بنیادی صفحہ » برطانیہ » بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے ایک کانفرنس  کا انعقاد

بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے ایک کانفرنس  کا انعقاد

مانچسٹر (عارف چوہدری )

مسلم کانفرنس برطانیہ کے کنوینئر چوہدری محمد بشیر رٹوی نے سلفورڈ لنک پروجیکٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے ایک کانفرنس  کا انعقاد کیا

چودھری بشیر رٹوی وہ شخصیت ہیں جو دیار غیر میں ھمیشہ پاکستان نیوں کے مسئائل حل کروانے میں سب سے آگے ھوتے ھیں شرکت کرنے والوںں میں ممبر یورپین پارلیمنٹ جن کو پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے آواز اٹھانے  اور ستارہ قائد اعظم کے ایوارڈ سے نوازے جانے والے واجد خان ۔ پاکستانی قونصلیٹ مانچسٹر میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشی فضہ نیازی، کونسلر شوکت، کونسلر تفہیم ، لالہ علی اصغر، کونسلر شامینہ، عمران چوہدری، شہناز صدیق، آزاد کشمیر سے آئے سائیں ذوالفقار علی، امیدوار برائے برنلے کونسل ، چوہدری الطاف شاہد سدھو، چوہدری شبیر احمد بہملوی، سید عاشق حسین شاہ، سید واجد شاہ، ڈاکٹر فصہ صابرہ نا ھید چودھری ، پروفیسر سید اسد علی، راجہ سکندر چئیرمن گلوبل پاکستان ، کشمیر سپریم کونسل- پریس کلب آف پاکستان یو کے یورپ کے صدر چودھری عارف پندھیر نے شرکت کی۔ راجہ سکندر کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اب دنیا بھر میں اہم حثیت اختیار کر چکا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور عورتوں کی عصمت دری روز کا معمول بن چکا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ سے زائد فوجی بھیجے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم برطانوی معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہمیں تمام آسائش میسر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ ہمیں مسئلہ کشمیر بارے برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ، اپنے انگریز ہمسائیوں اور مقامی کونسلر تک پہنچانا چاہیے اور اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو یہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے بہن ،بھائیوں سے ناانصافی ہے ۔   کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی محاذ پر کافی کمزور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شملہ معاہدہ کے بعد ہمارے بڑے بھائی پاکستان کے ہاتھ بند گئے اسکے بعد ہم کشمیریوں نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبر یورپین پارلیمنٹ واجد خان کو ہمیں وائس آف کشمیری کہ کر بلانا چاہیے۔ ویلفیئر اتاشی مسز فضہ نیازی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کا مسئلہ کشمیر بارے واضع پالیسی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپین پارلیمنٹ کے اندر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے بحث و مباحثہ کروانے پر حکومت پاکستان نے ممبر یورپین پارلیمنٹ واجد خان کو ستارہ قائد اعظم سے نوازا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کو اپنے ممبران پارلیمنٹ،کونسلرز کو بذریعہ ای میل یا خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت بارے آگاہ کریں ۔ چوہدری محمد بشیر رٹوی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت اتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تحریک آزادی کشمیر کے لیے ہمیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر آواز اٹھانی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم کانفرنس تحریک آزادی کشمیر کے لیے سب کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کونسلر عتیق الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔  ہمیں دوسرے مسائل میں الجھنے کی بجائے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ ممبر یورپین پارلیمنٹ اور ستارہ قائد اعظم کے ایوارڈ سے نوازے جانے والے واجد خان کا کہنا تھا کہ ہماری مائیں ہمارے آگے بڑھنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے آپ کا کشمیری ہونا لازم نہیں بلکہ انسانیت کی خاطر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے آواز اٹھائی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری لیڈران ،سیاسی جماعتوں اور کارکنان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر کام کرنا چاہیے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور درد کو اپنا سمجھتے ہیں ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں چاہے وہ شام، فلسطین، کشمیر یا پھر کسی بھی ملک میں ہوں میں اسکے خلاف آواز اٹھاؤں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گیارہ سال بعد یورپین پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر پر بحث ومباحثہ ہونا خوش آئند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی ایک قصاب ہے جس نے بھارتی گجرات میں انسانوں کا قتل عام کیا تھا یہ ایک حقیقت ہے ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ایجنسیاں میرے گھر فون کر کے میری فیملی کو دھمکیاں دیتے ہیں لیکن میں کشمیریوں کی آواز کو اٹھاتا رہوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپین پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ پچاس ممبران یورپین پارلیمنٹ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط لکھا ہے جسمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی اداروں کی طرف سے پالٹ گنز کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپین یونین میں شامل 27 ممالک کے ممبران پارلیمنٹ کو پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کو بذریعہ ای میل رابطہ کر کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے آگاہ کرنا چاہیئے۔ ۔ان کا کہنا تھا ک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت صحافیوں ،سیاستدانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو کیوں جانے کی اجازت نہیں دیتی کیا وجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فلسطین کے مسئلہ سے سیکھنا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو موثر طریقے سے اجاگر کرنا چاہیئے۔ میزبان چوہدری محمد بشیر رٹوی نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ ممبر یورپین پارلیمنٹ واجد خان کو مسلم کانفرنس برطانیہ کی طرف سے شیلڈ پیش کی گئی

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

مسٹر ساؤل تورس مون سون کی میئر آف راچڈیل کونسلر محمد زمان کیساتھ میئر پارلر میں ملاقات

مسٹر ساؤل تورس مون سونکی میئر آف راچڈیل کونسلر محمد زمان کیساتھ میئر پارلر میں ...