بنیادی صفحہ » پاکستان » بانو بیوٹی پارلر۔۔۔ ۔ افسانہ۔۔ ۔۔ وقار احمد ملک

بانو بیوٹی پارلر۔۔۔ ۔ افسانہ۔۔ ۔۔ وقار احمد ملک

بانو بیوٹی پارلر۔۔۔ ۔ افسانہ۔۔ ۔۔ وقار احمد ملک
بانو باجی چائے میں بناتی ہوں آپ پارلر میں جائیں دلہن آپ کے انتظار میں ہے۔سعیدہ نے باورچی خانے میں آتے ہی کہا اور خوشبودار پتی کی ڈبیہ بانو سے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ بانو کچھ دیر کے لیئے بے حرکت سعیدہ کو تکتی رہی اور پھر باورچی خانے میں ہی لگے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی لامبی لامبی بھوری زلفیں سنوارنے لگی۔ بانو کو آئینے کے سامنے کھڑے جب کافی دیر ہو گئی تو سعیدہ کو کچھ حیرت سی ہوئی۔بانو اپنی سوچوں میں گم اپنے چہرے اور جسمانی خدوخال کے جائزوں میں مصروف تھی۔ کبھی زلفیں سنوارتی تو کبھی اپنے گندمی گول مٹول چہرے پر رخسار میں پڑے ڈمپل کو بائیں ہاتھ کی چیچی سے چھونا شروع کر دیتی۔ چائے تیار ہو چکی تو سعیدہ چپکے سے بانو کے پیچھے آ کر کھڑ ی ہو گئی اور پیار سے دونوں بازو اپنی بہن کی گردن کے گرد حمائل کردیئے۔بانو ابھی تک بے حرکت کھڑی تھی۔چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے بانو کے چہرے پر قدرے طمانیت بیدار ہوئی۔بیسن پر کھڑے ہو کر چہرے پر پانی کے دو چار چھینٹے پھینکے اورہلکے نیلے رنگ کے تولیے سے منہ پونچھ کر ڈرائنگ روم میں چلنے کو تیار ہو گئی جو ان کے لیئے بیوٹی پارلر کا کام بھی دیتا تھا۔
آج بانو کو لاریب کا چہرہ، زلفیں اور جسم سجانا تھا۔ لاریب کی کل شادی ہوئی تھی اور آج دوسرے دن کا ہلکا میک اپ کرانے اس کو بانو بیوٹی پارلر لایا گیا تھا۔ لاریب اور بانو سکول فیلو تھیں لیکن ان میں تین کلاسز کا فرق تھا۔ جب بانو نے انٹر کا امتحان پاس کیا تھا تو لاریب میٹرک میں پہنچی تھی۔ دونوں کا گھر ایک ہی محلہ میں تھا اور ان کے خاندانوں کے قریبی گھریلو مراسم بھی تھے اس لیئے اکثر بانو اور لاریب ایک ساتھ ہی سکول جاتی تھیں۔لاریب کا والد مقامی یونیورسٹی میں پروفیسر تھا۔ لاریب گرچہ بانو سے تین چار برس عمر میں چھوٹی تھی لیکن سرو قامت ہونے کے سبب اس کے برابر دکھتی تھی۔معصوم چہرے پر موٹی موٹی آنکھیں اور ان کوڈھانپے گھنی پلکوں کے غلاف اس کے حسین مستقبل کا پتہ دے رہی تھیں۔ ستواں ناک کے بائیں جانب سیاہ رنگ کا تل اس کے چہرے پر خوب جچتا تھا۔ لاریب کی دودھیا رنگت اس سیاہ تل کی جازبیت اور دلکشی میں اور اضافہ کر دیتی تھی اور دور سے یوں معلوم ہوتا تھا گویا اس نے کالے نگ والی نتھلی پہن رکھی ہو۔ بانو کی طرح لاریب کے رخسار پر بھی گڑھا موجود تھا لیکن اس کی گہرائی واجبی تھی اس لیئے پہلی نگاہ میں محسوس نہیں ہوتا تھا۔
