بنیادی صفحہ » پاکستان » احساس نایاب

احساس نایاب

شیموگہ،کرناٹک
بولی مجبوری کی لگ رہی ہے
سرِ بازار شبنم بک رہی ہے
۔۔شبنم۔۔۔یہ شبنم نام ہی کتنا خوبصورت ہے ، بالکل شبنم کی بوند کی طرح نرم و نازک ، صاف وشفاف ، چنچل جو ہوا کے جھونکے سے بھی کھل کھلا اٹھتی ہے۔ سورج کی نرم کرنوں میں ڈوب کر اور بھی دلکش وپاکیزہ لگتی ہے ،جسے دیکھ کر سکون ملتا ہے ،تازگی محسوس ہوتی ہے ، جس کی پاکیزگی اور خوبصورتی کی مثالیں بڑے سے بڑے شاعر نے اپنے اشعار کے ذریعہ پیش کی ہیں تو کئی عاشقوں نے اپنی معشوقہ کی تعریف میں استعمال کئے ہیں۔جب ان شبنم کے بوندوں کو دیکھتی ہوں یا شاعر اور عاشقوں کی زبانی تعریف سنتی ہوں تو خوشی سے جھومنے لگتی ہوں ،خود پہ اترانے لگتی ہوں ،ایک ایک لفظ دل کو چھونے لگتے ہیں ۔کچھ پل کے لئے خود کو بھی اس شبنم کی بوند کے مانند تصور کرنے لگتی ہوں۔۔۔جو میں نہیں ہوں۔۔ ہاں میں نہیں ہوں ،میں تو شبنم کی بوندوں کے برعکس ہوں ،وہ جتنی پاک صاف و شفاف ہیں میں اتنی ہی ناپاک، انہیں دیکھ کر جو خوشی جو تازگی محسوس کرتے ہیں وہی مجھے دیکھ کر اتنی ہی نفرت کرتے ہیں ۔ کہنے کو تو میں بھی شبنم ہی ہوں کیونکہ میرا نام شبنم ہے، شاید میرے ماں باپ نے بھی بڑے پیار اور ارمانوں سے یہ نام رکھا تھا پر آج میں بدنصیب اپنا گھر ،پریوار سب کچھ کھو کر وقت اور حالات کی ماری بدنام گلی کی بدنام شبنم بن کے رہ گئی ہوں، جسکی دنیا رات کی تاریکی میں پروان چڑھتی ہے اور صبح کے آغاز میں ویران ہوجاتی ہے ۔ میں بدنصیب ہر رات دلہن کی طرح سجتی ہوں ، کاجل،بندیا، ہونٹوں پہ لالی لگا کر ماتھے پہ بندی سجاکر کانوں میں جھُمکے ، پاؤں میں پائل پہن کر بالوں میں گجرے باندھے،اپنے بدن کو خوشبو سے مہکا کر اندھیری راتوں میں جگمگاتی ہوئی گلیوں اور چوراہوں پہ اپنی ہی بربادی کا نظارہ اپنے ہی آنکھوں سے دیکھنے کے انتظار میں دلہن سی سجی دھجی خود کی ہی لاش کو خود پہ لادھے کھڑی رہتی ہوں تاکہ کوئی گاہک آکر میری مجبوری کو اپنی خواہشات کے لئے استعمال کرے۔۔۔ اسی طرح ہر رات نہ جانے کتنوں کی سیج سجاتے ہوئے انکی راتیں رنگین کرتی ہے یہ شبنم اور ہر صبح کی پہلی کرن کے ساتھ بن بیاہی دلہن سے سفید لباس پہنی ،اُجڑی قسمت ،اُجڑے ہوئے وجود سی ودھوا جیسی لگتی ہوں ۔ پر اس ودھوا کے لئے کبھی کوئی آنسو نہیں بہاتا، نہ ہی کوئی ہمدردی دکھاتا ہے بلکہ اس کے حصے میں تو گالیاں، لوگوں کی دھتکار اور نفرت ہے۔ اس شبنم کو کتنے ناموںسے نوازاجاتا ہے، کوئی طوائف ،کوئی ویشیہ ،کال گرل، بازارو جیسے ناجانے کتنے نام شبنم کے حصے میں آتے ہیں۔ دنیا بھر کے مرد شبنم کے جسم کے دیوانے ہیں۔۔بڑی سے بڑی قیمت دیکر شبنم کو حاصل کرنا چاہتے ہیں پر کوئی شبنم کو اپنانا نہیں چاہتا۔ زمانے سے چھپ کر شبنم سے قربت کی چاہ تو سبھی کو ہے، پر دن کے اجالے میں کوئی شبنم کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتا۔۔ میرے جیسی اور نہ جانے کتنی ہی شبنم اسی حال میں ہیں ،کوئی مجبوری میں کوئی جبراً زور زبردستی مار پیٹ کر اس دلدل میں ڈھکیلی گئ ہیں اسکا اندازہ شاید ہی کوئی لگاسکے۔۔ کیونکہ یہ سلسلہ آج کا نہیں یہ تو صدیوں سے چلتا آرہا ہے ۔۔ جہاں شبنم جیسی بدنصیب لڑکیوں کو ہر رات عیاشی کے لئے سجی محفلوں کی زینت بننا پڑتا ہے ،کسی نہ کسی کے ہوس کا شکار بننا پڑتا ہے اور یہ ہوس کے شکاری زمانے بھر میں سفید پوش اورعزت دار بنے گھوم رہے ہیں۔ اور رات کی آغوش میں اپنا اصلی چہرہ دکھاتے ہوئے شبنم کو جنگلی کُتوں کی طرح نوچتے ہیں ،اسکے جسم سے کھیلتے ہیں۔ اس دوران پل بھر کے لئے بھی یہ نہیں سوچتے کہ یہ کسی کی بیٹی ،کسی کی بہن بھی ہوسکتی ہے ۔ایک جیتی جاگتی انسان ہے جو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے اس دلدل مین پھنسی ہوگی۔۔ پر نہیں ان سفید پوش عیاشوں کو تو شبنم کے جسم سے مطلب ہے جس پہ گِد کی طرح نظریں جمائے ہوتے ہیں۔۔ کسی کی مجبوری بے بسی لاچاری تو کسی عزت دار کی عیاشیاں ۔۔یہاں گنہگار کون ہے ؟۔مجبور، کمزور ، بے بس،لاچار شبنم یا دولت کی گھمنڈ میں چور عیاش سفید پوش ؟؟؟؟ پھر بھی ہمیشہ سے بدنام تو میں ہی ہوں شبنم !!! کوئی یہ نہیں جانتا اس بے باک سجی دھجی ہونٹوں پہ مسکان سجائی شبنم کی روح بھی ہر رات تڑپتی ہے، جسم کراہ اُتھتا ہے، ایسے لگتا ہے جیسے کوئی سانپ شبنم کے بدن پہ رینگ رہا ہے۔۔ کیڑے ،مکوڑے، بچھو نوچ رہے ہیں۔ میرے ارمانوں ،میرے خوابوں کا جنازہ اٹھ رہا ہے، اس وقت شبنم زندہ لاش سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں رہتی ۔۔ ایک حقیقی لاش اور شبنم کی لاش میں بس اتنا ہی فرق ہے ، حقیقی لاش کی سانسیں نہیں چلتی،نہ ہی اسکو بھوک پیاس لگتی ہے اور نہ ہی اسے درد کا احساس ہوتا ہے۔۔ پر شبنم جیسی زندہ لاشیں جنکی سانسیں چل رہی ہوتی ہیں، جنہیں بھوک پیاس لگتی ہے اور انہیں درد محسوس ہوتا ہے ۔۔ پر انکے درد کی کسی کو کیا پرواہ؟ ان کے تکلیف سے کسی کا کیا لینا دینا ؟ کیونکہ شبنم تو انسان ہے ہی نہیں ؟ اسلئے شبنم سے ہمدردی یا مدد کرنے کی بات تو دور کی ہے، شبنم کے بارے میں سوچنے اور بات کرنے سے بھی عزت دار انسان کتراتے ہیں یہ سوچ کر کہ کہیں انکی زبان نہ میلی ہوجائے ،ہمدردی بھری نظروں سے دیکھنے سے کہیں انکی نظریں نہ ناپاک ہوجائیں ۔۔کوئی شبنم کو اس دلدل سے نکالنے کے لئے آگے نہیں آتا اور جو میرے بارے میں تھوڑی بہت ہمدردی رکھتا ہے وہ بھی مجھے ہی گنہگار ٹھہراتا ہے ، جس طرح سے کل کسی بزرگ نے مجھ سے کہا جب میں چوراہے پہ کھڑی معمول کی طرح انتظار کررہی تھی ،اس وقت ایسا لگا کوئی مجھے بہت دیر سے دیکھ رہا ہے، جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ ایک بزرگ بابا تھے جو کچھ کہنا چارہے تھے ،پر بدنامی کے ڈر سے یا ہچکچاہٹ کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ پارہے تھے اسلئے میں نے خود سے انہیں بات کرنے کی سوچی ،کیونکہ میں تو پہلے ہی بدنام شبنم ہوں جسے نا بدنامی کا ڈر ہے نا ہی کچھ لوٹنے کا ۔۔ یہ سوچ کر تیکھی مسکراہٹ لئے ان بزرگ کے کچھ پاس جا کھڑی ہوئی، جیسے ہی میں انکے قریب پہنچی وہ گھبراتے ہوئے اُچھل کر فاصلے پر ہٹ گئے، مانو میں کوئی بھوت یا اچھوت ہوں یا کسی بیماری کا شکارہوں جو انہیں لگ جائیگی ۔۔ پر مجھے انکے اس رویہ سے حیرانی نہیں ہوئی، کیونکہ یہ سب کچھ تو شبنم کے لئے ہر دن کی معمول کی بات ہے ۔۔ وہ ہچکچاتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئے اور نرم لہجہ سے مجھے بیٹا کہا، انکے زبان سے خود کے لئے بیٹا سنتے ہی شبنم پہ ہلکی سی مسکان سج گئی، شبنم کچھ دیر کے لئے اپنے تمام دکھ درد بھول گئی، زندگی میں پہلی بار شبنم کو ایسا لگا جیسے شبنم بھی ایک انسان ہے ،شبنم کی آنکھیں بھر اگئیں، اور میں بڑے ادب کے ساتھ بابا کی طرف متوجہ ہوئی ،پھر بزرگ بابا نے میری کیفیت کو بھانپتے ہوئے بڑی ہمدردی سے پوچھنے لگے کہ بیٹا تم یہ کام کیوں کرتی ہو؟ یہ بہت بڑا گناہ ہے جس سے اللہ بہت ناراض ہو تے ہیں۔ مرنے کے بعد قبر میں عذاب ملےگا، سانپ ، بچھو کاٹیں گے اور جہنم کی کبھی نہ بجھنے والی آگ میں جلایا جائیگا ،تم یہ سب چھوڑ دو، اتنا کہہ کر بزرگ وہاں سے فوراً مڑ کر جانے لگے ۔وہ مزید وہاں رکنااور بات کرنا نہیں چاہتے تھے ۔شاید انہیں بھی بدنامی کا ڈر تھا انکے جاتے ہی میری آنکھوں سے آنسووؤں کا سیلاب نکلنے لگا جو ناجانے کب سے مجھ میں گھٹن بنکر دبا ہوا تھا جو بابا کی ہمدردی پاکر لاوے کی طرح پھٹ پڑا ،میں وہیں سڑک کے کنارے ٹھپ سے بیٹھ گئی، میں اس وقت زور زور سے چیخنا چاہ رہی تھی، چلاکر بابا کو بلانا چاہ رہی تھی، اپنی بدنصیبی کی داستان آج ساری دنیا کو بتانا چاہتی تھی کہ شبنم یہ سب جان بوجھ کر نہیں کرتی ،شبنم بھی اس دلدل سے نکلنا چاہتی ہے۔عزت کی زندگی جینا چاہتی ہے، تاعمر کسی کی باندی بنکر اسکی پناہ میں رہنا چاہتی ہے۔۔شبنم کی زندگی مرنے کے بعد نہیں بلکہ جیتے جی لاش ہے ، ہر رات سجی سیج اسکے لئے کسی قبر سے کم نہیں ہے۔ سانپ ، بچھو اسکے جسم کو اب بھی نوچتے ہیں۔وہ اب بھی ہر دن ،ہر رات جسم فروشی کی آگ میں زندہ جل رہی ہے۔۔ شبنم آج بے درد سماج کے ساتھ ساتھ قدرت سے بھی پوچھنا چارہی ہے، آخر اس کو یہ کس گناہ کی سزا مل رہی ہے۔۔ غربت، مجبوری، بے بسی، لاچاری یا بدنصیبی کی ؟؟؟ یہ ہمارے سماج کی ایسی کڑوی سچائ ہے جو اندھیری راتوں کی بدنام گلیوں میں سسکتی، بلکتی اوردم توڑ رہی ہیں اور ہمارے حکمرانوں کی نظروں میں ایسی شبنم زندہ ہوتے ہوئے بھی مرچکی ہیں ،انکی آنکھوں سے اوجھل ہوچکی ہیں، انہیں تو صرف 3 طلاق اور لو جہاد ہی نظر آرہا ہے۔ جس سوچ کے چلتے 2100 مسلم لڑکیوں کو جبراً ہندو لڑکوں سے شادیاں کروانے کی جو سازشیں رچی جارہی ہیں، اگر اسکی جگہ شبنم جیسی بے سہارا لڑکیوں کے بارے میں سوچتے ہوئے انکی شادیاں کروادیں تو سماج کا بہت بڑا مسلئہ حل ہوسکتا ہے جس سے ملک کا بھی بھلا ہوجائیگا اور رہی طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں سوچنے اور انکا مستقبل بہتر بنانے کے لئے انکے پریوار انکی قوم کے ذمہ دار موجود ہیں الحمدللہ ! اس لئے ہماری ملک کے حکمرانوں،رہنماؤں اور ذمہ دار تنظیموں سے عاجزانہ گذارش ہے کوئی آگے آکر ایسے دلدل میں پھنسی ہوئ شبنم کو اس اذیت بھری خوفناک دنیا سے نجات دلائیں، ان کے بہتر مستقبل کے لئے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ یہ اس جہنم سے نکل کر عزت کی زندگی گذار سکیں ۔شبنم بھی جیتی جاگتی انسان ہے۔شبنم کو بھی عزت کی زندگی بسر کرنے کا پورا حق ہے۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

گورنر پنجاب چوہدری سرور کی استعفی طلب کیے جانے کی خبروں کی تردید

پاکپتن Oc گورنر پنجاب چوہدری سرور نے پاکپتن پہنچ کر دربار بابا فرید پر حاضری ...