بنیادی صفحہ » کالم و مضامین » ڈی جی ‘ آئی ایس پی آر ‘ کی پریس کانفرنس کے امور و مسائل!

ڈی جی ‘ آئی ایس پی آر ‘ کی پریس کانفرنس کے امور و مسائل!

ڈی جی ‘ آئی ایس پی آر ‘ کی پریس کانفرنس کے امور و مسائل!
آرٹیکل..
منصور احمد.

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ” آئی ایس پی آر” کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کی ۔انہوں نے ملک کی سیکورٹی کی مجموعی صورتحال سے،مسلہ کشمیر، انڈیا سے حالیہ کشیدگی ، ملکی سیکورٹی صورتحال ،آپریشن رد الفساد پر ہونے والی پیش رفت اور اس کے علاوہ ‘ پی ٹی ایم ‘ کے امور پر بات کی اور کہا کہ ”ملکی سیکورٹی صورتحال کا تھوڑا سا ہسٹاریکل کنٹکس دوں گا کیونکہ کنٹیک چیزوں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے”۔

میجر جنرل آصف غفور نے ہندوستان کی طرف سے فروری کے آخری ہفتے ہونے والے حملے اور اس کے بعد پاکستان کے جوابی حملوں،2بھارتی طیاروں کو تباہ اور ایک پائلٹ کو گرفتار کئے جانے اور ہندوستان کی طرف سے جھوٹ پر مبنی سرکاری بیانات دیئے جانے سے بات شروع کی۔انہوں نے کہا کہ انڈیا سے متعلق اتنی ہی بات کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہماراامتحان لینے کی کوشش نہ کرے ،اگر کوئی ایسا وقت آیا تو افواج پاکستان دو سو سات ملین پاکستانیوں کی سپورٹ سے بھر پور دفاع کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ1971نہیں ہے،نہ وہ فوج ہے نہ وہ حالات ہیں ۔

ڈی جی ‘آئی ایس پی آر’ نے کہا کہ ”جب ہمیں آزادی ملی تو کشمیر کا مسئلہ ہمارے ساتھ آیا،اب ہمارا لنک اس کی آئیڈیا لوجی کے ساتھ ہے،اسلام کے ساتھ ہے،کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف ہے،ہمارا بچہ جب سکول جاتا ہے یا اپنے والدین سے بات کرتا ہے،اپنے گرینڈ پیرنٹس سے بات کرتا ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ کتنی مشکل سے پاکستان بنا اور کس طریقے سے کشمیر متنازعہ بن گیا،کشمیر کے لئے ،کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے،کشمیر کے جو ہمارے کشمیری بھائی ہیں،ان کی آسانیوں کے لئے ،ان کی آزادی کے لئے،ہماری رگوں میں جو ہے ان کے لئے سپورٹ شامل ہے،تو ایک آپ کی آئیڈیالوجی کے ساتھ لنک کرتے ہوئے ہر وقت پاکستانی جو ہے وہ کشمیر کے لئے جنگ کرنے کو تیار ہے،تو ان کے ذہن میں ہے کہ کشمیر کو ہم نے آزاد کرانا ہے اور اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑا ہم کریں گے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ48کی وار ہوئی،65کی ہوئی پھر71کی ہوئی،99کی بھی ، ایک continusسٹرگل ہے’ فار سپورٹ ٹو کشمیریز’ تاکہ ان کو اپنا حق مل جائے”۔

اس کے بعد انہوں نے پاکستان کی سیکورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کئے جانے والی کاروائیوں اور اقدامات کا تذکرہ کیا۔ملکی سیکورٹی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے بعض تنظیموں اور دینی مدارس کے حوالے سے بھی بہتری کے اقدامات کی بات کی۔
میجر جنرل آصف غفورنے تقریبا چالیس منٹ دوسرے موضوعات کے بعد آخر میں ‘ پی ٹی ایم’ کے بارے میں تفصیل سے بات کی او ر افغانستان اور ہندوستان سے پیسے لینے سمیت ‘ایم ٹی ایم’ سے متعلق کئی سوالات بھی دریافت کئے۔چند ہی صحافیوں کو سوال کرنے کا موقع ملا ۔صحافیوں کی طرف سے سوالات سے پہلے کی جانے والی شکر گزاری اور تابعداری بھی نمایاں رہی۔