وقت کلانچیں بھرتا دوڑتا رہا۔ بانو ایف ایس سی کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخل ہوئی تو چند ماہ بعد اس کی زندگی میں فرحان جانے کہاں سے داخل ہو گیا۔ متناسب جسم کا حامل فرحان اپنی خوش گفتار طبیعت کے باعث کلاس بھر میں کافی مقبول تھا۔ ٹیوٹوریل پیریڈ میں جب وہ میر کی غزلیں گایا کرتا تو کلاس کے نسوانی حصے پر ایک طلسم بپا ہو جاتا۔ وہ ایک اچھا شاعر اور مقرر بھی تھا۔ یونیورسٹی میں ہر پروفیسر اور فیکلٹی ممبر سے اس کی صاحب سلامت تھی۔ اس کے قدرے فربہ جسم پر ہر لباس جچتا تھا۔ گرمیوں میں جب کلف لگا سفید کاٹن کا سوٹ پہن کر آتا تو ایک شہزادہ معلوم ہوتا تھا۔ دوسری طرف بانو کا تو ایک شوق اور ایک ہی مشغلہ تھا۔ اور وہ تھا نت نئے کاسمیٹکس کے فیشنز اور سجنا سجانا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے گھر میں ایک بیوٹی پارلر بھی کھول رکھا تھا جو اس کو شوق کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اس کی آمدن کا بھی ایک معقولذریعہ تھا۔ بی ایس پروگرام میں انہوں نے چار سال گزارنے تھے۔ سمسٹر سسٹم میں آخری سال یعنی آخری دو سمسٹرز بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ گریڈنگ بڑھانے کے لیئے ہر قسم کے جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ فرحان کا جی پی پہلے چار سمسٹر میں بہت اچھا تھا لیکن جانے کیوں پانچویں اور چھٹے سمسٹر میں بہت نیچے چلا گیا۔ یہ وہی عرصہ تھا جب بانو اور فرحان میں قربت بہت بڑھ چکی تھی اور کئی کے بقول یہ مستقبل کا جوڑا بھی قرار دے دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کیفے ٹیریا جو مین بلڈنگ سے تھوڑا ہٹ کر شہتوت اور جامن کے درختوں کے دامن میں موجود تھا پر ہر وقت رش لگا رہتا۔کیفے ٹیریا کے پیچھے کوئی پچاس سو گز کے فاصلے پر کیلے، امرود اور مالٹے کے درختوں نے ایک کُنج بنا دیا تھا جس میں ویرانی اور خاموشی چھائی رہتی تھی۔ اس کنج کی دیکھ بھال کرنے کو کوئی نہیں تھا اس لیئے بے ترتیب شاخیں، بے ترتیب ٹہنیاں اور صدیوں سے گرے سوکھے پتے اس خاموش گوشے کو جنگلی ماحول عطا کر رہے تھے۔ کلاسز دوپہر ایک بجے ختم ہو جاتیں تو کیفے ٹیریا آہستہ آہستہ ویران ہونا شروع ہو جاتا۔کیفے ٹیریا کا سٹاف دو لڑکوں اور دو بوڑھے ملازمین پر مشتمل تھا۔صفائی ستھرائی کرنے کے بعد لڑکے رخصت لیتے اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ نصف گھنٹے کے بعد دو بوڑھے ملازمین کے علاوہ وہاں کوئی نہ ہوتا۔ بانو اور فرحان اکثر اس وقت اس کنج میں آ کر بیٹھ جاتے۔ دونوں کی توجہ نہ کھانے پینے پر ہوتی نہ اپنے سلیبس اور لکھائی پڑھائی پر۔ یہ پیٹ اور ذہن سے بہت پرے دل کی بستیوں کے مکین بن چکے تھے۔ جذبات، احساسات اور محسوسات کی اس دنیا میں بیٹھے بیٹھے کبھی کبھی تو شام کے سائے جھومنا شروع ہو جاتے۔