بنیادی صفحہ » کالم و مضامین » ’’بھوک تہذیب کے آداب بھلادیتی ہے!!‘‘

’’بھوک تہذیب کے آداب بھلادیتی ہے!!‘‘

یوم مئ کے حوالے سے تحریر
’’بھوک تہذیب کے آداب بھلادیتی ہے!!‘‘
تحریر :فہیم زیدی …دمام .. ،سعودی عرب
رات اشفاق صاحب نے اپنے بھائی اتفاق صاحب اور اپنی فیملی ممبران کو صبح جلدازجلد تیار رہنے کی ہدایت کی تھی ان کا کہنا تھا کہ صبح ہوتے ہی گھر سے سمندر کی جانب سیر تفریح کے لئے چل نکلیں گے کیوں کہ وہ تفریح کے لمحات کو زیادہ سے زیاد ہ انجوائے کرنے کے خواہش مند تھے بقول اشفاق صاحب کے چھٹی کا کوئی دن ضائع نہیں ہونا چاہئے اس کو بھر پور انداز سے انجوائے کرنا چاہئے بس اسی خیال سے آج یکم مئی ’’لیبر ڈے‘‘ کے موقع پر سرکاری چھٹی پر بھی انھوں نے دونوں فیملیوںکے ہمراہ ساحل سمندر کی سیر کا پروگرام بنایا ہوا تھا ۔ اشفاق صاحب اور ان کے بڑے بھائی اتفاق صاحب کا شمارملک کے معروف صنعت کاروں میں ہوتا تھا۔ان دونوں گھرانوںکا معمول تھا کہ کوئی بھی چھٹی ہو وہ کہیں باہر جاکر انجوائے ضرورکیا کرتے تھے ۔ فقر و فاقے کے مفہوم سے یہ لوگ یکسر نا آشنا تھا ،بھوک و افلاس کیا شے ہی کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔چھٹی والے دن بھی شاہراہ پر ٹریفک کا اژدھام نظر آیا گھروں سے نکلے ہوئے یہ سب لوگ بھی کہیں نہ کہیں سیر سپاٹے کے لئے نکلے ہوئے تھے اسی لئے عام دن کے مقابلے میں شاہراہ پر رش کافی تھا ۔ سگنل پرجیسے ہی گاڑی رکی تو ایک کم سن لڑکا ہاتھ میں کپڑا لئے گاڑی کے شیشے صاف کرنے کرنے لگا اسی اثناء میں ایک اور کم عمر ہاکرلڑکا ہاتھوں میں اخبار ات تھامے میری طرف بڑھا میں نے نہ چاہتے بھی اس بچے سے اخبار خرید لیااور اخبار پر نظریں دوڑانے لگے یک بارگی میری نگاہ ایک خبر پر آخر ٹھہر گئی جس میں غربت زدہ ماں کو بھوک سے بلبلاتے اپنے تین کمسن بچوں کی بھوک برداشت نہ ہوئی اور اپنے ہاتھوں ان کا گلا دبا کر جان سے مار دیا اس خبر نے میری روح کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا میرارواں رواں کانپ اٹھا کہ کہ کوئی ماں اس انتہا تک بھی جا سکتی ہے باقی تفصیلات میں درج تھا کہ محنت کش شوہر مزدوری کرکے بہ مشکل گزارا کرتا تھا ہنگامہ آرائی میں نا معلوم سمت سے آنے والی ایک اندھی گولی کا نشانہ بن کر اس دارفارنی سے کوچ کرگیا تھا، ملک میں اس قدر غربت اورتنگ دستی ہے کہ کوئی اتنی ماں سنگ دل بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بھوک کے ستائے بچوں کو بھی مارنے سے بھی اجتناب نہیں برتتی۔ تھوڑا مزید سفر طے کیا تو آگے بھی راستہ بند ملا ،ٹریڈیونینز اورسماجی تنظمیں آج کے دن کی مناسبت سے مزدوروں کے حق میں ریلیاں نکال کر ان سے اظہار یک جہتی کررہی تھیں کامریڈ او ر مزدور رہ نما ان ریلیوں کی سربراہی میں آگے آگے پیش نظر آرہے تھے اور جب کوئی میڈیا ٹیم کے لوگ کوریج کے لئے آگے آتے تو ان کا جوش و خروش بڑھ جاتا تھا کہ ان سے زیاہ مخلص اور ہمدرد مزدوروں کا کوئی اور نہیں ہو سکتا جس سے واضح طورپر ان کی مادہ پرستی بھی نظر آرہی ہوتی اللہ اللہ کرکے ریلیاں ہمارے راستے سے گزر یں تو ایک بار پھر آگے کی جانب روانہ ہو گئے۔ ابھی کچھ دیر ہی چلے تھے کہ فٹ پاتھ پرکچھ مزدور اوزار اپنے سامنے رکھے نظر آئے اور میں ایک مرتبہ پھر یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ آج تو ’’یوم مئی ‘‘ یعنی ’’مزدوروں کا عالمی ‘‘دن ہے اس کہ باوجود بے چارے یہ مزدور اپنے پیٹ کی آگ بھرنے کے لئے یہاں چھٹی کے دن بھی رزق حلال کی متلاشی ہیں جب کہ یہ دن تو منسوب ہی ان سے ہے اور پھر میں نے یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ان بچارے مزدوروں کی چھٹی کب ہو سکتی ہے یہ تو وہ پسا ہوا مظلوم طبقہ ہے جو یومیہ بنیادوں پر ہی اپنے پیٹ کا ایندھن بھرنے کا سامان کرتا ہے چھٹی جیسی عیاشی کا تو یہ تصور بھی نہیں کر سکتے اور شائد اسی وجہ سے یہ لوگ عیداور دیگر تہواروں کے مواقعوں پر بھی یقینامحنت مزدوری ہی کرتے نظر آتے ہوں گے۔
