بنیادی صفحہ » شعر و سخن » مجھے کسی نے پُکارا نہ راکھ ہوتے ہوئے

مجھے کسی نے پُکارا نہ راکھ ہوتے ہوئے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

غزل
ترے یقیں پہ یوں منظر اُجال سکتا تھا
چراغِ شب کو میں سورج میں ڈھال سکتا تھا

مجھے کسی نے پُکارا نہ راکھ ہوتے ہوئے
وگرنہ گردشِ دوراں میں ٹال سکتا تھا

وہاں بھی ضبط کا دامن نہ ہاتھ سے چھوڑا
غبار، دل کا جہاں میں نکال سکتا تھا

کسی کا قُرب میسّر تھا جن دنوں مجھ کو
فلک زمین کے سانچے میں ڈھال سکتا تھا

یہ اور بات بھنور نے ڈبو دیا، ورنہ
مجھے وہ جانبِ ساحل اُچھال سکتا تھا

زمیں کو کھینچ لیا جس نے میرے قدموں سے
ہتھیلیوں پہ فلک کو سنبھال سکتا تھا

وہی کِیا جو مرے اختیار میں تھا نبیل
میں اُس کے درد کو سینے میں پال سکتا تھا

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

شکن شکن جو مہکنے لگی ہے بستر کی: یہ اُس کے لمس کا،اُس گل بدن کا جادو ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل کسی گلاب نہ صحنِ چمن کا جادو ہے یہ رنگ ...