کہتے ہیں جب شام سمے آسمانوں سے اترتا ہے تو تھوڑی دیر کے لیئے روح اپنی مٹیالی کوٹھڑی کی قید سے آزاد ہو جاتی ہے۔ ایسے میں شام کو ایک روحانی کیف کی عنایت ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار جب روحانی پاکیزگی کی چادر اتر جاتی تو شام کے وقت کنج میں آرام کرنے والے پرندے اچانک شور کرنا شروع کردیتے۔ پرندوں کا غُل محوِ پروازروحوں کی توجہ کو گھاس پر ہونے والی بدنی سنگت اور تال میل کی طرف کر دیتا۔ یہ عمل تو چند ساعتوں کا ہوتا لیکن اثر اس کا شاید ازل کا تھا۔
دسمبر کی چھٹیوں سے ایک دن پہلے دس دن کی جدائی تلخ بنانے کے لیئے چھٹی کے بعد دونوں اسی کنج میں جا بیٹھے۔ آج صبح سے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ کبھی کبھی بادل چھا جاتے تو ہواؤں کی خنکی اور بڑھ جاتی۔دوپہر کے وقت ہلکی ہلکی بوندا باندی نے ماحول اور بھی رومانوی اور دلکش بنا دیا تھا۔اس خاموش گوشے کے بے آسرا درخت ہواؤں کے دوش پر ایک دوسرے کے گلے مل رہے تھے۔ خاموشی اور شور کا ایک عجیب رشتہ قائم ہو رہا تھا۔وہ دونوں آج تھوڑا اور بھی آگے نکل گئے تھے اور کیلے کے درخت کے پہلو میں اس طرح براجمان تھے کہ کوئی ڈھونڈے بھی تو ان کا ملنا آسان نہ تھا۔ بانو کا ہلکے زرد رنگ کا لیدر بیگ اس کے پاس پڑا تھا۔ بیگ میں سے جدید فیشن کی لپ سٹک، پنیں اور بلیو فار وومین کا پرفیوم زپ کھلی ہونے کی وجہ سے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ بانو نے زرد رنگ کا سوٹ اور اوپر سیاہ رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی۔جیکٹ کی زپ کھلی ہوئی تھی۔ پت جھڑ کے زرد موسم میں بانو کا حسن نکھر رہا تھا۔ فرحان نے ہلکا نیلے رنگ کا سوٹ اور چرمی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ آج فرحان نے کلاس میں کسی مشکل موضوع پر پریزینٹیشن دی تھی جس کی تیاری وہ پچھلے ایک ہفتے سے کرتا آ رہا تھا۔ اس کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا۔ بانو کے ہاتھ ایسے میں دوا کا کام دیتے تھے۔ اس سرد شام کو جب کیلے، امرود اور مالٹوں کے پتے زرد رنگ اختیار کر چکے تھے اور کنج کی ویرانی کو پہلے سے شدید بنا رہے تھے بانو نے پہلے کی طرح فرحان کے سر میں اپنی نازکشروع کر دیا۔ سعیدہ حسبِ سابق اپنی بہن کی معاونت کر رہی تھی۔ لاریب کے چہرے پر مساج کرتے ہوئے بانو کے ہاتھوں کی حرکت
