بنیادی صفحہ » شعر و سخن » ایک انجان سفر پر نکلا

ایک انجان سفر پر نکلا

غزل
ــــــــ

ایک انجان سفر پر نکلا
میں تری یاد پہن کر نکلا

چوٹ کھا کھا کے دعائیں لوٹیں
جس کو پوجا وہی پتھر نکلا

پی گیا خون پسینہ میرا
کتنا کم ظرف سمندر نکلا

جب بھی نکلا وہ عیادت کو مری
لے کے الفاظ کے خنجر نکلا

میں تری دید کی حسرت اوڑھے
جسم کی قید سے باہر نکلا

میری میت کو لگایا کاندھا
غیر تھا آپ سے بہتر نکلا

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

وہ نہیں ہے میاں تو دُنیا بھی : اب کہاں درمیاں ہوتی ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل جب محبت جوان ہوتی ہے زندگی مہربان ہوتی ہے جب ...