بنیادی صفحہ » صدائےکشمیر » کشمیر میں امن کے قیام کو ممکن بنانے کے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا دور شروع ہونا چاہیے

کشمیر میں امن کے قیام کو ممکن بنانے کے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا دور شروع ہونا چاہیے

اولڈہم (عارف چوہدری)

کشمیر میں امن کے قیام کو ممکن بنانے کے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا دور شروع ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار اولڈہم ایسٹ اور سیڈل ورتھ سے ممبر برطانوی پارلیمنٹ اور آل پارلیمنٹری گروپ فار کشمیر کی چئیر پرسن ڈیبی ابراہم نے ویسٹ منسٹر میں منعقدہ انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈیبی ابراہم کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو یہاں آمد پر خوش آمدید کہتی ہوں اور ہم ملکر مشترکہ لائحہ عمل بارے بات چیت کریں گے جس سے مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ سال 2018 کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بچوں خواتین سمیت سو بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے رپورٹ پر اظہار تشکر کرتی ہیں اور آل پارٹی پارلیمنٹری  گروپ فار کشمیر نے از خود مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے  انکوائری کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔اقوم متحدہ اور ہماری کمیٹی کی مسلح افواج کو اسلحہ کے استعمال کے سپیشل  ایکٹ  1990 اور
عوام کی حفاظت کے ایکٹ پر  بین الاقوامی قوانین کے تحت عمل درآمد ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ آر پار کے کشمیریوں ۔انتظامی قیادت  کو بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر امن کی بحالی کے لیے مذکرات کرنے چاہئیں تاکہ مذید خون خرابا نہ ہو۔ پائیدار اور دیرپا امن کے لیے سفارتکاری اور بات چیت ضروری ہے کشمیر کے لوگوں نے بہت کچھ برداشت کر لیا ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر بارے برطانوی حکومت کی اقوام متحدہ اور دولت مشترکہ کے ممالک کے ساتھ ملکر کشمیر بارے  موثر کردار کی خواہاں ہیں ۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

فرینکفرٹ میں پاکستانیوں کی امن ریلی اور کشمیریوں کے ساتھ فقید المثال اظہار یکجہتی  (

فرینکفرٹ میں پاکستانیوں کی امن ریلی اور کشمیریوں کے ساتھ فقید المثال اظہار یکجہتی (منور ...