بنیادی صفحہ » برطانیہ » کشمیر بین الاقوامی دنیا کی توجہ حاصل کررہا ہے – بیرسٹر امجد ملک

کشمیر بین الاقوامی دنیا کی توجہ حاصل کررہا ہے – بیرسٹر امجد ملک

کشمیر بین الاقوامی دنیا کی توجہ حاصل کررہا ہے
– بیرسٹر امجد ملک

چئیرمین ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ
بیرسٹر امجد ملک
نے  لندن  سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ
کشمیر بین الاقوامی دنیا کی توجہ حاصل کررہا ہے
اور کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی دنیا کو اپنی زمہ داری ادا کرنی چاہئے۔

وہ یہ بات برطانیہ میں مختلف انٹرنیشنل صحافیوں سے گفتگو کے دوران کر رہے تھے انہوں نے کہا۔
اپنی آزادی کی جدوجہد میں کشمیر پچھلے ستر سال سے لہو میں ڈوبا ہوا ہے. یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں سب سے ذیادہ تعداد میں فوج تعینات ہے.
مسئلہ کشمیر دہائیوں سے عالمی سطح پر غفلت کا شکار رہا ہے. یہ ہندوستا ن اور پاکستان سے ذیادہ مہذب دنیا کا ایشو ہونا چاہیئے تھا جہاں انسانی حقوق پر مباحثے ہوتے ہیں اور قوانین بنائے جاتے ہیں. لیکن بدقسمتی سے بھارت کی پاکستان دشمنی نے اسے دو ملکوں کی انا کے مسئلے تک محدود کئے رکھا.
ستر سال کی کشمکش اور پابندیوں اور اس ادراک کے باوجود کے جنگ اور فوجی محاصرہ مسئلہ کشمیر کا حل نہیں, بھارت مذاکرات اور ڈائیلاگ سے فرار حاصل کرتا نظر آتا ہے. مسلئہ کشمیر کا حل سرحد کے اس پار نظریے کے ساتھ ساتھ پالیسی کے تبدیل ہونے سے منسلک ہے.

انہوں نے کہا کہ بھارت اور بھارتی میڈیا پاکستان کو دنیا میں بطور دہشت گرد متعارف کروانے کے لئے جی توڑ کوشش میں مشغول رہتا ہے. ہر دفعہ ڈائیلاگ سے پیچھے ہٹ جاتا ہے. کیونکہ یہ پاکستان دشمنی وہ واحد ایجنڈا ہے جسے لے کر بے جی پی سرکا ر اگلے الیکشن میں اترنا چاہتی ہے.

بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ کشمیر دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں سے ایک ہے. پرامن کشمیر دنیا کا ایک بہترین سیاحتی مقام بن سکتا ہے اور خطے میں تجارت اور کاروبار کو فروغ دے سکتا ہے. دو ملکوں کی انا سے ذیادہ مسئلہ کشمیر دو کروڑ آبادی کی آزادی اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے جو کہ عالمی توجہ کا طلبگار ہے.

اقوام متحدہ کا چیپٹر سات کشمیر ہی کے لیئے ناقابل عمل کیوں ہے. یہ ایک سوال ہے جس کا جواب مسئلہ کشمیر کے حل اور استصواب رائے تک لے کر جاتا ہے۔
استصواب رائے کے علاوہ بھارت کے پاس کشمیریوں کو دینے لے لئے کچھ نہیں ہے۔ برہان الدین وانی کی شہادت نے کشمیریوں کی جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اسے کسی پر اکسی سے روکا نہیں کا سکتا۔

مذاکرات ہی اس مسلے کا واحد قانونی حل ہے اور جنگ بیانات کی حد تک تو ٹھیک ہے کیونکہ الیکشن سر پر ہے لیکن حقیقتاً دونوں ممالک کسی بھی قسم کی محاز آرائی کے متحمل نہیں ہیں ۔ جس طرح کی غربت خطے میں دیکھنے کو مل رہی ہے جنگ کی بات کرتے شرم آنی چاہئے۔ کمانڈر کلبھوشن جادیو کا انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں مقدمہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی حال اور کسی بھی ملک میں جائز نہیں اور سیاسی معاملات کا حل سیاسی طریقے سے ہی ممکن ہے۔

بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ ہم پاکستانی پارلیمان اور حکومت کے کشمیر کے اوپر بیان کو خوش آئیند قرار دیتے ہیں اور دونوں حکومتوں کو مل کر ایک فورم پر مصالحت کرنی چاہیے تاکہ پلو امہ جیسے واقعات اور پاکستان میں بارڈر پار سے مداخلت کے الزامات کو میرٹ پر پرکھا جاسکے اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی کاروائیوں پر میرٹ پر تحقیقات ہو سکیں۔ بھارت کو الیکشن کے بعد اس پر مثبت سوچ سے جواب دینا چاہیے۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

عبدالعزیز پروجیکٹ چیرٹی کے اجراء کا اعلان

برطانیہ کی ابھرتی ہوئی گلوکارہ شہزادی سلطان نے مرحوم والد عبد العزیز کے نام پر ...