بنیادی صفحہ » پاکستان » انڈیا: ’لڑکیوں کو اغوا کر کے قحبہ خانوں کو دیا جاتا ہے‘

انڈیا: ’لڑکیوں کو اغوا کر کے قحبہ خانوں کو دیا جاتا ہے‘

کہا جاتا ہے کہ انڈیا میں ہر سال پانچ لاکھ بچے لاپتہ ہوجاتے ہیں۔ ہماری ساتھی سونیا فالیورہ ایک ایسی 13 سالہ بچی کے والدین سے ملنے گئیں جو سڑک پر چل رہی تھی اور اس کی ماں نے دیکھا کہ ایک گاڑی آ کر رکی اور اس میں بیٹھے لوگ بچی کو پکڑ کر لے گئے۔

ایک صبح میں شمالی انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ایک دور دراز گاؤں میں اینٹیں بنانے والے ایک مزدور رام برہن سے اس وقت ملنے گئی جب اس کے گھر والے ایک شادی کی تیاری کر رہے تھے۔

دلہن برہن کی 15 سالہ بیٹی تھی۔ اس بچی کے چہرے کے تاثرات بہت معصوم اور وہ مٹی کے اس گھر کے فرش پر ہلدی میں لپٹی ہوئی تھی۔ مگر دیگر شادیوں کے برعکس اس میں نہ موسیقی تھی، نہ رقص، اور نہ ہی خوشی۔ بلکہ ماحول سوگوار تھا۔

یہ بھی پڑھیے

لڑکی نے شادی کے منڈپ سے دولھے کو اغوا کر لیا

انڈیا: 17 سالہ لڑکی کا ریپ، چار افراد گرفتار

بسکٹ کے ڈبوں میں ’نوزائیدہ بچے‘

رام برہن کا اپنی بیٹی کی اتنی جلدی شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ ان پڑھ دھاڑی دار مزدور ہے مگر ہر باپ کے لیے اپنے بچوں کے لیے وہ بہترین زندگی چاہتا تھا۔ انڈیا میں بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 18 سال ہے اور وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی تعلیم مکمل کر لے۔

مگر گذشتہ سال اپریل میں ان کی سب سے چوٹھی بچی اغوا ہوگئی تھی۔ مجھے رام برہن نے بتایا کہ بچی کی عمر 13 سال، نو ماہ، اور تین دن تھی۔

 

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

سندھ اسمبلی کے اجلاس کور کرنے والے پروفیشنل صحافیوں پر مشتمل ایسوسی ایشن کے قیام کا اعلان کردیا گیا

سندھ اسمبلی کے اجلاس کور کرنے والے پروفیشنل صحافیوں پر مشتمل ایسوسی ایشن کے قیام ...