قدرے معدوم پڑ گئی۔ اس کو نیند سی محسوس ہو رہی تھی۔ لاریب کو جیسے ہی بانو کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا اس کی آنکھوں کا خمار جاتا رہا۔ بانو اب عورت نہیں رہی تھی بلکہ دلہن کو نیا روپ دیتے ہوئے اس کے ہاتھ مردانہ انداز میں لاریب کو چھو رہے تھے۔۔معصوم چہرے پر موٹی موٹی آنکھیں اور ان کوڈھانپے گھنی پلکیں سنوارتے ہوئے اس نے چشمِ تصور میں فرحان کو شیروانی میں ملبوس دیکھا۔ بانو کی آنکھوں کے سامنے منظر بدل رہے ہیں۔بانو بیوٹی پارلر میں فرحان جانے کہاں سے آ گیا ہے۔ شاید اس کی آمد کھلے ہوئے روشن دانوں سے ہوئی ہے جہاں بیٹھی دو ننھی منی نیلی نیلی چڑیاں بھی اس کا داخلہ روک نہیں سکیں۔ البتہ انہوں نے مقدور بھر شور مچا کر احتجاج کی صدا بلند کی تھی۔ دلہن کی سرخ پیشانی کا بوسہ لیتے ہوئے فرحان کے ہاتھ سیاہ ناگنی زلفوں میں کنگھی کر رہے ہیں۔ ایک اور منظر میں مظبوط مردانہ انگلیاں چھوٹے سے گڑھے کی گہرائیاں ماپ رہی ہیں۔یہ ڈمپل اگرچہ معمولی سا تھا لیکن آج واضح طور پر دلہن کے حسن میں اضافہ کر رہا ہے۔ دلہن کا سر درد کرنے لگا ہے اور دولہے نے اپنی جھولی پیش کر دی ہے۔منظر پھر بدل رہاہے۔ اب کے فرحان چھوٹے سے کالے پتھر سے کھیل رہا ہے۔یہ پتھر کبھی کالا موتی بن جاتا ہے تو کبھی ستواں ناگ پرجگمگاتا کالا سا تل۔چڑیوں کا شور بڑھ گیا ہے۔ بانوچڑیوں کے شور سے پریشان ہے۔ لیکن وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ پرندوں کے ایسے غُل سننے کی عادت اب اس کے کام آ رہی ہے۔ لاریب کا حسن نکھرتا چلا جا رہا ہے۔ لاریب ڈریسنگ چیئر پر بے خود پڑی ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کسی نے کوہ ہمالیہ کو مرتکز کر کے کرسی میں نصب کر دیا ہو۔ پہاڑکی چوٹیاں او ر گھاٹیاں دیکھنے والوں کو فریب دے رہی ہیں۔ حسن کا جادو سر چڑھ کے بول رہا ہے۔ ماحول میں روحانی کیف کی سی کیفیت آ موجود ہوئی ہے۔ بدنی کثافت کو تیاگ کر روحوں نے آسمانوں کی سیر کرنا شروع کر دی ہے۔ مورتیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں۔ چکنی مٹی کو خوب گوندھا جا رہا ہے۔ خاموش پرندوں نے اچانک شور مچانا شروع کر دیا ہے۔ شور بڑھتا چلا جا رہا ہے، اتنا کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی۔ اچانک مینہ برسنا شروع ہو گیا ہے۔ نمکین پانی کے دو تین قطروں نے دلہن کے چہرے کو بھی گیلا کر دیا ہے۔
بانو نے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے جلدی سے ٹشو پیپر سے اپنی آنکھوں کو صاف کیا۔ لاریب تیار ہو چکی تھی۔ اس کے چہرے کی معصوم مسکراہٹ شب بھر کی تھکاوٹ کو معدوم کر رہی ہے۔ماحول میں سکون اور خاموشی کی فضا طاری ہو چکی ہے۔ بانو بیوٹی پارلر کے روشن دان میں بیٹھی نیلے رنگ کی دو چڑیوں نے دھیمی دھیمی سروں میں چوں چوں کر کے اس سکون اور خاموشی کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کرنا شروع کر دی ہے۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ضیاءالدین یونیورسٹی کے سولہویں کانووکیشن کی پر وقار تقریب

ضیاءالدین یونیورسٹی کے سولہویں کانووکیشن کی پر وقار تقریب 572 طلبہ کو اسناد تقویض کی ...