بنیادی صفحہ » شعر و سخن » کیسے دیکھوں میں بے کلی تیری

کیسے دیکھوں میں بے کلی تیری

غزل

کیسے دیکھوں میں بے کلی تیری
جاں سے پیاری مجھے ہنسی تیری

پھول شبنم میں تازگی تجھ سے
چاند تاروں میں روشنی تیری

عشق میں بے وفا کے اے یارا
ہوگئی کیا یہ زندگی تیری

جان لیوا ہے یار سن لے تو
دوستی اور دشمنی تیری.

ضد نہ کر مان جا اے جانِ جاں
مار ڈالے گی بے رخی تیری

گل بدن پاس آ میرے جاناں
جان لے لے نہ اب کمی تیری

کہنے وہ بھی لگے ہیں اب دلکش
سب سے اعلیٰ ہے شاعری تیری

مصطفیٰ دلکش مہاراشٹر الہند

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

مجھے کسی نے پُکارا نہ راکھ ہوتے ہوئے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل ترے یقیں پہ یوں منظر اُجال سکتا تھا چراغِ شب ...