بنیادی صفحہ » بین الاقوامی » نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جرمنی کے دارلحکومت برلن میں احتجاج

نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جرمنی کے دارلحکومت برلن میں احتجاج

نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جرمنی کے دارلحکومت برلن میں احتجاج
رپورٹ مہوش خان جرمنی ۔
نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پوری امت مسلمہ صدمے میں ہے۔اور اسی سلسلے میں جرمنی کے دارلحکومت برلن میں مخلتف مقامات پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جس میں نہ صرف مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے شرکت کی بلکہ یہاں مقیم جرمنز نے بھی اس احتجاج میں شریک ہو کر آج کے
سانحہ کو بدترین سانحہ قرار دیا۔
شدید موسم کی خرابی کے باوجود احتجاج کی کال کے تھوڑی ہی دیر بعد لوگ احتجاج کے مقامات پر جمع ہونا شروع ہوگئے ۔جن میں بچے بوڑھے جوان مرد خواتین سب ہی شامل تھے۔
احتجاج شہر کے مختلف معروف علاقوں میں کیا گیا جن میں کوڈام،
برانڈر برگ گیٹ اور فریڈرش اسٹریٹ پر موجود نیوزی لینڈ سفارتخانے کے باہر جرمنی میں موجود مسلم کمیونٹی نے حصہ لیا ۔
شہر کے مختلف مقامات ہونے والے پر احتجاج میں مسلمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور نیوزی لینڈ کے واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔
مختلف اسلامی تنظیموں اور مساجد سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ۔
دہشت گردی کرنے والوں کا کوئ مذہب نہیں ہوتا ۔
دنیا کا کوئ مذہب یوں اس طرح انسانوں پر گولیاں چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔
برلن میں موجود تمام اسلامی تنظیموں کے سربراہ شیخ فرید
نے شدید الفاظ میں اس واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ ہمیں اب بحیثیت امت ایک ہونے کی ضرورت ہے اور اس وقت ہمیں نیوزیلینڈ کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی دیکھانے کی ضرورت ہے۔اس وقت سوشل میڈیا اسلام مخالفت چیزوں سے بھرا پڑا ہے اور اگر یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ۔ اس سوچ کو اور ایسے واقعات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں دعا بھی کرنی چاہیے ۔

اور ایسے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں اس کی وجہ بھی جاننے کی ضرورت ہے ۔
احتجاج میں شامل ایک صاحب کا کہنا تھا کہ اب وقت گیا ہے کہ اس امت کو ایک ہونا پڑے گا ہقین نہین آتا کہ یہ سب ایک حقیقت تھی۔
کس قدر بے رحمی سے مسجد میں مسلمانوں کو شہید کیا گیا ہے ۔
احتجاج میں شامل ایک مشہورچرچ کے پادری نے بھی اس واقعہ کی مذمت اور کہا کہ تمام انسان برابر ہیں اور اس طرح کی قتل و غارتگری کی اجازت تو کسی مذہب میں بھی نہیں۔انھون نے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تھوڑی دیر میں آپ کی نماز مغرب کا وقت ہو جائے گا جسے ادا کرنے کے لئے میرا چرچ حاضر ہے ۔

احتجاج میں مسجد کے امام طلحہ نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ اور دیگر مقامات پر جاری احتجاج کے شرکاء نے
برانڈن برگ گیٹ پر نماز مغرب جماعت کے ساتھ ادا کی اور تمام دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے۔اورنیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے افراد کے لئے مغفرت کی دعا بھی کرائ گئ ۔اور تمام امت مسلمہ کے لئے بھی امن و سلامتی کی خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

جرمن ہتھیاروں کی برمدات میں ریکارڈ کمی

جرمن ہتھیاروں کی برمدات میں ریکارڈ کمی برلن (رپورٹ مطیع اللہ / ڈی پی اے ...