بنیادی صفحہ » کالم و مضامین » ایٹمی جنگ کا خطرہ اور عالمی برادری کا کردار

ایٹمی جنگ کا خطرہ اور عالمی برادری کا کردار

ایٹمی جنگ کا خطرہ اور عالمی برادری کا کردار

سیدہ کوثر منور ( لندن )

اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ اس سیکولر ہونے کی دعویدار ریاست کے دامن پر دھبہ ہے‘ وہاں حکومت اقلیتوں کی حفاظت نہیں کررہی‘ ہم اقلیتوں سے کسی قسم کا ظلم نہیں ہونے دینگے۔ گزشتہ روز چھاچھرو تھرپارکر میں ایک پبلک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانوں کی تقسیم کرکے ووٹ لینا نفرت کی سیاست ہے۔ کراچی میں ایک شخص نے نفرت اور تشدد کی سیاست کی‘ اگر نفرتوں کی سیاست نہ ہوتی تو کراچی دوبئی کا مقابلہ کررہا ہوتا۔ انکے بقول پاکستان میں کوئی پختونوں کے نام پر سیاست کرتا ہے‘ پنجاب میں جب مشکل پڑتی ہے تو جاگ پنجابی جاگ کے نعرے لگائے جاتے ہیں‘ اسی طرح جب سندھ میں جیل جانے لگتے ہیں تو سندھ کارڈ سامنے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہاں مہاتما گاندھی جس نے مسلمانوں کیلئے بھوک ہڑتال کی اور کہاں مودی کا ہندوستان جس میں مسلمانوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے‘ مودی کا مقصد نفرتیں پھیلا کر ووٹ لینا ہے اس لئے وہ جنگ کا ماحول بنا رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں ہمارا ہیرو ٹیپوسلطان ہے‘ بہادر شاہ ظفر نہیں‘ ٹیپوسلطان آخری دم تک لڑا‘ اسی طرح میں اور میری قوم آخری دم تک آزادی کیلئے لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے‘ مودی کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ ہم اپنے دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں‘ بھرپور جواب دینگے‘ الیکشن جیتنے کیلئے مسلمانوں کا خون نہیں بہنے دینگے‘ کوئی سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو غلام بنا لے گا‘ چاہے وہ بھارت ہو یا کوئی سپرپاور‘ وہ سن لے‘ ہم آخری گیند تک آزادی کی جنگ لڑیں گے‘ ہماری فوج اور عوام تیار ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ پاکستان کی زمین کو باہر کسی قسم کی دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے‘ کئی عسکری گروپ ختم ہوچکے ہیں‘ ہم کسی بھی عسکری گروپ کو نہیں چلنے دینگے۔
مودی سرکار نے درحقیقت پاکستان اور مسلم دشمنی کے ایجنڈے کے تحت بھارت کے سیکولر چہرے پر بدنما داغ لگاتے ہوئے اسے ایک ہندو انتہائ پسند جنونی ریاست میں تبدیل کر دیا ہے جہاں فی الواقع دلت ہندوﺅں سمیت کسی بھی اقلیت کیلئے جان و مال کا تحفظ نہیں رہا۔ ہماری ارض وطن کے ساتھ تو بھارت کا شروع دن کا اس لئے خدا واسطے کا بیر ہے کہ اسکی تشکیل اکھنڈ بھارت کے خواب چکناچور کرتے ہوئے اسکی کوکھ میں سے کی گئی تھی جس کیلئے قائداعظم کی لاثانی قیادت میں ہندوستان کے مسلمانوں نے پورے تسلسل کے ساتھ پرامن جدوجہد کی اور ہندو کے وضع کئے گئے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہی ہندو بنیائ کی ساہوکارانہ سوچ کو شکست دے کر پاکستان کی شکل میں مسلمانوں کیلئے ایک الگ خطہ? ارضی دنیا کے نقشے پر نمودار کرکے دکھایا۔ بلاشبہ یہ ملک خداداد رہتی دنیا تک قائم رہنے کیلئے تشکیل پایا ہے جو ہندو لیڈران کو اس لئے قبول نہیں کہ اسکی تشکیل سے انکے مہابھارت کے باطل نظریے کو شکست فاش ہوئی ہے چنانچہ انہوں نے پاکستان کی سالمیت کمزور کرنے کی شروع دن سے ہی ٹھان لی تھی۔ اسی بنیاد پر قیام پاکستان سے اب تک بھارت اخوت و امن کے پرچارک اپنے اس پڑوسی ملک کی سلامتی کے درپے ہے جسے سانحہ? سقوط ڈھاکہ کے تحت دولخت کرکے بھی ہندو بنیائ لیڈروں کی آتشِ انتقام ٹھنڈی نہیں ہوئی اور وہ اسکی سلامتی کو تاراج کرنے کی گھناﺅنی سازشوں میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ بھارت کی حکمران بی جے پی تو اس بنیاد پر بھی پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے کہ وہ اس ارض وطن کو ہندو انتہائ پسند ریاست کیلئے اپنے منصوبے کی راہ میں حائل تصور کرتی ہے۔
چونکہ نریندر مودی مکتی باہنی کی پاکستان توڑو تحریک میں عملی طور پر حصہ لے چکے ہیں جس کا انہوں نے بنگلہ دیش میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فخریہ اعتراف کیا تھا اس لئے وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے باقیماندہ پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کا کریڈٹ بی جے پی کی حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کی مذموم منصوبہ بندی کی اور اس مقصد کے تحت ہی انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور کنٹرول لائن پر سرحدی کشیدگی بڑھانا شروع کی اورنام نہاد سکیولر بھارت کی فضا پاکستان دشمنی کے جذبات ابھار کر گرماتے رہے۔
مودی سرکار کو پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے تناظر میں اس پر ماضی جیسی جارحیت مسلط کرنے کی تو جرا?ت نہیں ہوئی مگر اس نے اس خطے میں جنگ کی فضا بھڑکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے باعث اس خطے کے ممالک کے علاوہ اقوام عالم کو بھی بجا طور پر ایک ایسی ایٹمی جنگ کے خطرات سائے کی طرح منڈلاتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو اس پورے کرہ? ارض کی تباہی پر منتج ہو سکتے ہیں اس لئے اب عالمی قیادتیں اور نمائندہ عالمی ادارے ایٹمی جنگ کے خطرہ کو ٹالنے کی خاطر پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی ختم کرانے کیلئے ثالثی کی پیشکش بھی کررہے ہیں اور دونوں ممالک پر اپنی اپنی پالیسی کے تحت دباﺅ بھی ڈال رہے ہیں۔ اس تناظر میں امریکہ‘ چین‘ برطانیہ‘ یورپی یونین‘ فرانس‘ ترکی‘ سعودی عرب‘ قطر کی قیادتیں زیادہ متحرک ہوئی ہیں جبکہ پاکستان بذات خود بھی امن کی راہ پر گامزن ہے اور بھارت کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر طے کرنے کی مسلسل پیشکش کررہا ہے۔ مگر ہندو انتہائ پسندی کے غلبے کی مجہول خواہش مودی سرکار کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی جسے اب آنیوالے انتخابات میں ہندو ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی خاطر بھی پاکستان دشمنی کو فروغ دینے کی مجبوری لاحق ہے چنانچہ اسکی استوار کی گئی کشیدگی کی اس فضا میں ہی پلوامہ خودکش حملہ ہوا جس کا بلاتحقیق ملبہ پاکستان پر ڈالنے میں مودی سرکار نے ذرہ بھر دیر نہ لگائی اور پھر اسکی سلامتی کو خود نریندر مودی نے کھلم کھلا چیلنج کرنا شروع کر دیا جس پر وزیراعظم عمران خان نے بھی مودی سرکار کو مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ کرتے ہوئے مسکت جواب دیا کہ اس نے پاکستان پر حملے کی حماقت کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔ مودی سرکار نے اس پرامن کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے پاکستان کیخلاف گیدڑ بھبکیوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا اور پھر پاکستان کی فضائی حدود میں دراندازی سے بھی گریز نہ کیا جس کا ہماری عسکری قیادت کی جانب سے بھی دوٹوک جواب دے کر باور کرایا گیا کہ مودی سرکار کو اس فضائی دراندازی کا بھرپور جواب ملے گا جس کیلئے وقت اور جگہ کا انتخاب ہم خود کرینگے۔
