بنیادی صفحہ » بین الاقوامی » ڈاکٹر ربانی کی رہائش گاہ پرخورشید رضوی کی زیرِصدارت محفل مشاعرہ

ڈاکٹر ربانی کی رہائش گاہ پرخورشید رضوی کی زیرِصدارت محفل مشاعرہ

ڈاکٹر ربانی کی رہائش گاہ پر ڈاکٹرخورشید رضوی کی زیرِصدارت محفل مشاعرہ
جدہ (سید مسرت خلیل) کی معروف شخصیت ڈاکٹر سعید کریم بیبانی نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان سے
آئے ہوئے نامور شاعر، ادیب اور محقق کئی ادبی ایوارڈز کے حامل ستارہ امتیاز پروفیسر ڈاکٹر
خورشید رضوی کی زیر صدارت محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پرجدہ کی ہردلعزیز ادبی اور
سماجی شخصیت اور عالمی اردو مرکز کے جنرل سیکریٹری حامد اسلام خان کے ساتھ ایک الوداعی
نشست بھی رکھی گئی۔ اس نشست کے متمنی عالمی اردو مرکز کے صدر اطہر عباسی اور چیئرمین
مجلس اقبال عامر خورشید تھے۔

ناظم تقریب میزبان ڈاکٹر سعید کریم بیبانی نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی بھرپور
شرکت کا شکریہ ادا کیا۔ مجلس اقبال کے چیئرمین عامر خورشید نے مجلس کے اغراض و مقاصد پر
روشنی ڈالی اور مجلس کے لئے حامد الاسلام خان کی خدمات کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا ہم حامد
خان کی کمی کو ہمیشہ محسوس کرینگے۔ اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی کی زیرصدارت
محفل مشاعرہ کا آغاز ہوا۔جدہ کے مقامی مشہور ومعروف شاعرمحمد عثمان، افسر بارہ بنکھوی،آفتاب
ترابی، اطہر عباسی، مہمان خصوصی ڈاکٹر سید علی اور صدر محفل ڈاکٹر پروفیسر خورشید رضوی
نے اپنے خوب صورت اشعار سے حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔
قبل ازیں قاری محمد آصف اور میزبان ڈاکٹر بیبانی نے اللہ کے بابرکت کلام کی آیات کی تلاوت سے
پروگرام کا آغاز کیا۔ نواز جنجوءنے بارگاہِ رسالتﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
پاکستان جنرنلسٹس فورم (پی جے ایف) کی مجلس عاملہ کے رکن سینئرصحافی سید مسرت خلیل نے
حامد الاسلام پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا حامد الاسلام کے تعارف کے پیچھے ایک طویل داستان
ہے جن کا اس مختصر سے وقت میں احاطہ کرنا دشوار ہے۔ مختصرا، آپ کے والد گرامی بینکر تھے۔
اور اس وقت کے مشرقی پاکستان ڈھاکہ میں مقیم تھے۔ جہاں انھیں 16دسمبر کو سقوط مشرقی پاکستان
کے بعد مکتی باہنی کے غنڈوں نے گن پوائنٹ پر گرفتار کیا اور اس کے بعد ان کا آج تک کوئی پتہ
نہیں چلا۔ حامد الاسلام 1972 میں ڈھاکہ سے براستہ انڈیا، نیپال پاکستان ہجرت کی اور اس سفر میں
انکی والدہ اور 7 بہین بھائی شریک سفر رہے۔ کراچی کے علامہ اقبال کالج سے کامرس میں
گریجویشن کرکے بہتر مستقبل کے لئے 1976 میں سعودی عرب جدہ آگئے۔ حامد الاسلام 42برس
ملازمت کرنے کے بعد اب دیارِ مقدس سے دیار وطن جارہے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اردو مرکز اور
اردو ادب ، مجلس محصورین اور محصورین کاز کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ پی جے ایف کے رکن
اور نیوز 10کے بیوروچیف محمد امانت اللہ ، پاکستان ویلفئیر سوسائٹی جدہ کے سرگرم رکن سید شہاب
الدین نے بھی حامد الاسلام خان کی گونا گوں خوبیوں کی حامل شخصیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا
جبکہ عالمی اردو مرکز کے صدر اطہر عباسی اور ڈاکٹر سعید کریم بیبانی نے ان کو منظوم خراجِ
تحسین پیش کیا۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر خورشید رضوی کو شیلڈ پیش کی گئی اور ڈاکٹربیبانی سے
سب کا شکریہ ادا کیا ۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے بھارتی مظالم کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑا ہے، علی رضا سید

مقبوضہ کشمیر کے بہت سے لوگوں نے بھارتی مظالم کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑا ...