بنیادی صفحہ » شعر و سخن » ابھی تو میں نے تری کوئی آرزو نہیں کی ..ابھی تو میں ترے نام و نشاں بناتا ہوں

ابھی تو میں نے تری کوئی آرزو نہیں کی ..ابھی تو میں ترے نام و نشاں بناتا ہوں

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

غزل

الگ جہاں سے زمین و زماں بناتا ہوں
میں لامکاں میں اُتر کر مکاں بناتا ہوں

ابھی تو میں نے تری کوئی آرزو نہیں کی
ابھی تو میں ترے نام و نشاں بناتا ہوں

یہاں تو روشنی کچھ کام آنے والی نہیں
دُھواں دُھواں ہے فضا تو دُھواں بناتا ہوں

میں اُس کے دستِ عطا سے گلہ کروں بھی تو کیا
خود اپنے ہاتھ سے بیساکھیاں بناتا ہوں

چلو جو کچھ نہیں تعمیر کا ہُنر ہی سہی
مکین کوئی نہیں ہے مکاں بناتا ہوں

بنا رہا ہوں غزل کی طرح نقوش ترے
سو، خدّوخال ترے درمیاں بناتا ہوں

یونہی تو اپنے جگر کو لہو نہیں کرتا
ترے لبوں کے لیے سُرخیاں بناتا ہوں

کہ لفظ لفظ اُتر آئے تیرے پیار کا لمس
ورق ورق پہ تری انگلیاں بناتا ہوں

سمیٹ رکھتا ہوں سینے میں خدّوخال ترے
سو، اِس طرح بھی تجھے جاوداں بناتا ہوں

مرے علاوہ بھی کچھ لوگ ہیں مَسَافت میں
سو، دشت دشت کوئی سائباں بناتا ہوں

مجھے یہ سیلِ بَلا بھی ڈبو نہ پائے گا
تمھاری یاد سے میں کشتیاں بناتا ہوں

بَلا کی دُھوپ بھی دیتی ہے جسم کو ٹھنڈک
تری نگاہوں کو جب چھتریاں بناتا ہوں

نبیل اُس مہِ رخشاں کی دل نشیں تصویر
کہاں بنائی گئی ہے کہاں بناتا ہوں

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل
لاہور، پاکستان

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

شکن شکن جو مہکنے لگی ہے بستر کی: یہ اُس کے لمس کا،اُس گل بدن کا جادو ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل کسی گلاب نہ صحنِ چمن کا جادو ہے یہ رنگ ...