بنیادی صفحہ » شعر و سخن

شعر و سخن

اگرچہ پامال ہو گئے ہیں غمِ فراواں سے لوگ ساقی

اگرچہ پامال ہو گئے ہیں غمِ فراواں سے لوگ ساقی اُٹھیں گے محشر بدُوش اک دن ،یہی پریشاں سے لوگ ساقی کوئی اِنہیں رائگاں نہ سمجھے ،اِنہی سے رونق ہے گُلستاں کی یہ غنچہ ہائے بدن دَریدہ ،یہ چاک داماں سےلوگ ساقی تسلُّطِ اہلِ جور و باطل ،یہ ذہن اُن کے فساد مائل یہ زندگی کے کٹھن مسائل ،یہ دلفگاراں ...

مزید پڑھیں »

بَلا کی دُھوپ میں اپنے بدن کے سائے کو اگر گھٹا نہ اُٹھی تو شجر کروں گا میں

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل فصیلِ جبر گراؤں گا در کروں گا میں وہ لاکھ سنگ سہی، دل میں گھر کروں گا میں بَلا کی دُھوپ میں اپنے بدن کے سائے کو اگر گھٹا نہ اُٹھی تو شجر کروں گا میں جلا کے اپنا لہو شام کے چراغوں میں شبِ الم نہ ڈھلی تو سحر کروں گا میں یہ عشق ...

مزید پڑھیں »

اے عشق ترے در پہ میں حیران کھڑی ہوں

غزل آنکھوں میں لئے درد کا طوفان کھڑی ہوں اے عشق ترے در پہ میں حیران کھڑی ہوں ان تیز ہواؤں میں گِھرا میرا نشیمن خوابوں کا جہاں لے کے ،میں ویران کھڑی ہوں یہ زخم ھیں کیسے نہیں جن کا کوئی مرہم چاہت کا لئے پھر بھی میں عنوان کھڑی ہوں اک خواب کے تاوان میں آنکھوں کو گنوایا۔۔ ...

مزید پڑھیں »

وہ نہیں ہے میاں تو دُنیا بھی : اب کہاں درمیاں ہوتی ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل جب محبت جوان ہوتی ہے زندگی مہربان ہوتی ہے جب وہ آتا نہیں نظر مجھ کو کتنی مشکل میں جان ہوتی ہے وہ نہیں ہے میاں تو دُنیا بھی اب کہاں درمیاں ہوتی ہے راہِ اُلفت میں آدمی کی اُڑان صورتِ آسمان ہوتی ہے اِس ترے انتظار کی ہم سے کب بیاں داستان ہوتی ہے ...

مزید پڑھیں »

اردو شاعری کی صنف نظم

اردو شاعری کی صنف نظم تحقیق و تحریر احمد منیب لاہور پاکستان ادب اردو ادب کی دو اصناف ہیں، نثر نظم یعنی اردو شاعری۔ اقسام شاعری اقسام شاعری میں نظم، غزل، مثنوی، قصیدہ، مرثیہ، رباعی، مخمس، مسدس، مثمن، قطعہ، حمد اور نعت شامل ہیں۔ نظم گو غزل ہر خاص و عام میں زیادہ مقبول اور ستائش پاتی ہے لیکن سب ...

مزید پڑھیں »

ارے لوگو شرافت کا یہاں سکہ نہیں چلتا

ارے لوگو شرافت کا یہاں سکہ نہیں چلتا یہ سنسد ہے صداقت کا یہاں سکہ نہیں چلتا خوشامد کرنے والوں کو یہاں انعام ملتا ہے سخنور کی لیاقت کا یہاں سکہ نہیں چلتا میاں آ ئے ہو تو سن لو ادب سے گفتگو کر نا یہ مکتب ہے جہالت کا یہاں سکہ نہیں چلتا یہ دل والوں کی بستی ہے ...

مزید پڑھیں »

خامشی کے ساتھ مُجھ کو جب یہ دفنانے لگے . چیخ کر میں نے کہا ”میں ابھی تو زندہ ہوں“

ہر گھڑی ہر بات پرمیں ہی فقط شرمندہ ہوں! کیسا ہے یہ شہر؟ میں جس شہر کی باشندہ ہوں خامشی کے ساتھ مُجھ کو جب یہ دفنانے لگے چیخ کر میں نے کہا ”میں ابھی تو زندہ ہوں“ میں ہوں اک شمعِ فروزاں جو کبھی بُجھتی نہیں مُجھ میں ہے ہر آگہی اس واسطے تابندہ ہوں کتنی کوشش بھی کرے ...

مزید پڑھیں »

ایک انجان سفر پر نکلا

غزل ــــــــ ایک انجان سفر پر نکلا میں تری یاد پہن کر نکلا چوٹ کھا کھا کے دعائیں لوٹیں جس کو پوجا وہی پتھر نکلا پی گیا خون پسینہ میرا کتنا کم ظرف سمندر نکلا جب بھی نکلا وہ عیادت کو مری لے کے الفاظ کے خنجر نکلا میں تری دید کی حسرت اوڑھے جسم کی قید سے باہر نکلا ...