اگلے روز جب جنونیت میں باولی ہوئی مودی سرکار کی جانب سے دراندازی کی نیت سے بھارتی فضائیہ کے طیارے پھر پاکستان کی فضائی حدود میں داخل کئے گئے تو پہلے سے مستعد و چوکس پاک فضائیہ کے دستے نے ان بھارتی طیاروں کو فضا میں ہی اچک لیا جس میں سے دو طیارے مار گرائے اور انکے پائلٹ زندہ حراست میں لے لئے۔ پاکستان کے اس بھرپور جواب کے بعد بھارت کو عملاً سانپ سونگھ چکا ہے مگر پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشیں اس نے ابھی تک ترک نہیں کیں اور اندونی و بیرونی میڈیا کے ذریعے بھارت کی جنگی تیاریوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔ اس مقصد کے تحت ہی بھارت نے روس کے ساتھ ایٹمی آبدوز خریدنے کا بھی معاہدہ کرلیا ہے اور اپنی مزید 20 فیصد فوج بھی پاکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب تعینات کر دی ہے۔
بھارت کی ان جنگی تیاریوں کو بھانپ کر ہی گزشتہ روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں اقوام عالم کو پاکستان بھارت ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کیا ہے اور اسکے خوفناک نتائج سے خبردار کرکے عالمی برادری سے یہ جنگ ٹالنے کیلئے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اسکے بقول دنیا کی نظریں شمالی کوریا پر ہیں مگر اسلام آباد اور دہلی خطرناک حدود میں داخل ہوچکے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے مابین تصادم آسانی سے نہ ٹل پائے جبکہ تصادم عالمی تباہی پر منتج ہو سکتا ہے۔ اخبار نے یہ تصادم ٹالنے کا نسخہ مسئلہ کشمیر کا حل بتایا ہے اور باور کرایا ہے کہ عالمی دباﺅ کے بغیر مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل ممکن نہیں۔
پاکستان تو فی الحقیقت آج بھی امن کا پرچم تھامے ہوئے ہے جو سرحدی کشیدگی ختم کرانے کیلئے بھارت کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات پر ہمہ وقت تیار رہتا ہے مگر بھارت اس کا مثبت جواب دینے کے بجائے پاکستان دشمنی کو فروغ دینے کے ایجنڈے پر ہی کاربند ہے اور وہ کسی عالمی دباﺅ کو بھی خاطر میں نہیں لارہا۔ اس صورت میں پاکستان کے پاس اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے ایٹمی ٹیکنالوجی سمیت تمام وسائل بروئے کار لانے کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے اس لئے یہ علاقائی اور عالمی قیادتوں اور انکے نمائندہ اداروں کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کے جنگی جنون کے آگے بند باندھیں یا پھر وہ اس بھارتی جنون کا خمیازہ علاقائی اور عالمی تباہی کی صورت میں بھگتنے کیلئے تیار رہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسئلہ کشمیر کا قابل قبول اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھارت سے عملدرآمد کرانے سے ہی ممکن ہے جس کیلئے بہرصورت اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے ہی کردار ادا کرنا ہے۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

صحافت کیا ہے؟: :محمد شریف گل

صحافت کیا ہے؟ انسان جب اس کائنات میں حادثاتی طور پر داخل ہوا تو اللہ ...