر فیصلے کا اختیار چھین لیا، جس کے بعد کلی اختیار پارلیمان کو واپس منتقل ہوگیا۔ برطانوی پارلیمان نے ایک قرار داد کے ذریعے بریگزٹ معاملے پر کسی بھی قسم کے فیصلے کا اختیار اپنی وزیراعظم تھریسامے سے لے کر پارلیمان کو منتقل کردیا۔ قرار داد کے حق میں 329 جب کہ مخالفت میں 302 ووٹ پڑے۔ مسلسل ناکامیوں کے بعد وزیراعظم تھریسامے کو یہ نئی ناکامی اپنے ہی ارکان کی بغاوت کے باعث اٹھانا پڑی۔ قرار داد سر اولیور لیٹوین نے پیش کی۔ یہ قرار داد لندن میں 10 لاکھ شہریوں کے سڑکوں پر نکل آنے اور وزیراعظم تھریسامے کے خلاف مظاہروں کے بعد پیش کی گئی، جس میں مظاہرین نے بریگزٹ کا فیصلہ عوام کو دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس ترمیم کے ذریعے اب ارکان پارلیمان کے پاس موقع ہو گا کہ وہ آج بریگزٹ کے حوالے سے ممکنہ آپشنز کے سلسلے میں رائے شماری کی کارروائی کریں۔ ان آپشنز میں متحدہ منڈی میں باقی رہنا یا نیا ریفرنڈم کرانا یا بریگزٹ معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ کر کے یورپی یونین میں باقی رہنا شامل ہے۔ بریگزٹ معاہدے سے متعلق وزارت نے نئی ترمیم کے سلسلے میں ہونے والی رائے شماری کی فوری طور پر مذمت کی اور اسے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا، جس کے نتائج کے بارے میں قیاس آرائی ممکن نہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری بیان میں اسرائے شماری پر مایوسی کا اظہار کیا گیا اور زور دیا گیا کہ جس آپشن پر بھی غور کیا جائے وہ یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں قابل عمل ہو۔ اس سے قبل اسی پارلیمان نے اپنی وزیراعظم تھریسامے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے برگزٹ معاہدے سے متعلق ہر قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار تفویض کردیا تھا، تاہم جیسے جیسے بریگزٹ کے معاملات آگے بڑھتے رہے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی ارکان بھی عدم اعتماد کا اظہار کرنے لگے۔ واضح رہے کہ برطانوی عوام نے گزشتہ برس ایک ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے انخلا کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جس پر بریگزٹ مخالف ارکان اور وزرا نے استعفا بھی دیا تھا اور تاحال یہ سیاسی بحران ختم ہونے کا نام نہیں رہا ہے، حالاں کہ یورپی یونین سے علاحدگی کے لیے ڈیڈ لائن بھی قریب ہی ہے۔ اسی تناظر میں برطانیہ کے مزید 3 وزرا بھی مستعفی ہو گئے۔ مستعفی ہونے والوں میں وزیر مملکت برائے صنعتی امور رچرڈ ہیرنگٹن، وزیر مملکت برائے خارجہ امور ایلسٹر برٹ اور وزیر مملکت برائے صحت اسٹیو برائن شامل ہیں۔ ایک روز قبل ہی وزیر اعظم نے تسلیم کیا تھا کہ ان کے پاس ترمیم شدہ بریگزٹ معاہدے کو پارلیمان سے منظور کرانے کے لیے درکار حمایت موجود نہیں

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

اولڈہم کے مئیر کونسلر جاوید اقبال نے ڈاکٹر عبد الحفیظ اور ڈاکٹر ریاض الفلوجی کو تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا۔

اولڈہم کے مئیر کونسلر جاوید اقبال نے ڈاکٹر عبد الحفیظ اور ڈاکٹر ریاض الفلوجی کو ...