بنیادی صفحہ » صدائےکشمیر » پاکستانی سفارتخانے جرمنی میں 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

پاکستانی سفارتخانے جرمنی میں 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جرمنی میں موجود پاکستانی سفارتخانے میں 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔
رپورٹ مہوش خان برلن جرمنی

پاکستانی سفارتخانے میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ غیر ملکی افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں جرمن یونیورسٹییز کے پروفیسرز،اوپینین میکرز اور دیگر سفارتی عہدے داران شامل تھے۔

تقریب کے آغاز میں ایک ڈاکو مینٹری فلم کے ذریعے وہاں بھارتی تسلط اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے واے مظالم کو دیکھایا گیا۔جس نے شرکاء کو آب دیدہ کر دیا ۔
پبلک ریلیشن آفیسر محترمہ مریم صاحبہ نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے،جن میں صاف الفاظ میں مقبوضہ کشمیر میں 70 سال سے جاری بھارتی مظالم کی پرزور مذمت کی گئ ۔
پاکستانی سفیر جوہر سلیم صاحب نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ 1947 میں کئے گئے وعدے سے بھارت مکر گیا۔اس وقت یہ بات واضع تھی کہ کشمیر کی ریاست پاکستان کے حصے میں آئے گی۔،مگر ایسا نہ ہو سکا۔
ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر اس خطے میں امن قائم کرنا ناممکن ہے۔
دونوں طرف ہی ایٹمی پاور رکھنے والے ممالک ہیں ۔
ستر سال کا طویل عرصہ آذادی کی اس جنگ میں گزر چکا ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کشمیری اپنا خون بہا چکے ہیں اس جنگ میں۔
بھارتی فوج جس ظلم اور بربریت کا مظاہرہ مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے،پچھلے دنوں پلٹ گنز کے استعمال سے جس طرح بچے بوڑھے جوان متاثر ہوئے ہیں یہ ظلم کی انتہا ہے۔اقوام متحدہ کو بھی اس معاملے کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،یہ نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن اور خوشحالی کے ئے ضروری ہے بلکہ اس خطے کی ترقی بھی اسی امر میں پوشیدہ ہے ۔

تقریب میں موجود پاکستانی نوجوانوں نے بھی اس مسلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ
یوں اس طرح کشمیر کے اشو کو کسی غیر ملک میں سفارتی سطح پر اجاگر کرنا خوش آئند ہے جس سے کہ کشمیری مسلمانوں کو فائدہ پہنچے کی امید ہے۔
ایک نوجوان جو کہ خود کشمیر سے تعلق رکھتا تھ اس کا کہنا تھا کہ میرے اپنے خاندان کے کئ افراد اب تک آذادی کی اس جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
امید کی جاسکتی ہے کہ نصف صدی گزر جانے کے بعد ایک دن کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گیں اور وہ جلدآذادی کا سورج ضرور طلوع ہوتے دیکھیں گے

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

فرینکفرٹ میں پاکستانیوں کی امن ریلی اور کشمیریوں کے ساتھ فقید المثال اظہار یکجہتی  (

فرینکفرٹ میں پاکستانیوں کی امن ریلی اور کشمیریوں کے ساتھ فقید المثال اظہار یکجہتی (منور ...