بلا شبہ جب ملکی دفاع اور بالخصوص ہندوستان کی بات ہو تو ملک میں اتفاق رائے مشترکہ مفاد میں ناگزیر ہو جاتا ہے۔اس پریس کانفرنس سے اس ضرورت کا اعادہ محسوس ہوتا ہے کہ ڈی جی ‘آئی ایس پی آر ‘ کی طرف سے پریس کانفرنس میں مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی بات کی جاتی ہے ، بہتر اور مفید ہو سکتا ہے کہ اگر ٹی وی اینکرز اور اخبارات و نیوز ایجنسیوں کے نمائندگان کے علاوہ بھی متعلقہ دانشور صحافیوں کے ساتھ ڈائیلاگ کا اہتما م کیا جاسکے۔اور ملک کو درپیش سنگین امور و مسائل پر محض حکومتی/سرکاری/فوجی اقدامات پر بریفنگ کے بجائے ڈائیلاگ کا عمل ہو تا کہ دونوں طرف سے کچھ سمجھا جا سکے اور کچھ اتفاق سامنے آ سکے۔

ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ” کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے”۔ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں صورتحال یہ ہے کہ مودی حکومت کشمیریوں کے خلاف سخت ترین کاروائیوں کے منشور کے ساتھ الیکشن لڑ رہی ہے اور مزید ایک لاکھ فوج کشمیر میں بھیجتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں سخت ترین فوجی کاروائیوں کے سلسلے میں تیزی لائی ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جا رہی ہے، آزادی پسند رہنمائوں ،کارکنوں کے خلاف تحقیقات،قید اور مزید مقدمات کی کاروائیاں کی جارہی ہیں۔آبادیوں کے گھیرائو،تلاشی،تشدد اور نہتے کشمیریوں کی ہلاکتوں کے فوجی آپریشن بھی تیز تر ہیں۔فوجی قافلوں کو کشمیری فریڈم فائٹرز کے حملے سے بچانے کے لئے متعلقہ علاقے کے لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پا استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی اس بدترین صورتحال میں پاکستان کی طرف سے سرگرم سفارتی مہم وقت کا تقاضہ تو ہے ہی لیکن عملی طور پر پاکستان کی طرف سے کشمیر پر دفاعی انداز اور قدم پیچھے ہٹانے کا ہی منظر نامہ عالمی برادری کے علاوہ پاکستانی عوام ہی نہیں کشمیری بھی دیکھ رہے ہیں۔سابق حکمران جنرل پرویز مشرف کے بھی اسی طرح کے الفاظ ہوتے تھے کہ ” کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے ” لیکن عملی طور پر صدر جنرل پرویز مشرف نے آزاد کشمیر میں کشمیری فریڈم فائٹر کے کیمپ بند کئے ۔ چلو کشمیر پر چند قدم پیچھے ہٹایا جانا ایک سابق حکومت کا اقدام تھا،لیکن اب آزاد کشمیر میں کشمیری فریڈم فائٹر تنظیموں کے دفاتر کو بھی تالے لگا کر انہیں بند کر دیا گیا ہے۔

کیا یہ اقدام بھی کشمیر کاز سے چند قدم پیچھے ہٹنے کے مترادف نہیں؟ کشمیر کاز کے حوالے سے پاکستان کی کمزور ی پر مبنی پالیسی گزشتہ کئی حکومتوں سے لے کر اب تک نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور کشمیری اس صورتحال پر حیران و پریشان ہیں اور خود کو ظالم بھارت کے سامنے تنہا محسوس کررہے ہیں۔پاکستان کے نزدیک شاید ہی نہیں بلکہ یقیناکشمیر کاز سے متعلق خامیوں ،خرابیوں کے تدارک اور اصلاح احوال سے متعلق بات کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔کشمیری عقل و دانش پاکستان کی طرف سے کشمیر کاز پر مرحلہ وار قدم بقدم پیچھے ہٹنے اور نظر انداز کئے جانے پر حیران اور پریشان ہی نہیں بلکہ نالاں بھی ہیں۔

تعارف: Admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

’’دیس میں نکلا ہوگا چاند…!! ‘‘

پردیس میں عید گزرانے والوں کے حوالے سے ایک خاص تحریر ’’دیس میں نکلا ہوگا ...