بنیادی صفحہ » برطانیہ » وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اعزاز میں پر تکلف عشائیہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اعزاز میں پر تکلف عشائیہ

مانچسٹر (عارف چوہدری)

مانچسٹر کے مقامی ہوٹل میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اعزاز میں برطانیہ کے ممتاز کاروباری شخصیت اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر انیل مسرت نے ایک پر تکلف عشائیہ دیا۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک جمہوریت پسند ملک ہے اور ہم اپنے فیصلے جمہوری طریقہ سے کرتے ہیں اور دوسرے ممالک ہم پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط نہیں کر سکتے ہم نے دہشت گردی کی بہت بڑی قیمت چکائی ہےہم  افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں انہیں اپنے اندرونی چیلنجز پر توجہ دینی چاہیے ہم افغانستان کی معاونت کے لیے تیار ہیں ہم چاہتے ہیں کہ مہاجرین باعزت طریقے سے واپس اپنے وطن جائیں لیکن اس بارے ہم ان پر دباؤ نہیں ڈالیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلاء بارے ہم صرف پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب پاکستان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ کلبھوشن یادیو بارے ان کا کہنا تھا کہ معاملہ عالمی عدالت میں ہے ہم نے اپنا کیس پیش کرنے کے لیے بہترین وکلا کی ٹیم کا انتخاب کیا ہے ۔ اداروں میں تبدیلیاں لانے بارے ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو تمام ادارے زبوں حالی کا شکار ملے ہم انہیں راہ راست پر لانے کے لیے مصروف عمل ہیں عوام نے ہم پر پانچ سال کے لیے  خدمت کا موقع  دیا ہے ہمیں پورا موقع دیجئے پھر ہمیں پرکھنا۔ فیض آباد دھرنے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل ہو گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز کے ساتھ کیے گئے وعدے ہم پورے کریں گے اگر پہلی حکومتوں نے اگر وعدہ خلافی کی ہے تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ویزہ حصول میں آسانی پیدا کر دی ہے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سہولیات کی فراہمی بھی آسان بنا دی ہے تاکہ آپ پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی مضبوط اور آزاد ہے پچھلی حکومتوں نے کبھی بھی جرات مندی سے اقدام نہیں اٹھائے میں نے کشمیر بارے ٹھوس موقف اختیار کیا اور اسکی سب سے بڑی مثال اقوام متحدہ کے فورم پر مسئلہ کشمیر کو اٹھانا اور پھر پانچ فروری کو لندن کی پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس کا انعقاد اور پھر بھرپور احتجاجی مظاہرہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت میں ہونے والے عام انتخابات کی وجہ سے حکومت پاکستان سے مذاکرات کرنے سے کترا رہی ہے ہم بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان بھارت اور کشمیریوں نے مل کر حل کرنا ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آر پار کے کشمیریوں کو ملانے کے لیے راستہ کھولنے کے لیے تیار کیا اسکے لیے بھارت تیار ہیں وہ اس وقت ہچکچاہٹ کا شکار ہیں انہیں پتہ ہے کہ کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں نے تحریک کو تیز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومیں تعلیم،  صحت اور اداروں کی مضبوطی سے ہے اور ہماری پالیسی ہے کہ ہم عوام کی فلاح و بہبود پر رقم خرچ کریں

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

مکس مارشل آرٹ کونسل اور خواتین کی چیریٹی

مکس مارشل آرٹ کونسل اور خواتین کی چیریٹی کی ٹیم آرگنائزر شاہین مسعود، نجمہ حسین، ...