ساحل پر بھی میلے کچیلے کپڑوں میں ہاتھ پھیلائے کم سن بچے اپنے ارد گرد نظر آئے اور کسی نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی اسی طرح سارا دن گزر گیا سر شام گھر روانہ ہوئے نہادھو کر فریش ہو کر میں اپنے کمر ے میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا تو ہر چینل سے یکم مئی اورمزدوروں کے عالمی دن کے حوالے اوران سے اظہار یک جہتی کے لئے دنیا بھر کی طرح ہمارے وطن عزیز میں بھی بڑے بڑے مذاکرے ،کانفرنسز اور سیمینارز کے انعقادکی خبریںنشر کی جا رہی تھیں اور ان پر ہونے والے معاشرتی ظلم و ستم کے چرچے آج کے دن زبان زد عام ہورہے تھے اور ہر سوپھیلی ہوئی معاشی بد حالی ،بے روزگاری اورہر جا ڈیرے ڈالے مہنگائی پر ان کی یومیہ اجرت کو تنقیدی انداز سے دیکھا جا رہا تھا او ر آج کے دن نا کافی اجرت دینے والے آجیروں پر سخت لعن طعن کرکے ان کی بھر پور مذمت کرکے اس سالانہ تقریب میں شریک ہر فرد اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو تا نظر آرہا تھا مگر اس وقت اگر چہ میری نگاہ ٹی وی پر تھی مگر میری ساری توجہ آج صبح اخبار میںشائع ہوئی وہ خبر جس میں ایک ماں نے بھوک سے بد حال اپنے تینوںکو بچوں کی جان لے لی اور ’’یوم مئی ‘‘ کے موقع پر رزق کی تلاش میں بھٹکتے فٹ پاتھ پر بیٹھے مزدوروں پر مرکوز ہوگئی اور میں ٹی وی پر بڑے شو روزور سے مزدور رہ نمائوں ، کامریڈز اور نام نہاد سماجی تنظیموں کو تقاریر کرتے دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ سب ہمارے معاشرے کے وہ کردار ہیں جو محض اس قسم کے ایونٹس پر اپنی سیاسی اور سماجی دکانیں چمکا کر اگلے روز آئندہ آنے والے کسی ایسے ہی دن کے انتظار میں اپنے پرچار اور نمود کی منصوبہ بندی کررہے ہوتے ہیں جب کہ ہونا تویہ چاہئے تھا کہ ان کی جانب سے عملی طورپر اس طرح کے اقدامات کو یقینی بنایا جا نا چاہئے تھا کہ وہ ان مزدوروں کے نمائندہ بن کر ریاستی اداروں میں جا کر ان کی داد رسی اور ان کے جینے اور معاشرے میں مقام دلانے کی ہر ممکن کوشش کرتے مگر وہ سب تو محض موقع محل ہی پر ہونا ہوتا ہے چاہے روز انہ کا اخبار اسی طرح کی درد اور اذیت ناک معاشرے کے سفاکانہ رویوں کی نشاندہی کرتے رہے کسی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیوں کہ شام کوٹی وی چینلز اوراگلے روز مقامی و غیر مقامی اخبارات میں ان تقاریب کااحوال شائع کروا کے اپنے اپنے حصے کی داد ، ستائش اور توصیف تو سمیٹ کر تقویت تو حاصل کر ہی چکے ہوں گے اور پھر میں نے خود اپنا بھی محاسبہ کیا کہ پروردگار نے ہمیں بہت کچھ نوازا ہے ہمیں بھوک کا احساس تک نہیں بلکہ بھوک کے مفہوم سے بھی غیر مانوس ہیں ہم محض فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر سسکتی انسانیت دیکھ کر اپنا منہ دوسری جانب کرکے حقیقت سے آنکھیں چرا لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بھوک تہذیب کے آداب بھی بھلا دیتی ہے اور ماں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کا گلا گھونٹ کرخود کوپریشانیوں اور تکالیف سے گلوخلاصی کروالیتی ہے اوربعدازاں انسان اپنی جائز ضروریات کی تکمیل کے لئے بھی انتہا پسندی اور جرائم کی جانب بھی گامزن ہو جاتا ہے تو اس لئے اہل شعور کو سوچنا ہوگا کہ بھوک اور مفلسی میں جکڑی عوام کی داد رسی محض الفاظ کی صورت میں ان ’’ عالمی دنوں ‘‘ میں نہیں بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر کی جائے۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

’’دیس میں نکلا ہوگا چاند…!! ‘‘

پردیس میں عید گزرانے والوں کے حوالے سے ایک خاص تحریر ’’دیس میں نکلا ہوگا ...