بنیادی صفحہ » شعر و سخن » شکن شکن جو مہکنے لگی ہے بستر کی: یہ اُس کے لمس کا،اُس گل بدن کا جادو ہے
Image processed by CodeCarvings Piczard ### FREE Community Edition ### on 2014-07-09 21:37:51Z | http://piczard.com | http://codecarvings.com

شکن شکن جو مہکنے لگی ہے بستر کی: یہ اُس کے لمس کا،اُس گل بدن کا جادو ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

غزل
کسی گلاب نہ صحنِ چمن کا جادو ہے
یہ رنگ و بُو تو ترے پیرہن کا جادو ہے

اثر پذیر اگرچہ ہے شاعری اب بھی
مرے ہنر کا،یہ میرے سخن کا جادو ہے

کبھی نہ جائے یہاں سے جو ایک بار آ جائے
کچھ ایسا جادو تری انجمن کا جادو ہے

شکن شکن جو مہکنے لگی ہے بستر کی
یہ اُس کے لمس کا،اُس گل بدن کا جادو ہے

فضا میں گُونجتی ہے آج بھی اذانِ خیر
فضا میں آج بھی کوہ و دمن کا جادو ہے

ہرے بھرے سبھی موسم دُھلے دُھلے منظر
اے خوش لباس!ترے بانکپن کا جادو ہے

جو اِس جہان میں بھی سر پہ چڑھ کے بولتا ہے
وہ ایک غالبِ خستہ کے فن کا جادو ہے

ہر ایک لفظ گلابوں کی مثل کِھل اُٹھّے
یہ صرف آپ کے کام و دہن کا جادو ہے

سروں کو لے کے ہتھیلی پہ آ گئے عشّاق
تمھاری زُلف،تمھارے نَیَن کا جادو ہے

نبیل آج بھی بینائی ہے مری محفوظ
یہ اُن خطوط کا،اُس کے بدن کا جادو ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

مجھے کسی نے پُکارا نہ راکھ ہوتے ہوئے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل ترے یقیں پہ یوں منظر اُجال سکتا تھا چراغِ شب ...