بنیادی صفحہ » شعر و سخن » اکثر اوقات خون رنگ آنسو چشمِ افسردہ کی نمی سے ملے

اکثر اوقات خون رنگ آنسو چشمِ افسردہ کی نمی سے ملے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

غزل
ہاں کسی سے کبھی کسی سے ملے
دردِ تازہ ہی زندگی سے ملے

ایسے ملتی ہے اُس سے اپنی نظر
جس طرح چاند، چاندنی سے ملے

اُس نے بخشا جو وصل کا لمحہ
مسکراتی ہوئی گھڑی سے ملے

شاخِ اُمّید پر ہیں گُل جتنے
تیرے ہونٹوں کی تازگی سے ملے

اکثر اوقات خون رنگ آنسو
چشمِ افسردہ کی نمی سے ملے

دوست تو دوست ہم تو دشمن سے
جب ملے ہیں ہنسی خوشی سے ملے

کیسے پوری ضرورتیں ہو جائیں
جیب کیا دامنِ تہی سے ملے

اِس لیے ہم اُسے نہیں بھائے
ہم زمانے سے سادگی سے ملے

چل پڑیں آندھیاں زمانے میں
جب مرے دِیپ روشنی سے ملے

جس قدر تھے نشان ہستی کے
دلِ سادہ کو اُس گلی سے ملے

بے حِسی میں کمال جیتے تھے
درد سارے ہی آگہی سے ملے

آ گیا شاعری کا فن ہم کو
میر کی جب سے شاعری سے ملے

اُن کا کوئی نہیں علاج یہاں
زخم جو تیری بے رُخی سے ملے

اپنے احباب اپنے دوست سبھی
جب ملے ہم سے بے دلی سے ملے

ہاتھ کیسے جھٹک دیا اُس نے
ہم اُسے کتنی بے بسی سے ملے

ایک مُدّت ہُوئی نبیل احمد
عہدِ حاضر میں آدمی سے ملے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل
لاہور، پاکستان

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

کچھ ایسے خود میں بشر، اب سمٹتا جاتا ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل کچھ ایسے خود میں بشر، اب سمٹتا جاتا ہے فلک ...