بنیادی صفحہ » شعر و سخن » ترے خیال نے مہکا دیا مجھے ورنہ

ترے خیال نے مہکا دیا مجھے ورنہ

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

غزل

کسی کے حُسنِ تغافل کی رُونمائی تھی
دل و نگاہ پہ وحشت عجیب چھائی تھی

ترے خیال نے مہکا دیا مجھے ورنہ
مرے وُجود کے آنگن میں کتنی کائی تھی

وہ دن بھی تھے کہ ترے ہر طرف تھے جلوے عیاں
جِدھر جِدھر بھی نگاہِ طلب اُٹھائی تھی

کواڑ کھول کے رکھّے تھے جس کی خواہش میں
ہَوا وہ میری نہیں تھی، ہَوا پرائی تھی

بنی ہے زخم، اُتر کر وہ سینہ و دل میں
جو ایک بات لبوں میں کبھی دبائی تھی

مرے وُجود کا سایا بھی میرے ساتھ نہ تھا
شریکِ ذات مگر اُس کے اِک خُدائی تھی

سُلگ رہا تھا جہاں دُھوپ کی تمازت میں
فلک کے دوش پہ لیکن گھٹا سی چھائی تھی

اگرچہ دُھول تھی سینے میں دشت و صحرا کی
مگر لہو کی، ہر ایک اشک میں ترائی تھی

خبر نہیں تھی کہ اِترا رہے ہیں جن پہ نبیل
اُنھی وصال کے لمحات میں جُدائی تھی

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل
لاہور

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

مجھے کسی نے پُکارا نہ راکھ ہوتے ہوئے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل ترے یقیں پہ یوں منظر اُجال سکتا تھا چراغِ شب ...