بنیادی صفحہ » شعر و سخن » جب وہ آتا نہیں نظر مجھ کو کتنی مشکل میں جان ہوتی ہے

جب وہ آتا نہیں نظر مجھ کو کتنی مشکل میں جان ہوتی ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

غزل

جب محبت جوان ہوتی ہے
زندگی مہربان ہوتی ہے

جب وہ آتا نہیں نظر مجھ کو
کتنی مشکل میں جان ہوتی ہے

وہ نہیں ہے میاں تو دُنیا بھی
اب کہاں درمیان ہوتی ہے

راہِ اُلفت میں آدمی کی اُڑان
صورتِ آسمان ہوتی ہے

اِس ترے انتظار کی ہم سے
کب بیاں داستان ہوتی ہے

حالتِ ہجر بھی بسا اوقات
بیکراں آسمان ہوتی ہے

جب دلوں میں کہیں تصادم ہو
ریزہ ریزہ چٹان ہوتی ہے

دل مچلتا ہے پھر بہاروں میں
جب ہَوا حکمران ہوتی ہے

عشق ہوتا ہے جب مکیں اِس میں
دل کی بیٹھک مکان ہوتی ہے

اپنا اپنا سبھی کا لہجہ ہے
اپنی اپنی زبان ہوتی ہے

آدمی میں اگر سلیقہ ہو
زندگی قدر دان ہوتی ہے

جب بھی نکلوں تری گلی کی طرف
راستے میں چٹان ہوتی ہے

پھیل جاتی ہے جب شبِ ہجراں
ہر گھڑی امتحان ہوتی ہے

زخم جب جاگتے ہیں فُرقت کے
کب وہ حالت بیان ہوتی ہے

ہاتھ آتا نہیں کوئی کردار
تِشنہ رُو داستان ہوتی ہے

اُس کی قُربت میں ایک اِک ساعت
کس قدر خوش گمان ہوتی ہے

ایک ہوتا ہے درد کا لہجہ
پیار کی اِک زَبان ہوتی ہے

دُھوپ کے دشت میں ہمیشہ نبیل
وہ گھٹا سائبان ہوتی ہے

ہر گھڑی ہجر کی نبیل احمد
اِک کڑا امتحان ہوتی ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل
لاہور
پاکستان

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

شکن شکن جو مہکنے لگی ہے بستر کی: یہ اُس کے لمس کا،اُس گل بدن کا جادو ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل کسی گلاب نہ صحنِ چمن کا جادو ہے یہ رنگ ...