بنیادی صفحہ » پاکستان » ” سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے” ۔قومی نغموں کا ایک عہد ختم ہوگیا ۔ !!

” سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے” ۔قومی نغموں کا ایک عہد ختم ہوگیا ۔ !!

” سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے” ۔قومی نغموں کا ایک عہد ختم ہوگیا ۔ !!
انتہاٸی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ جیوے جیوے پاکستان اور سوہنی دھرتی اللہ رکھے جیسے لازوال قومی نغمات گانے والی معروف قومی گلوکار شہناز بیگم ہم میں نہ رہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ شہناز بیگم جو جنوری 1952 کو محمد فضل الحق کے گھر اور مسجدوں کے شہر ڈھاکا میں پیدا ہوٸی تھیں انہوں نے 1962 میں ریڈیو پاکستان ڈھاکا سے اسکول براڈکاسٹنگ میں گانا شروع کیا جہاں وہ بچوں کے لیے بنگلہ زبان میں پاکستانی قومی نغمات ( دیشی گان ) گاتیں جن میں عبدالاحد ، صفیہ امین اور ساتھیوں کے ساتھ انہوں ” آمر پاک دیش ” جیسا ترانہ بھی گایا ۔ 1965 کی جنگ کے بعد انہوں نے طالبات کے ہمراہ ” جمہور کے نغمات ” سیریز میں دیبو بھٹّا چاریا کے ساتھ ایک مقبول جنگی ترانہ ” ایشان ہیّا رے ہّیا ہو ” بھی گایا ۔لیکن 1968 میں ریڈیو پاکستان ڈھاکا سے قومی نغموں کی ایک سابقہ جہت "قومی نذرل گیتی” اور ایک بنگالی قومی نغمہ ” آچھے شے پاک دیش ” گا کر انفرادی مقبولیت حاصل کی اور جب ڈھاکا میں حالات خراب ہوٸے تو وہ 1970 میں کراچی آگٸیں جہاں انہوں نے سب سے پہلے اسد محمد خان کا تحریر کردہ قومی نغمہ ” جٸیں تو اس دھرتی کی خاطر مریں تو اس کے نام ” کراچی ریڈیو پر گایا جو مشرقی پاکستان کی طرف سے مغربی حصّے کے لیے والہانہ محبت کا اظہار تھا۔ یہ نغمہ اگست 1970 کو ریڈیو پاکستان کراچی ٹرانسکرپشن سروس نے مہدی حسن صاحب کے بڑے بھاٸی پنڈت غلام قادر کی موسیقی میں تیار کیا تھا جس میں بنگال کا حُسنِ گلو اپنے حسین ترنم سے کہتا ”
” یہاں سویرا پھول کھلاٸے ، رس برساٸے شام
جیٸیں تو اس دھرتی کے ناطے مریں تو اس کے نام ”
تو سننے والوں میں وطنِ پاک کے مناظر کا ایک پرکیف احساس جاگتا، بعد میں یہی نغمہ انہوں نے سہیل رعنا صاحب کی ایک نٸی طرز میں بھی گایا اور وہی پھر مقبول ہوا۔ دسمبر 1971 کی جنگ میں شہناز بیگم نے مہدی حسن خاں صاحب کے ساتھ پہلا جنگی ترانہ ” تدبیرِ جنگ روحِ بلالیؓ کے ساتھ ہے ” گایا جو جوشِ ایمانی سے مزین ایک شاندار قومی نغمہ تھا جس میں بھارت کے لیے واضح پیغام تھا :
” پھر رزمِ خیر و شر میں اُدھر سے چھڑی ہے بات
پھر قہرِ غزنویؒ کو پکارے ہے سومنات ”
اس کے علاوہ دورانِ جنگ اور جنگ کے بعد شہنشاہِ غزل مہدی حسن خاں صاحب کے ساتھ انہوں نے سب سے ذیادہ ڈوٸٹ قومی نغمات گانے کااعزاز بھی حاصل کیا جن میں ” میری پاک زمیں” بے حد مقبول ہوا ۔ شہناز بیگم نے 1971 ہی کی جنگ میں بھارت کو للکارتے ہوٸے پیروڈی ترانہ ” وہ جنتا کہاں سے لاٶں ” اقبال علی مرحوم کے ساتھ گایا پھر اُن کی آواز میں قومی نغمات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو کبھی ” موج بڑھے یا آندھی آٸے دیا جلاٸے رکھنا ہے ” کی شکل میں گونجا تو کبھی حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کے الفاظ ” ہے یہی میری نماز ہے یہی میرا وضو ” کی صورت پاک وطن سے والہانہ عشق کا درس دیتا رہا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے لیے انہوں نے مسرور انور صاحب کا تحریر کردہ قومی نغمہ ” وطن کی مٹی گواہ رہنا ” سب سے پہلے گایا جسے سہیل رعنا نے موسیقی سے سجایا تھا ۔ مگر جنگ کے بعد مشرقی پاکستان کی اس قومی گلوکارہ کو شہرت اس وقت ملی جب 23 مارچ 1972 کو انہوں نے مسرور انور کا تحریر کردہ ” سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے ” اور پھر عالی جی کا تحریر کردہ نغمہ ” جیوے جیوے پاکستان ” گا کر خود کو قومی نغمات کی صف میں ممتاز کروالیا ۔ یہ نغمات آج بھی ہمارے قومی نغمات کی ایسی پہچان ہیں کہ انہیں سنے بغیر کوٸی بھی قومی تہوار پھیکا محسوس ہوتا ہے بلکہ سوہنی دھرتی اللہ رکھے کو 1997 می گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے پہلا انعام ملا جبکہ عالی جی کا عزیز ترین نغمہ "جیوے جیوے پاکستان ” جو طاہرہ سید کی آواز میں پہلے پی آٸی اے کا کمرشل تھا عالی جی خواہش پر سہیل رعنا نے اسے نٸے سرے سے مرتب کرکے عشرت انصاری کی پیشکش میں تیار کروایا تو اہلِ ہوس صاحبانِ اقتدار کی وجہ سے دل شکستہ قوم کو ایک بار پھر تقویت ملی ۔ شہناز بیگم نے جنگِ دسمبر کے بعد سلیم گیلانی صاحب کا تحریر کردہ ایک شاندار قومی نغمہ ” گلوں کا رنگ چمن کا نکھار تجھ سے ہے ” بھی غزل کے انگ میں ریکارڈ کروایا جو ریڈیو پاکستان کا ایک یادگار قومی نغمہ ثابت ہوا ۔پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے لیے انہوں نے بے شمار قومی نغمات ریکارڈ کرواٸے جنہیں اکثر اسد محمد خان صاحب نے لکھا اور سہیل رعنا نے موسیقی سے مزین کیا تھا ۔ افسوس کہ شہناز بیگم جو میجر رحمت اللہ سے شادی کرکے شہناز رحمت اللہ بن گٸی تھیں وہ ناگزیر وجوہات کی باعث بنگلہ دیش چلی گٸیں جہاں انہوں نے بنگلہ قومی گیت گاٸے مگر وہ رونا لیلیٰ کی طرح نمک حرام نہ تھیں بلکہ جب جب وہ پاکستان آتیں تو بلا خوف و خطر اپنے یادگار قومی نغمات گاتیں ۔ ان کا پاکستان میں آخری پرگرام 2009 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے لیجنڈ پروڈیوسر جناب امجد حسین شاہ Amjad Shah نے پیش کیا اور پرسوں ہی امجد بھاٸی کے کمرے میں شہناز بیگم کے حوالے سے ہی بات ہورہی تھی کہ اب اگر وہ آٸیں تو اُن سے ” وطن کی مٹی گواہ رہنا ” ضرور ریکارڈ کرواٸیے گا ۔ لیکن مشیت خداوندی یہی ہے کہ اب شہناز بیگم کی آواز ہم دوبارہ نہیں سن سکیں گے ۔ ہاں ایک اہم بات ! شہناز بیگم نے عزت 23 مارچ کے موقع پر جیوے پاکستان اور سوہنی دھرتی جیسے قومی نغمات سے ہی حاصل کی تھی اور آج ہی کے دن بنگال کے فرزند مولوی اے کے فضل الحق نے قراردادپاکستان پیش کی تھی تو آج ہی کے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلالیا جبکہ سوہنی دھرتی اللہ رکھے وہ قومی نغمہ ہے جس کے عوض شاعر مسرور انور کو 25 روپے کا چیک ملا تھا جو انہوں نے تادم مرگ کیش نہیں کروایا کہ شاید اللہ کے نام پہ حاصل کردہ وطن کے لیے یہی دعا ان کے لیے توشہٕ آخرت بن جاٸے تو اللہ سے دعا ہے کہ اپنے اس عظیم وطن کے لازوال اور محبت و عقیدت سے معمور ترانوں کے عوض شہناز بیگم کی خطاٶں کو معاف کرکے انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ آمین ثم آمین ۔ جیوے جیوے پاکستان…..

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

گورنر پنجاب چوہدری سرور کی استعفی طلب کیے جانے کی خبروں کی تردید

پاکپتن Oc گورنر پنجاب چوہدری سرور نے پاکپتن پہنچ کر دربار بابا فرید پر حاضری ...