بنیادی صفحہ » شعر و سخن

شعر و سخن

وہ مسافر جو کُو بہ کُو نکلے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل وہ مسافر جو کُو بہ کُو نکلے لے کے بس تیری آرزو نکلے اہلِ دل یوں بھی چار سُو نکلے لے کے ہاتھوں پہ آبرو نکلے مجھ پہ سچائی منکشف تو ہو میری آنکھوں سے بھی لہو نکلے کوئی صورت تو دل کی صورت ہو کوئی چہرہ تو رُو برو نکلے دل کہیں تو سُکون ...

مزید پڑھیں »

ترے خیال نے مہکا دیا مجھے ورنہ

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل کسی کے حُسنِ تغافل کی رُونمائی تھی دل و نگاہ پہ وحشت عجیب چھائی تھی ترے خیال نے مہکا دیا مجھے ورنہ مرے وُجود کے آنگن میں کتنی کائی تھی وہ دن بھی تھے کہ ترے ہر طرف تھے جلوے عیاں جِدھر جِدھر بھی نگاہِ طلب اُٹھائی تھی کواڑ کھول کے رکھّے تھے جس کی ...

مزید پڑھیں »

کیسے دیکھوں میں بے کلی تیری

غزل کیسے دیکھوں میں بے کلی تیری جاں سے پیاری مجھے ہنسی تیری پھول شبنم میں تازگی تجھ سے چاند تاروں میں روشنی تیری عشق میں بے وفا کے اے یارا ہوگئی کیا یہ زندگی تیری جان لیوا ہے یار سن لے تو دوستی اور دشمنی تیری. ضد نہ کر مان جا اے جانِ جاں مار ڈالے گی بے رخی ...

مزید پڑھیں »

شکن شکن جو مہکنے لگی ہے بستر کی: یہ اُس کے لمس کا،اُس گل بدن کا جادو ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل کسی گلاب نہ صحنِ چمن کا جادو ہے یہ رنگ و بُو تو ترے پیرہن کا جادو ہے اثر پذیر اگرچہ ہے شاعری اب بھی مرے ہنر کا،یہ میرے سخن کا جادو ہے کبھی نہ جائے یہاں سے جو ایک بار آ جائے کچھ ایسا جادو تری انجمن کا جادو ہے شکن شکن جو مہکنے ...

مزید پڑھیں »

مجھے کسی نے پُکارا نہ راکھ ہوتے ہوئے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل ترے یقیں پہ یوں منظر اُجال سکتا تھا چراغِ شب کو میں سورج میں ڈھال سکتا تھا مجھے کسی نے پُکارا نہ راکھ ہوتے ہوئے وگرنہ گردشِ دوراں میں ٹال سکتا تھا وہاں بھی ضبط کا دامن نہ ہاتھ سے چھوڑا غبار، دل کا جہاں میں نکال سکتا تھا کسی کا قُرب میسّر تھا جن ...

مزید پڑھیں »

فرحت~ نے ترا پیار بڑے چاؤ سے پالا

فرزانہ فرحت لندن ہو جائے مزہ میری محبت کا دو بالا پہناؤ مجھے آکے کوئی پیار کی مالا مدت سے ترستی ہوں میں دیدار کی خاطر چاہت کو بھی الفاظ میں تم نے نہیں ڈھالا میں راہ۔ محبت میں وفا بن کے چلی ہوں اک زخم میں ڈھلنے لگا ہر پاؤں کا چھالا شیریں ترا لہجہ ہے تو شیریں ترے ...

مزید پڑھیں »

مجھے بتا کہ اِرادے ترے کہاں تک ہیں

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل مری وفا کے تقاضے تو قلب و جاں تک ہیں مجھے بتا کہ اِرادے ترے کہاں تک ہیں یہ اور بات جَڑیں اپنی خاکداں تک ہیں ہماری سوچ کی شاخیں تو آسماں تک ہیں تری تلاش میں مت پُوچھ ہم کہاں تک ہیں سفر کے سلسلے اپنے تو آسماں تک ہیں ہمارے بعد خدا جانے ...

مزید پڑھیں »

مرے لبوں پہ ترا مدعا ابھی تک ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل زمانہ مائلِ جَور و جفا ابھی تک ہے مرے لبوں پہ ترا مدعا ابھی تک ہے کبھی جلایا تھا بامِ طلب پہ اِک چراغ مرے خلاف جہاں کی ہَوا ابھی تک ہے وہ ایک لمحہ جو اُترا تھا تیری فُرقت کا ستم شعار سُکوں آزما ابھی تک ہے درِ قُبول پہ تالے پڑے زمانہ ہُوا ...