مزید پڑھیں »

لگ بھی سکتے ہیں کناروں پہ تُو پتوار نہ رکھ

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل لگ بھی سکتے ہیں کناروں پہ تُو پتوار نہ رکھ حوصلہ ہار کے سامان تو سالار نہ رکھ ٹوٹ سکتا ہے یہ زندان کا دروازہ کبھی باندھ کے ظُلم کی رسّی سے گرفتار نہ رکھ میل سینے کا اگر دھونا ضروری ٹھہرا یہ ضروری ہے بہت چشمِ گنہگار نہ رکھ اپنے دُشمن کو تُو اِس ...

مزید پڑھیں »

سوچوں میں سفر باپ کرتا ہے

معجزہ۔۔۔۔ایک نظم عامر افتخار مآعر۔۔فرینکفرٹ بچوں کی نگاہوں میں حسرتیں گھر بار کے خرچوں کی کثرتیں کام سے واپسی کی ڈگر سوچوں میں سفر باپ کرتا ہے خوش فہمی کے فیتے سے وہ کچھ خوابوں کا ناپ کرتا ہے کبھی فیتہ تو کبھی خواب ٹوٹتے ہیں اور پھر۔۔۔ کندھے ٹوٹتے ہیں باپ کو تاپ چڑھتا ہے کام ہے ،کمائ ہے،مگر ...

مزید پڑھیں »

غم کسی کازیبِ جاں تھا۔اب نہیں !

عالیجاہ! غم کسی کازیبِ جاں تھا۔اب نہیں ! کوئی مجھ پر مہرباں تھا۔ اب نہیں ! اک لہو سا جم گیا ہے آنکھ میں وہ جواک دریارواں تھا ۔اب نہیں ! سیدہ کوثر منور ( لندن )

مزید پڑھیں »

ہم وہ درویش تھے جو ایسے سرِ راہ ملے

ہم وہ درویش تھے جو ایسے سرِ راہ ملے جیسے کہ بادشہ سے ایک بادشاہ ملے نظر چرا کے محبت سے نکلا میں ہر بار جیسے مقروض کو رستے میں قرض خواہ ملے وہ پیار پیار میں جھگڑے بھی تو خدا کی پناہ پھر اس کے بعد ملے بھی تو، بے پناہ ملے شہرِ باذوق میں لوگوں کا معیار ایسا ...

مزید پڑھیں »

تمھیں بُھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے

شاعر : قیصر الجعفری غزل تمھارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چُرا لُوں اگر بُرا نہ لگے تمھارے بس میں اگر ہو تو بُھول جاؤ مجھے تمھیں بُھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے ہمارے پیار سے جلنے لگی ہے اِک دُنیا دُعا کرو کسی دُشمن کی بد دُعا نہ لگے وہ پھول جو مرے دامن سے ...

مزید پڑھیں »

ساتھ رہنا ہے ہمیشہ کہ جُدا ہونا ہے

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل ساتھ رہنا ہے ہمیشہ کہ جُدا ہونا ہے جو بھی ہونا ہے وہ قسمت کا لکھا ہونا ہے آخر آجائے گا دُنیا کی وہ باتوں میں کبھی آخر اِک روز اُسے مجھ سے خفا ہونا ہے مجھ کو معلوم ہے اِس لمحہءموجود کا دُکھ مجھ کو معلوم ہے آیندہ بھی کیا ہونا ہے اِس لیے ...

مزید پڑھیں »

دل کی اُجڑی ہوئی بستی بھی بسا دی گئی کیا

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل غزل رونقِ شامِ تمنّا بھی بڑھا دی گئی کیا دل کی اُجڑی ہوئی بستی بھی بسا دی گئی کیا کس لیے برگ و ثمر نوحہ کناں رہتے ہیں فاختہ پیڑ کی شاخوں سے اُڑا دی گئی کیا دل کی دھڑکن جو کسی پَل مرے قابو میں نہیں کوئی خواہش تری سینے میں جگا دی گئی کیا ...

مزید پڑھیں »

وصل کہتا تھا کہ تم جسم کا دکھاوا مانگو

وصل کہتا تھا کہ تم جسم کا دکھاوا مانگو یار کہتا تھا کہ کچھ اس کے علاوہ مانگو بات گھاٹے پہ نہ ہو ختم یہی کافی تھا کس نے بولا تھا محبت میں منافع مانگو عشق میں شدتیں لازم ہیں نبھاو ان کو ظرف میں اپنے مگر پہلے اضافہ مانگو یار کے در پہ بنا اذن کیوں جاتے ہو خوب ...

مزید پڑھیں »