مزید پڑھیں »

ابھی تو میں نے تری کوئی آرزو نہیں کی ..ابھی تو میں ترے نام و نشاں بناتا ہوں

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل الگ جہاں سے زمین و زماں بناتا ہوں میں لامکاں میں اُتر کر مکاں بناتا ہوں ابھی تو میں نے تری کوئی آرزو نہیں کی ابھی تو میں ترے نام و نشاں بناتا ہوں یہاں تو روشنی کچھ کام آنے والی نہیں دُھواں دُھواں ہے فضا تو دُھواں بناتا ہوں میں اُس کے دستِ عطا ...

مزید پڑھیں »

وہ بھی دن تھے کہ بہت خوش تھا اسیری میں یہ دل یہ بھی دن ہیں کہ ترے غم سے رِہائی مانگے

غزل دل مرا جس کے لیے نغمہ سرائی مانگے مجھ سے وہ شخص محبت میں خدائی مانگے दिल मेरा जिसके के लिए नगमा सराई मांगे। मुझसे वह शख्स मोहब्बत में खुदाई मांगे।। ایک پَل اُس سے بچھڑنا میں گوارا نہ کروں عمر بھر کے لیے جو مجھ سے جُدائی مانگے एक पल उससे बिछड़ना मैं गवारा न करूं। उम्र भर ...

مزید پڑھیں »

قسم ہے آپ کی یاں نقدِ جاں تک بات آپہنچی

سیّد کامران زبیر کامیؔ جنونِ عشق میں سوزِ نِہاں تک بات آپہنچی قسم ہے آپ کی یاں نقدِ جاں تک بات آپہنچی وہ اکثر دیکھتے ہیں بادلِ ناخواستہ مجھ کو نصیبِ دشمناں یارو! یہاں تک بات آپہنچی نہیں الفت رہی اُن کو مرے ٹوٹے ہوئے دل سے بیاں کیا کیجئے زخمِ زیاں تک بات آپہنچی سجا رکھی ہے اک تصویر ...

مزید پڑھیں »

اے یار بس آکے سماجا مرے دل میں

غزل حسرت مرے دل میں ہے تمنّا مرے دل میں اے یار بس آکے سماجا مرے دل میں کچھ عشق بُتوں کا ہے تو کچھ خوف خدا کا دُنیا مری آنکھوں میں عُقبیٰ مرے دل میں آجائیے منہ کُھل گیا ناسورِ جگر کا ہے آپ کے آنے کا یہ رستہ مرے دل میں کرتاہُوں سدا،سیر عرب اور عجم کی گُلشن ...

مزید پڑھیں »

دل پہ سجتا ہے عشق…

دل پہ سجتا ہے عشق… … اور عشق پہ جنوں کا سفر جچتا ہے…. جنوں پہ سجتی ہیں لگامیں… اور لگاموں پہ ہنر جچتا ہے… ہنر مندی پہ سجتے ہیں ہاتھ سجانے والے… اور سجانے والے پہ خرد مند کا بحر جچتا ہے… عشق بے مول کہاں بکتا ہے… جہاں قیمت ہو وہاں جچتا ہے… اسکی قیمت ہے وجود کا ...

مزید پڑھیں »

یہ معجزہ بھی تیرے حسن لالہ فام کا تھا

یہ معجزہ بھی تیرے حسن لالہ فام کا تھا "کہ سارے شہر میں چرچا ترے ھی نام کا تھا” نظر جھکا کے ہمیشہ ملا حسینوں سے کہ یہ تقاضا حسینوں کے احترام کا تھا غم جہان سے بیگانہ کر دیا دل کو بڑا عجیب نشہ اس نظر کے جام کا تھا ذرا سی بات پکڑ کر کہانیاں گھڑنا عجب مزاج ...

مزید پڑھیں »

جو گھر کی چیز ہے گھر میں رہے تو اچھا ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل ہمیشہ اپنی نظر میں رہے تو اچھا ہے جو گھر کی چیز ہے گھر میں رہے تو اچھا ہے غمِ جہاں بھی ترے غم کے ساتھ ساتھ چلے نظر کا شوق سفر میں رہے تو اچھا ہے دیا ہے مشورہ اِس بار مجھ کو دریا نے ترا سفینہ بھنور میں رہے تو اچھا ہے بِچھے ...

مزید پڑھیں »

آنسو میں عکسِ ہجر دکھایا گیا مجھے

سیّد کامران زبیر کامیؔ قصّہ شکستِ دل کا سنایا گیا مجھے آنسو میں عکسِ ہجر دکھایا گیا مجھے پھر گِر پڑے گا فرش پہ خیمہ وجود کا گر چارہ ساز ہوش میں لایا گیا مجھے اُف اِلتِماسِ وصل کی مشکل مسافتیں تکمیلِ آرزو میں رلایا گیا مجھے مرہونِ اِلتِفاتِ فراوانئ ستم آشُفتہ حال دشت میں لایا گیا مجھے! سوزِ غمِ ...

مزید پڑھیں »